روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر4)

نماز فجر کی باجماعت ادائیگی کے بعد اشرف صاحب نے چند لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں موند لیں انہیں آج کالج سے چھٹی تھی اس لیے اشراق اور چاشت کے نوافل وہ مسجد ہی میں ادا کرنا چاہتے تھے۔ مجھے سبق یاد ہو گیا ہے۔ اشرف صاحب نے آنکھیں کھول کر امام صاحب کے سامنے کھڑے بچے کی جانب دیکھا۔ اس کے چہرے پر معصومیت اور سنجیدگی کا ملا جلا تاثر تھا۔

کوشش اور محنت سے وہ سبق سنانے لگا۔ أَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيمًا فَئَاوَىٰ۔۔۔ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدَىٰ۔۔۔۔ وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَأَغۡنَىٰ - شاباش امام صاحب نے اس کی پشت تھپتھپائی۔ اب میرے پاس یہاں بیٹھ کر ترجمہ پڑھو۔۔۔ وہ پڑھنے لگا۔ .....کیا نہیں اس نے پایا آپ کو یتیم پھر اس نے ٹھکانہ فراہم کیا۔ اوراس نے پایا آپ کو راہ بھولا تو اس نے آپ کو ہدایت دی۔ اوراس نے پایا آپ کو تنگ دست تو اس نے غنی کردیا۔ اشرف صاحب نے محسوس کیا بچے کی آواز کانپ رہی تھی حالانکہ عربی پڑھتے ہوئے اس کی آواز میں اعتماد تھا۔ احمد بیٹے اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے پیارے نبیؐ کو مستقبل کی کامیابیوں کی خبر دیتے ہیں اور گزرے ہوئے واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ آپؐ یتیم تھے پھر اللہ تعالی نے آپ کو پناہ دی۔ آپؐ ناوقاقف ہدایت تھے۔ آپؐ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ آپ راہ حق کی تلاش میں تھے آپ کو وحی اور نبوت کے زریعے دین دیا۔ آپ مفلس تھے آپؐ کو مالی طور پر استحکام دیا۔ جو رب آپ کو یہاں تک لایا ہے وہ آگے منزل تک بھی پہنچائے گا۔
آپؐ یتیم تھے۔۔ اللہ نے آپؐ کو پناہ دی۔ احمد نے امام صاحب کی طرف دیکھا۔ جی ہاں۔۔۔ پہلے دادا پھر چچا کو کفیل بنایا۔ اللہ سب یتیموں کو پناہ دیتا ہے؟؟ وہ رک رک کر پوچھ رہا تھا۔
بالکل! اللہ سب کو پناہ دیتا ہے۔ آپ ناواقف راہ تھے۔ اللہ نے آپؐ کو راستہ دکھایا۔

اس نے مصحف پر انگلی رکھ کر ترجمہ دہرایا۔ آپؐ کون سی راہ سے ناواقف تھے جبکہ میں نے پڑھا ہے کہ نہ تو آپؐ شرک کرتے نہ شراب پیتے۔ آپؐ بےحیائی اور برائی کے سب ہی کاموں سے دور رہتے تھے امام صاحب۔ یہاں ناواقف راہ سے مراد دین حق کی تلاش ہے بیٹا،، دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ امام صاحب گویا ہوئے۔ تو جن کو راستوں کا پتہ نہ ہو اور وہ ان راستوں کو تلاشتے ہوں تو اللہ ان کو راستہ دکھاتا ہے؟؟ اس نے پر امید نگاہوں سے امام صاحب کی جانب دیکھا . جو ہدایت مانگتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے احمد بیٹے۔ امام صاحب نے اسے یقین دلایا۔ مفسلوں کو اللہ مالدار کرتا ہے؟؟؟ مالداری مال کی کثرت کا نام نہیں برخوردار اصل مالداری تو دل کا سکون ہے۔ مالداری تو یہ ہے کہ انسان کا دل غریبی میں صبر کرنے والا اور امیری میں شکر کرنے والا بن جائے۔ جو رب آپ کو یہاں تک لایا ہے وہ آگے منزل تک بھی پہنچائے گا۔ منزل کون سی امام صاحب؟؟ اس کے پاس سوال ہی سوال تھے۔ منزل ۔۔۔۔ تکمیل دین کی منزل بیٹا۔۔ وہ گویا ہوئے۔ دین تو کامل ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اب ہماری منزل کون سی ہے؟ اشرف صاحب مسکرا دئیے۔۔اپنی عمر سے بڑے بڑے سوال کرتا وہ انہیں بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔ امام صاحب جواب دے رہے تھے۔ دین کو کامل اپنانے کی منزل۔۔۔ دین کا پیغام عام کرنے کی منزل۔۔۔

