مشرق وسطیٰ میں اسلحہ بردار ڈرونز کون کون استعمال کر رہا ہے؟

سعودی عرب میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو پر کیے جانے والے حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے لیے دس ڈرون بھیجے گئے تھے۔

امریکہ اور سعودی عرب نے ڈرون سے حملے کی بات تسلیم کرتے ہوئے بیان بھی دیے۔

حال ہی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ’یو اے وی‘ یعنی انسانی مدد کے بغیر کام کرنے والے ڈرونز سے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ یہ حملہ آور ڈرونز کن ممالک کے پاس ہیں؟ اور اب تک کس نے ان ڈرونز کا حملوں کے لیے استعمال کیا ہے اور ٹیکنالوجی میں پیچھے ہونے کے باوجود ان میں سے چند ممالک میں ڈرونز بنانے کی دوڑ کیوں لگی ہوئی ہے۔


جنگ کا نیا ہتھیار
پہلی مرتبہ حملہ آور ڈرون کا استعمال افغان جنگ کے دوران طالبان کے قافلے پر کیا گیا تھا۔ یہ بات اکتوبر سنہ 2011 کی ہے۔

ابتدائی دنوں میں حملہ آور ڈرون اسرائیل اور امریکہ جیسے ایسے چند ممالک کے پاس تھا جنہیں ٹیکنالوجی کے معاملے میں ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے۔

جلد ہی، ہتھیار بیچنے کی دوڑ میں چین سامنے آیا جو دنیا بھر میں اپنے ہتھیاروں کی فروخت کا خواہشمند ہے۔

چین نے اپنے فوجی ڈرونز کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بیچنا شروع کیا اور آج چین تقریباً آدھا درجن ممالک کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

چین کی یو اے وی ٹیکنالوجی بھی ماضی سے بہتر ہو چکی ہے اور عام ڈرون کی ٹیکنالوجی میں تبدیلی کر کے اسے جنگی ڈرون میں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

معقول صنعتی قابلیت کے ساتھ کوئی بھی ملک جدید ترین یو اے وی بنا سکتا ہے۔

اس کی سب سے اچھی مثال ایران ہے، جس نے ڈرون کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو یمن کے حوثی باغیوں کے ہاتھوں میں سونپنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


کس ملک کے پاس کیا ہے
مشرق وسطیٰ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی مضبوطی کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ، برطانیہ اور روس جیسے ترقی یافتہ ممالک کی طرف امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اس لیے مشرق وسطیٰ میں ڈرون سپلائی کرنے کے لیے مقابلہ سخت ہے۔

لیکن جہاں ایک جانب ان کے خریدار اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک ہیں وہیں دوسری جانب ایران، اس کے حامی اور حزب اللہ اور حوثی باغی بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان مفاہمتی عمل کے لیے بامقصد رابطوں کا دوبارہ آغاز؟ قادر خان یوسف زئی

امریکہ
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں القائدہ اور خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف اپنے مشن میں ڈرون کا بھرپور استعمال کیا۔

اس نے شام، عراق، لیبیا اور یمن میں ’پریڈیٹر‘ اور ’ریپر‘ جیسے ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔

پریڈیٹڑ ڈرون سے زیادہ بڑا، بھاری اور کہیں زیادہ طاقتور ایم کیو 9 ریپر ڈرون ہے، جو زیادہ بڑے ہتھیاروں کو لمبے فاصلے تک لے جا سکتا ہے۔

امریکہ کے فوجی حلیف برطانیہ نے امریکہ سے متعدد ریپر خریدے اور ان کا استعمال عراق اور شام میں کیا۔

اسرائیل
ڈرون ٹیکنالوجی کی فروخت کے معاملے میں اسرائیل کافی آگے ہے۔ سنہ 2018 کی ایک ریسرچ کے مطابق ہتھیار والے ڈرونز کی فروخت کے عالمی بازار میں 60 فیصد تک اسرائیل کا اثر و رسوخ ہے۔

دیگر ممالک کے علاوہ اس نے نگرانی کرنے والے ڈرون روس کو بھی بیچے ہیں۔ ان میں سے کم از کم ایک اس نے تب مار گرایا تھا جب شام کی سرحد سے مبینہ طور پر وہ اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسرائیل خفیہ معلومات اکٹھی کرنے، نگرانی کرنے اور حملوں کے مشنز کو انجام دینے کے لیے مختلف طرح کے ڈرونز کا استعمال کرتا ہے۔

