روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 2 )

مکہ کی جس سرزمین پر حضرت ابراہیم ؑ نے بی بی حاجرہؓ اور حضرت اسماعیلؑ کو بسایا وہ اس وقت خشک اور بے آب و گیاہ تھی۔ جب آپؑ بی بی حاجرہؓ اور ان کے شیر خوار بچے کو اس ویرانے میں چھوڑ کر جانے لگے تو انہوں نے پوچھا کیا اللہ کے حکم پر آپ ہمیں یہاں چھوڑ رہے ہیں؟ آپؑ کے جی ہاں جواب دینے پر بی بی حاجرہؓ کہنے لگیں پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔

احمد اپنے کمرے میں بیٹھا کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اس نے آخری دو سطروں پر آہستگی سے انگلی پھیری اور زیر لب انہیں دوبارہ پڑھا۔ اللہ کے حکم پر۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔
میرے ابو بھی تو مجھے اور امی کو اس دنیا میں اکیلے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اس کے دل سے آہ سی نکلی۔ مگر کس کے حکم سے؟؟ اس نے خود سے پوچھا ؟ اللہ کے حکم سے ۔ اسے اپنی آواز بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ بی بی حاجرہ ؓ کی صفا و مروہ میں سعی تھی اور ننھے اسماعیل ؑ روتے ہوئے اپنی ایڑیاں رگڑ رہے تھے کہ یکایک ان کے پاٶں تلے سے ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ ان کے رب نے انہیں ضائع ہونے سے بچا لیا تھا۔ احمد نے اطمنان بھرا گہرا سانس لیا۔ بھلا امی اس وقت کیا کر رہی ہوں گی؟ تائی امی کی بوتیک میں خواتین کارکنان سے کام لیتے ہوئے یہاں سے وہاں بھاگ رہی ہوں گی۔ امی کی سعی؟؟ اس نے غور سے اپنے پیروں کی ایڑیوں کو گھورا۔ غیر ارادی طور پر وہ انہیں فرش پر رگڑنے لگا تھا۔ پھر یکایک جیسے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ہوں۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ رونے لگا۔ اے ابراہیم ؑ کے رب ! احمد اور اس کی ماں کو ضائع ہونے سے بچا لے۔ اے ہاجرہؓ اور اسماعیلؑ کے رب احمد اور اس کی ماں کو ضائع ہونے سے بچا لے۔ اے محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رب احمد اور اس کی ماں کو ضائع ہونے سے بچا لے۔ اے میرے رب مجھے اور میری ماں کو ضائع ہونے سے بچا لے۔ اس کے آنسوٶں نے کتاب کے اوراق گیلے کر دئیے تھے۔ وہ ہچکیاں لیتے لیتے کتاب پر سر رکھے سو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 3 )

سر میں نے ملازمت کے لیے دئیے جانے والے ٹیسٹ اور انٹرویو دونوں میں اول پوزیشن لی ہے مگر انہوں نے مجھے ملازمت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دانیال مسکراتے ہوئے اشرف صاحب کو ایسے بتا رہا تھا جیسے کوئی معرکہ سر کر آیا ہو۔ مگر کیوں؟ اشرف صاحب حیران ہوئے۔ سر وہ مجھے داڑھی کٹانے کا کہہ رہے تھے۔ مینجنگ ڈائریکٹر کا کہنا تھا مجھ جیسا اچھا انٹرویو آج تک کسی نے نہیں دیا لیکن یہ جو میری داڑھی ہے یہ سافٹ امیج نہیں دیتی۔ اگر مجھے اس پرائیویٹ فرم میں ملازمت اختیار کرنی ہے تو مجھے داڑھی کٹانی ہوگی۔ سر میرے پاس اتباع رسولؐ میں اس داڑھی کے سوا ہے ہی کیا؟ نہ میرا صدق اعلی نہ مجھ میں امین ہونے کی کوئی نشانی۔ یہ داڑھی بھی کٹا دوں تو میرے پاس رہ ہی کیا جائے گا۔ وہ جزباتی ہوا۔ رزق کا وعدہ اللہ کا ہے ناں؟ اس داڑھی سمیت ملے گا ناں مجھے۔ بھوکا تو نہ رہوں گا۔ وہ جزباتی ہوا۔ انہوں نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ ایسا دلیر تھا وہ اتنی پرکشش ملازمت کو ٹھوکر مار آیا تھا۔ سر میری خواہش ہے میں جہاں کام کروں وہاں اپنے پرائے سب مجھے میرے سچ اور امانت داری کی وجہ سے پہچانیں۔ پھر میں فخر سے بتاٶں مجھے صادق و امین نبیؐ سے نسبت ہے۔ وہ اس کی تعظیم میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے ایک خوشخبری سناٶں دانیال تمہیں۔ انہوں نے اسے گلے لگایا۔ جی سر وہ سراپا اشتیاق ہوا۔
”صحیح مسلم کی حدیث ہے دانیال۔ آپؐ نے فرمایا۔ اسلام ابتدا میں لوگوں کے لیے اجنبی تھا اور یہ عنقریب دوبارہ اسی طرح ہو جائے گا پس خوشخبری ہے اس وقت اسلام پر عمل کرنے والوں کے لیے۔“ آٶ دانیال اسلام کے اس اجنبیت کے دور میں ہم اسلام کو اپنا بنا لیں۔ آٶ اس خوشخبری کے حق دار ہم بن جائیں۔