اپنے گھر اور معاشرے میں موجود گمراہیوں کو ختم کر کے نظام حق کے نفاذ کی منزل اپنے رب کی رضا اور خوش نودی کی منزل برخوردار۔۔اب تم آیات مع ترجمہ یاد کرو۔۔۔ وہ اپنی نشست پر جا بیٹھا۔ یہ کون ہے امام صاحب؟ اشرف صاحب نے پسندیدگی سے پوچھا۔ یہ احمد ہے اشرف میاں۔۔ یتیم بچہ ہے چند دن پہلے اس کی والدہ حفظ کے لیے اسے داخل کرا کے گئی ہیں۔ ذہین ہے ماشاءاللہ اشرف صاحب نے رائے دی۔
زینب اپنی امی کے ہمراہ باغیچے میں موجود تھی۔ امی پھولوں کی کیاریوں میں گوڈی کر رہی تھیں جبکہ وہ سوکھے پتے اور کنکر وغیرہ ایک طرف جمع کر رہی تھی۔ آٶ زینب کام کے ساتھ ساتھ لفظی زنجیر کھیلتے ہیں۔ اس کی امی نے تجویز پیش کی۔ نہیں امی جی وہ کھیل کھیلتے ہیں آپ مجھے چند اشارے دیں میں شخصیت یا واقعہ بتاٶں گی۔ زینب نے اپنی فرمائش کر ڈالی۔ ٹھیک ہے۔۔ امی فورا ہی مان گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 2 )

وہ آئے تھے نخوت سے تکبر سے .. زمین کانپتی جاتی تھی ہاتھیوں کے لشکر سے .. بیت اللہ کو ڈھانا تھا۔ ..کلیساءِ یمن کو بسانا تھا۔ ..کہ بس ابابیلوں کا آنا تھا .. کنکر ساتھ لانا تھا۔ ..حکم الہی سے ہاتھی والے بھس بنتے جاتے تھے۔ ...قدرت کی جانب سے یہ اک اشارہ تھا ...کہ اب زمانے کے اندھیروں کو ..نور نبوتؐ سے جگمگانا تھا۔

ننھی زینب تو کھو گئی کہیں ... نام اس واقعے کا اس کو بتانا تھا۔ زینب کی امی نے مسکراتے ہوتے زینب کی ناک کھینچی۔۔
جی جی۔۔ زینب کو پتہ ہے۔۔۔ واقعہ فیل زینب نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔بالکل ٹھیک۔۔۔ باغیچے میں کام کے دوران امی جان نے اگلی پہیلی بیان کی۔

