یہ گیم اب نہیں چل سکے گی - جاوید چوہدری

وہ دکھی تھے‘ وہ چلتے چلتے بولے ’’ ہم وہ کام کر رہے ہیں جس کے لیے ہمیں بھرتی کیا گیا تھا‘‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولے ’’ ہم سو لوگ ہیں‘ 24 وفاقی وزیر‘ 4 وزیرمملکت‘ 15 معاون خصوصی اور پانچ مشیر ہیں اور ہم اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی خصوصی ٹیموں کو بھی شامل کر لیں تو ہم سو پورے ہو جاتے ہیں۔

ہمارے پاس مختلف محکموں کے قلم دان ہیں لیکن ہمارا اصل کام قوم کو یہ بتانا ہے ملک کی پچھلی دونوں حکومتیں بے ایمان اور نااہل تھیں اور آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کرپٹ ہیں اور ہم پورے ایک سال سے اپنا یہ کام کر رہے ہیں‘‘ میں نے ہنس کر عرض کیا ’’کیا حکومت نے اس معمولی سے کام کے لیے سو عظیم دماغ رکھے ہوئے ہیں‘‘ وہ بھی ہنس کر بولے ’’ہاں اور ہم میں سے جس دن جس کی پرفارمنس اچھی نہیں ہوتی، اس دن اس کی ٹھیک ٹھاک چھترول ہوتی ہے۔

ہمیں اس دن بلا کر کہا جاتا ہے تمہیں جمہوریت اور افہام و تفہیم کے بڑے مروڑ اٹھ رہے ہیں‘ تمہیں آج کل بہت مذاکرات آ رہے ہیں اور تم ان سے بہت بڑھ بڑھ کر مل رہے ہو اور وہ بے چارہ شرمندہ ہو جاتا ہے‘‘، میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولے ’’مجھے ایک سال ہوگیا۔ میرے ضمیر پر بوجھ ہے‘ میں نے اس ایک برس میں چور چور اور کرپٹ کرپٹ کے سوا کچھ نہیں کیا‘ میرا محکمہ اس دوران تباہ ہو گیا مگر میرے پاس اسے سنبھالنے کے لیے وقت ہی نہیں ‘ میں کیا کروں‘ میں ڈپریشن میں چلا گیا ہوں‘ مجھے اب نیند بھی نہیں آتی اور میں لوگوں کو فیس بھی نہیں کر پارہا‘‘ وہ تیز ہو گئے‘ میں بھی ان کے قدموں کے ساتھ قدم ملانے لگا‘ ہم نے پارک کا چکر لگایا اور پارکنگ میں آ گئے‘ وہ گاڑی میں بیٹھے‘ ہاتھ ہلایا اور رخصت ہو گئے لیکن میں دیر تک پارکنگ کے فٹ پاتھ پر بیٹھا رہا‘ مجھے دل پر بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا‘ میں نے دل پر ہاتھ رکھا‘ سینہ مسلا‘ لمبی سانس لی اور آہستہ آہستہ گھر کی طرف چل پڑا۔

میں چلتا جا رہا تھا اور سوچتا چلا جا رہا تھا ہم نے پچھلے ایک سال میں کیا کمایا‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کرپٹ ہوں گے اور یہ ملک کو لوٹ کر بھی کھا گئے ہوں گے لیکن لوٹ اور کرپشن کا مال کہاں ہے؟ عمران خان ’’یہ لوگ ملک کے تین ہزار ارب روپے کھا گئے‘‘ کے اعلان اور دعوؤں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے لیکن یہ سال گزرنے کے باوجود تین ہزار ارب روپے میں سے ایک ارب بھی ریکور نہیں کر سکے۔

میاں نوازشریف کے فلیٹس آج بھی شریف فیملی کی ملکیت ہیں‘ نیب جے آئی ٹی کی خوف ناک رپورٹ کے باوجود آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے مقدمے نہیں چلا پا رہی‘ سوئس اکاؤنٹس میں پڑے وہ دو سو ارب ڈالر بھی غائب ہیں جن میں سے سو ارب ڈالر ہم نے ’’کھان‘‘ کے آنے کے بعد اس کے منہ پر مارنے تھے اور سو ارب ڈالر اس کے منہ پر‘کرپٹ لیڈروں سے ریکوری تو دور ہم نے الٹا مقدموں‘تفتیش اور ’’چور لیڈروں‘‘ کی حفاظت پر مزید اربوں روپے خرچ کر دیے‘ ہمیں آخر کیا ملا؟ فٹ پاتھ تھا‘ میں تھا اور خوف ناک سوال تھے‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف دونوں کرپٹ ہوں گے۔