بابا آپ نے کہا تھا آج ہم نقشے میں رنگ بھریں گے۔ ننھی زینب نے اشرف صاحب کا ہاتھ تھاما۔ ضرور۔ ضرور انہوں نے مسکرا کر اپنی من موہنی سی بیٹی کی جانب دیکھا۔ زینب کی امی نے ایک بڑا سا نقشہ میز پر پھیلا دیا تھا۔ یہ دیکھو زینب یہ ہے عرب۔ یعنی جزیرہ نمائے عرب اور اس میں بسنے والی قومیں۔
یہ دیکھو یہ اندرونی طور پر ہر چہار جانب سے صحرا اور ریگستان کا محفوظ قلعہ ہے۔ اشرف صاحب نے نقشے پر انگلی رکھی اور یہ دیکھو بیرونی طور پر یہ پرانی دنیا کے تمام معلوم براعظموں ایشیاء،افریقہ اور یورپ کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ شمال مغربی گوشہ براعظم افریقہ میں داخلے کا دروازہ اور شمال مشرقی گوشہ یورپ کی کنجی ہے۔ وہ اسے نقشے پر سے بتا رہے تھے۔ مشرقی گوشہ ایران وسط ایشیاء اور مشرق بعید کے دروازے کھولتا ہے اور ہندوستان اور چین تک پہنچاتا ہے۔ ہر براعظم سمندر کے راستے بھی جزیرہ نمائے عرب سے جڑا ہوا ہے اور ان کے جہاز عرب بندرگاہوں پر لنگرانداز ہوتے ہیں۔ اب وہ مل کر نقشے میں رنگ بھر رہے تھے۔ پیاری زینب یہ دیکھو عرب میں حجاز کا علاقہ۔ اشرف صاحب نے مکہ، مدینہ اور طائف کے شہروں کی نشاندھی کی۔
یہ دیکھو مکہ۔ یہاں آبادی کا آغاز حضرت اسماعیلؑ سے ہوا۔ حضرت اسماعیل ؑ نے اپنے بابا حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ

زینب اب خانہ کعبہ کی تصویر میں رنگ بھر رہی تھی اور اس کے ابو اسے بتا رہے تھے۔ حضرت اسماعیلؑ کے بعد ان کے بیٹے مکہ کے والی ہوئے۔ ان کے بعد بنو جرہم اور بنو جرہم کے بعد بنو خزاعہ کا اقتدار مکہ پر قائم رہا۔ بالآخر کئی ہزار سال بعد قصی بن کلاب کی زیر قیادت بنو اسماعیل کو مکہ کا سیاسی اقتدار واپس حاصل ہوا۔
یہ دیکھیں بابا ایران، روم اور ہندوستان۔ یہاں میں نے پیارا رنگ بھرا ہے ناں۔ جی بالکل
لیکن زینب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہاں ظلمت و کفر کا سیاہ اندھیرا چھایا تھا۔ توحید کے اجلے نکھرے رنگ دھرتی پر کہیں نہیں تھے۔
زینب نے نقشے میں بہت دلچسبی سے رنگ بھرا تھا۔ مکہ، حجاز کا علاقہ، عرب اور بیرونی دنیا سے عرب کا رابطہ سب کچھ اس کی نگاہوں میں بس گیا تھا۔
حتی کہ نیند میں کھو جانے کے بعد وہ خوابوں کی دنیا میں کبھی خشکی کے راستے عرب میں داخل ہو کر مکہ تک جا پہنچتی اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگتی۔ کبھی سمندروں سے ہوتی جزیرہ نمائے عرب میں جا ٹھہرتی جہاں خانہ خدا تھا۔ الھم لبیک کی صدائیں تھیں اور درود شریف پڑھتا اس کا ننھا سا دل تھا۔

جاری ہے