ایوان کسری کے چودہ کنگرے گر گئے ہیں۔ آتش کدہ فارس کے انگارے بجھ گئے ہیں۔ جو سچ پوچھو تو .... شان و شوکت روم و عجم ... اوج چین کے قصر ہائے فلک ..گر گئے ہیں
آتش کدہ ظلم میں کفر و شرک کے انگارے بجھ گئے ہیں۔
جی جی امی جان اس پہیلی میں آپؐ کی ولادت باسعادت کی طرف اشارہ ہے۔
سواری اس کی دبلی تھی ... نہ چلتی تھی نہ قافلے میں آگے بڑھتی تھی۔ ... سفر کی تکان ۔۔۔۔ اس پر مقصد سفر کی منزل بھی نہ ملتی تھی۔ ... چارو ناچار اک در یتیم کو جو اس نے اپنایا
برکتیں رحمتیں دامن اس کا بھر لایا۔ ... سواری اب سب سے آگے بڑھتی جاتی تھی۔ ... رحمتوں کی بارش اس پر برستی جاتی تھی۔ ...بی بی حلیمہ سعدیہ آپؐ کی رضاعی والدہ۔۔۔
زینب نے جوش سے جواب دیا۔ ... قتل و سفاکی گو ان کی میراث تھی۔ ... مگر تحریک اصلاح جو اٹھی ... وہ اپنی مثال آپ تھی۔...فریادِ مظلوم کوئی خالی نہ جائے
ظالم اب مکہ میں رہنے نہ پائے ... فضلیت والا اک معاہدہ طے پا گیا ..حبیب کبریاؐ بھی شامل تھے اس میں ... اور یہ معاہدہ . ان کی پسندیدگی کی سند پا گیا
عہد نبوت کا فرمان نبویؐ ہے یہ ..گر بلائے مجھے کوئی اس غرض کے لیے ..میں حاضر ہوں آج بھی ایسے عہد کے لیے
پیاری زینب کون سا معاہدہ یہ تھا ہوا .. جس کی قیمت سرخ اونٹوں سے تھی ماسوا۔۔۔
ہمممم امی جان ۔۔۔ معاہدہ حلف الفضول زینب نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔۔ شاباش امی جان خوش ہوئیں۔ اب مجھے انعام بھی ملنا چاہیے ناں امی جان۔۔۔ زینب نے لاڈ سے امی جان کو مخاطب کیا۔ کیوں نہیں جناب آپ کو انعام ملے گا۔ کیا بھلا۔۔ آج ہم مل کر آپ کی پھپھو کے گھر جائیں گے۔ سچ زینب نے خوشی سے پلکیں جھپکائیں۔ جی بالکل

دانیال کی نگاہوں کے سامنے بلند قامت پہاڑ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ صبح کی تازہ اور ٹھنڈی ہوا اس کے مضمحل اور مضطرب اعصاب کو گونا گوں سکوں بخش رہی تھی۔ وہ کل رات ہی شہر سے گاٶں اپنے چچا کی عیادت کے لیے آیا تھا۔ بلند قامت پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ گاٶں کیا ایک وادی تھی۔ یہاں معیار زندگی کچھ خاص نہ تھا مگر سادگی اور فطرت سے ہم آہنگی نے یہاں کے باشندوں میں زندگی کی کھٹنائیوں سے لڑنے کی توانائی خوب فراہم کر رکھی تھی۔ مسجد میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد وہ چچا کے گھر جانے کے بجائے چہل قدمی کی غرض سے مخالف سمت نکل آیا تھا کہ پہاڑ کی آسمان کو چھوتی بلندی نے اسے مبہوت کر دیا تھا۔ برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی پر طلوع ہوتے سورج کی کرنیں چمکنے لگی تھیں۔ ماحول کی طلمساتی خاموشی اور حسن نے اس کے دل کو رب کائنات کی جانب راغب کر دیا تھا۔۔ جلوہ طور کیسا ہوگا؟؟ حضرت موسیؑ کا دل رب کائنات کی تجلی کے ظہور پر بھلا کیسے دھڑکا ہو گا؟؟ اس کا دل عجیب و غریب کیفیات میں ڈوبنے ابھرنے لگا تھا۔ وہ دو قدم آگے بڑھا۔ پہاڑ کے پہلو میں بہنے والا چشمہ اتنا شفاف تھا کہ اسے لگا جیسے کوئی آئینہ بہہ رہا ہو۔ اس نے آگے بڑھ کر پانی کے اس بہتے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 5 )