اس کے مسلح ڈرونز میں ٹی پی، ہرمس 450 اور ہرمس 900 شامل ہیں۔ حالانکہ اب تک اسرائیل ان مسلح ڈرونز کی برآمد کے لیے تیار نہیں ہوا۔


ایران
ہتھیار بنانے پر پابندیوں کے باوجود ایران بہتر مسلح ڈرونز بنانےکی اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔

سنہ 2012 میں اس نے شاہد 129 کے بارے میں معلومات دی تھیں جس کا شام اور عراق میں استعمال کیا گیا تھا۔ جبکہ سنہ 2018 سے وہ مہاجر 6 نام کا ڈرون بنا رہا تھا۔

ایران کے ڈرون پروگرام کا ایک دوسرا زاویہ بھی ہے۔ وہ اسے اپنے علاقے کے دوسرے حامیوں کو بیچنے کا خواہشمند بھی ہے۔

دیگر ممالک
متحدہ عرب امارات نے چین میں بننے والے ونگ لونگ 1 ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ اسے اس نے یمن اور لیبیا کی خانہ جنگی میں اہداف کو مٹانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

لیبیا کے جنرل حفتار کی متحدہ عرب امارات حمایت کرتا ہے۔ لیبیا میں حکومت کی حمایت میں ترکی میں بننے والے ڈرون استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   سی پیک سے جڑی معاشی ترقی - محمد عنصر عثمانی

امریکی ڈرونز کو خریدنے میں ناکام ترکی نے اپنے ڈرونز بنائے اور ان کا استعمال اس نے ترک اور شامی کرد اہداف پر کیا۔

وہیں عراق، اردن، سعودی عرب، مصر اور الجیریا جیسے ممالک نے چین میں بڑے ڈرونز خریدے ہیں۔

ڈرون شدت پسند گروہوں کے ہاتھوں میں

اسٹیبلشمنٹ مخالف طاقتوں میں بغیر انسانی مدد کے چلنے والے ڈرونز کا سب سے مؤثر استعمال حوثی باغی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق وہ کئی ایسے نظام استعمال کرتے ہیں جو ایرانی ٹیکنالوجی پر بہت انحصار کرتے ہیں۔

حوثی باغیوں نے کیوسیف 1 کا استعمال کیا جو اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق بہت حد تک ایرانی ماڈل جیسا ہے۔


یہ وہ ’کامیکیز ڈرونز‘ ہیں جنہیں ہدف سے جان بوجھ کر ٹکرایا گیا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حوثی باغی ایک اور ڈرون کا استعمال بھی کرتے ہیں۔

یہ تصور کیا جاتا ہے کہ شدت پسند تنظیم حزب اللہ نے کم تعداد میں ڈرونز استعمال کیے ہیں۔ لیکن ایسا خیال ہے کہ یہ ڈرون انھیں ایران سے ملے تھے۔

شام کی جنگ میں پہلی بار ڈرون کے اس طرح استمعال کیا گیا تھا اور باغیوں نے شام میں قائم روسی فوجی ٹھکانوں پر ڈرون سے حملے کیے تھے۔

اب مستقبل میں کیا ہوگا؟
اسلحہ بردار ڈرون کی ٹیکنالوجی کا اب بڑی سطح پر استعمال ہو رہا ہے۔

تضاد یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی والے ڈرونز کو اپنے حامیوں کو بھی نہ بیچنے کی پالیسی نے ڈرونز کے استعمال میں اضافے کے امکانات کو ختم نہیں کیا کیونکہ چین نے بہت حد تک اس کے مقابل ٹیکنالوجی کے ساتھ ڈرونز کے بازار میں قدم رکھا ہے۔

ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون کے استعمال نے ایک نئی قسم کی جنگ اور امن کے درمیان لکیر کو بہت حد تک دھندلا کر دیا ہے۔

ڈرونز نے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ایسی کامیابی حاصل کر لی ہے کہ (اگر معلومات مکمل طور پر صحیح ہیں) تو ان حملوں میں ہدف کے آس پاس نقصان صفر کے برابر ہوتا ہے۔

شدت پسندی کے خلاف جنگ میں مسلح ڈرونز اب ایک کارگر ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