یہ دونوں نالائق‘ مغلیہ خاندان‘ رائل فیملی اور جمہوری ڈکٹیٹر بھی ہوں گے اور یہ اپنی جیبیں بھی بھرتے رہے ہوں گے لیکن سوال یہ ہے ان کے دور میں عوام کو روٹی‘ بجلی‘ گیس‘ تعلیم اور دوائیں سستی مل رہی تھیں‘ امن بھی تھا اور خوش حالی بھی تھی لیکن آج کی دیانت دار اور بہادر قیادت ملک کو کہاں لے گئی؟ بے ایمان نواز شریف کے دور میں چین 58 ارب ڈالر کا سی پیک بنا رہا تھا‘ اسٹاک ایکس چینج 53 ہزارپوائنٹس پر تھی‘ جی ڈی پی گروتھ 5.7فیصدتھی‘پرائس واٹر ہاؤس کوپرز(پی ڈبلیوسی)جیسے ادارے پاکستان کو 2050 میں دنیا کی 16ویں بڑی معیشت قرار دے رہے تھے‘ ڈالر 110روپے کا تھا‘ بجلی بھی پوری تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف حکومت کا پہلا سال۔چند سوال ، جواب - محمد عامر خاکوانی

گیس بھی آ رہی تھی‘ انڈسٹری بھی چل رہی تھی اور سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھل رہے تھے‘ دہشت گردی بھی ختم ہو گئی تھی اور افغانستان اور بھارت کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے تھے‘ قرضے بھی کم تھے‘ میٹروز بھی بن رہی تھیں‘ اورنج لائین ٹرین پر بھی کام ہورہا تھا‘ کراچی میں بھی معاشی سرگرمیاں بحال ہو گئی تھیں‘ بلوچستان کے ناراض نوجوان بھی قومی دھارے میں شامل ہو رہے تھے اور پنجاب میں صفائی ستھرائی کا بندوبست بھی ہو رہا تھا لیکن ہم نے پھر بے ایمان نواز شریف کو نکال دیا‘ اٹھا کر جیل میں بھی پھینک دیا اور اس کی جگہ ایمان دار قیادت لے آئے اور اس ایمان دار قیادت نے ملک کو کہاں پہنچا دیا؟ ہم سال پہلے تک اس کا تصور تک نہیں کر سکتے تھے۔

اشیائے ضروریہ 123 فیصد مہنگی ہوئیں‘ گیس کی قیمتوں میں سال میں 143فیصد‘ بجلی12فیصد‘ پٹرول23فیصد‘ بے روزگاری اعشاریہ پانچ فیصد‘ ادویات دو سو فیصد‘صحت کی سہولیات 13 فیصد اور تعلیم 7فیصد مہنگی ہوگئی‘ پنجاب کے وسیم اکرم پلس ایک سال میں اورنج لائین ٹرین نہیں چلا سکے‘ یہ 1200 ارب روپے کا منصوبہ تھا‘ یہ رقم برباد ہو گئی۔

حنیف عباسی نے راولپنڈی میں یورالوجی کا اسپتال بنایا تھا‘ عمارت مکمل ہو گئی‘ 65کروڑ روپے کی مشینری آ گئی لیکن یہ مشینری اور عمارت دونوں بند پڑے ہیں‘ حکومت آج تک اسپتال کا دروازہ نہیں کھول سکی‘ گردے کے مریض روز مر رہے ہیں لیکن اسپتال صرف حنیف عباسی اور میاں شہباز شریف کی وجہ سے نہیں کھل رہا‘ آپ مہربانی فرما کر اس اسپتال کو عثمان بزدار یا عمران خان اسپتال ڈکلیئر کر کے ہی کھول دیں یا آپ اس پر شیخ رشید میموریل کی تختی ہی لگا دیں لیکن خدا را اسے کھول دیں‘ ہزاروں لوگوں کی جان بچ جائے گی‘ میں دو دن پہلے ٹیسٹ کے لیے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی گیا‘ آپ یقین کریں پورے ملک میں اس پائے کا کوئی سرکاری اسپتال نہیں۔

سال پہلے تک پورے ملک سے دل کے مریض آر آئی سی آتے تھے‘ مفت علاج کراتے تھے اور مفت ادویات لیتے تھے لیکن پنجاب حکومت نے اس کا بجٹ بھی کم کر دیا اور دوسرے صوبوں کے مریضوں کے علاج پر بھی پابندی لگا دی۔ ’’کے پی کے‘‘ کے وسیم اکرم پلس محمود خان سو ارب روپے کے باوجودسال میں پشاور کی میٹرو مکمل نہیں کر سکے‘ صوبے میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا اسکول اور کالج کی بچیاں عبایا میں آئیں گی یا اپنی مرضی کالباس پہنیں گی‘ حکومت سے وفاق چل نہیں رہا اور وفاقی وزراء اسلام آباد سے کراچی چلے گئے اور وہاں آرٹیکل 149(4) کا کٹا کھول دیا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ دیش کی دھمکی دے دی۔