دانیال۔۔۔ ایک بے روزگار نوجوان۔۔۔۔ بوڑھے باپ پر بوجھ ۔۔ اس خوبصورت ماحول میں یہ زہر آلود خیال ایک سانپ کی مانند اسے ڈنگ مار گیا تھا۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھا تھا۔
اے پہاڑوں اور جھرنوں کے خالق - اے غاروں اور چشموں کے خالق
یقیناً تو ہی سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ اس کا مضطرب دل قرار پانے کو اپنے خالق کی حمد و ثنا میں مشغول ہونے کی سعی کرنے لگا کہ اندر کا اضطراب باہر کے سکون پر غالب آنے لگا تھا۔
مومن اگر حرام نہیں کماتا تو کسی پر بوجھ بھی نہیں بنتا بلکہ وہ تو دوسروں کا بوجھ اٹھانے والا ہوتا ہے۔ دانیال بھائی دانیال بھائی اس کا چھوٹا چچا زاد بھائی بکریوں کو ہانکتا ہاتھ میں رومال ہلاتا اس کو آوازیں دیتا اس کی جانب آ رہا تھا۔ دانیال نے دیکھا وہ کمال مہارت سے بکریوں کو اکھٹا کر کے اسی کی سمت بڑھ رہا تھا گو کہ بکریاں ادھر سے ادھر ہونے کی مسلسل کوشش میں تھیں۔ آپ یہاں بیٹھے ہیں سب لوگ گھر پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے چچازاد زریاب نے اپنا رومال اس کی نگاہوں کے سامنے لہرایا۔ سفید رومال پر سرخ گلاب کی کلی کو بہت مہارت سے کاڑھا گیا تھا۔ دانیال نے زریاب کے کرتے پر نگاہ ڈالی۔ سفید کرتے کے گلے پر سیاہ دھاگے سے نہایت نفیس بیل کاڑھی گئی تھی۔ تمہارے کرتے اور رومال پر یہ کڑھائی کس نے کی ہے زریاب؟؟
امی اور باجی نے ۔۔۔۔ زریاب نے لاپرواہی سے جواب دیا۔

نیو اسٹائل بوتیک کی مینجر کے سامنے نگاہیں جھکائے دانیال کشیدہ کاری کے مختلف نمونے میز پر رکھ رہا تھا۔ گاٶں سے واپسی پر وہ اپنی چچی اور گاٶں کی دیگر خواتین کے کشیدہ کاری کے نمونے بیچنے کی غرض سے ساتھ لایا تھا۔ کامیابی کی صورت میں منافع کی تقسیم کے وعدہ کے ساتھ۔۔ آغاز میں وہ جتنا پرجوش تھا مختلف دکانداروں اور بوتیکس کے ہاتھوں مسترد ہونے کے بعد ہمت ہارنے لگا تھا۔ اس وقت بھی نیو اسٹائل بوتیک کی مینجر کا نخوت بھرا انداز نا امیدی کی جانب دھکیل رہا تھا۔ اس نے مینجر کو کنونس کرنے کے لیے کچھ کہنا چاہا کہ کمرے میں ایک سادہ مگر باوقار خاتون داخل ہوئیں۔ دیکھیں ام احمد یہ ایمبوراڈری۔۔۔ مجھے تو کچھ خاص نہیں لگی آپ انہیں ڈیل کریں مجھے ایک تقریب میں جانا ہے۔
ہیرے کی قدر یقیناً جوہری ہی کے پاس ہوتی ہے۔ ام احمد کو ہاتھ سے کی گئی نفیس کڑھائی چونکا گئی تھی۔ دیکھیے دانیال صاحب کڑھائی تو عمدہ ہے لیکن کپڑا،، دھاگہ اور ڈیزائن یہ ہمارے خریداروں کی پسند کے مطابق نہیں۔ اگر میرے مہیا کردہ کپڑے اور دھاگے پر آپ میری پسند کی کڑھائی کروا کر لائیں تو ڈیل کی جا سکتی ہے۔ پس پردہ حجاب ان کا سادہ اور باوقار لہجہ دانیال کے لیے گویا امید کی کرن تھا۔

جاری ہے۔