کشمیر کے ایشو پر قومی اسمبلی‘ سینیٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے تماشے پوری دنیا نے دیکھے‘ اپوزیشن پروڈکشن آرڈر مانگ رہی تھی‘ اسپیکر دینا چاہتے تھے لیکن وزیراعظم ڈٹ گئے‘ آپ دے دیتے‘ کیا جانا تھا؟ کم از کم صدر کا خطاب تو عزت کے ساتھ ہو جاتا لیکن حکومت نے جان بوجھ کر اپنے سر میں خاک ڈال لی اور تماشا پوری دنیا نے دیکھا‘ وزیراعظم شہزادوں کی گاڑیاں ڈرائیو کر لیتے ہیں‘ یہ نریندر مودی کو ’’مس کالز‘‘ دے سکتے ہیں لیکن کشمیر کے ایشو پر بلاول بھٹو اور شہباز شریف سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ سال میں قرضے 30 ہزار ارب سے 40 ہزار ارب ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو - محمد عبداللہ

بے ایمان نواز شریف نے پانچ سال میں 14 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے تھے لیکن ایمان دار عمران خان نے ایک سال میں دس ہزار ارب روپے قرضہ لے لیا‘ بے ایمان نواز شریف کے دور میں3751ارب روپے ٹیکس جمع ہو رہا تھا لیکن ایمان دار عمران خان کے دور میںٹیکس پیئرز بڑھنے کے باوجود ٹیکس کولیکشن 800ارب روپے کم ہو گئی‘ دس لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں‘ کاروبار زندگی مفلوج ہو چکا ہے‘ بیورو کریسی نے کام چھوڑ دیا ہے اور سسٹم ڈھیلا ہو چکا ہے بس عوام کے باہر نکلنے کی کسر باقی ہے اور ہم انارکی کا شکار ہو جائیں گے۔

مجھے خطرہ ہے یہ کسر مولانا فضل الرحمن پوری کر دیں گے‘ وزیراعظم کو مشورے دیے جا رہے ہیں حکومت مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کر لے‘ یہ غلطی حکومت کو لے بیٹھے گی‘ پورے ملک میں مولانا کے لاکھوں جان نثار موجود ہیں‘ یہ اگر چھڑ گئے تو حکومت ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گی اور یوں آخری کیل بھی ٹھونک دی جائے گی۔

فٹ پاتھ تھا‘ شام کا وقت تھا اور میرے سوال تھے ’’کیا حکومت چل جائے گی‘‘ مجھے محسوس ہوا ملک یا حکومت ہمیں اب کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہوگا‘ملک اب اس معیشت کے ساتھ نہیں چل سکے گا‘ یہ کسی بھی وقت بیٹھ جائے گا اور یہ اگر بیٹھ گیا تو پورے ملک سے صدائیں آنا شروع ہو جائیں گی’’ ایمان دار عمران خان لے لو اور بے ایمان نواز شریف واپس دے دو‘‘ لوگ آصف علی زرداری کے پیچھے بھی کھڑے ہو جائیں گے‘ ہم کس دل چسپ زمانے میں زندہ ہیں۔

وہ لوگ جن کے دور میں خراب بھی ٹھیک چل رہا تھا‘ ملک ٹیک آف کر رہا تھا اور خوش حالی اور امن بھی تھا وہ لوگ نااہل‘ کرپٹ اور برے ہیں اور وہ لوگ جن کے دور میں ٹھیک بھی ٹھیک نہیں چل رہا وہ ایمان دار‘ اہل‘ لائق اور اچھے ہیں‘ ہمیں آخر کسی نہ کسی پوائنٹ پر رک کر سوچنا ہوگا‘ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا ہمارے لیے کون ٹھیک ہیں؟ وہ لوگ جن کے زمانے میں خراب بھی ٹھیک تھا یا وہ جو ٹھیک کو بھی ٹھیک نہیں چلا پا رہے ہیں‘ یہ 20 کروڑ لوگوں کا ملک ہے‘ یہ’’ اسے ہٹا دیں اور اسے لگا دیں‘‘ سے نہیں چل سکے گا‘ یہ ملک ہے‘ یہ میوزیکل چیئر بھی نہیں اور یہ لیبارٹری بھی نہیں ‘آپ کسی مینڈک کو پکڑ کر میز پر رکھیں اور بچوں کو آپریشن سکھانا شروع کر دیں‘یہ ملک ہے‘ یہ ملک کی طرح ہی چل سکے گا۔

فٹ پاتھ ختم ہو گیا‘ مجھے محسوس ہوا یہ گیم اب ایک دو ماہ سے زیادہ نہیں چل سکے گی اور اگر یہ چلی تو پھر یہ ملک چلنے کے قابل نہیں رہے گا‘ گیم اور گراؤنڈ دونوں بیٹھ جائیں گے۔