سعودی تیل پر دنیا کا کتنا انحصار ہے؟ ہمیش مک رائے

یہ ایک زبردست دھچکہ تھا۔ سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے نے سعودی عرب کی تیل کی نصف پیداوار کو نقصان پہنچایا ہے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل کا برآمد کنندہ ہے۔ تیل پیدا کرنے والی سرکاری کمپنی آرامکو ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بیش قیمت کمپنی ہے اور تیل دنیا میں استعمال ہونے والی بنیادی توانائی کا ایک تہائی حصہ مہیا کرتا ہے۔

عالمی سطح پر اس قسم کے واقعات کے نتائج کے بارے میں سوچنا مشکل ہے، کیونکہ ہم اس حملے، ممکنہ سیاسی اور عسکری ردعمل اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ لیکن کچھ نکات پہلے سے ہی واضح اور بیان کرنے کے قابل ہیں۔

پہلے تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیل کی پیداوار کتنی جلد دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ مزید حملے نہیں ہوں گے تو یہ ممکن ہے کہ کسی حد تک نقصان کو جلد ہی ٹھیک کرلیا جائے، شاید چند ہفتوں میں۔ خود آئل فیلڈز جن میں دنیا کی سب سے بڑی الغوار فیلڈ شامل ہے، کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے، جنہیں نقصان پہنچا ہے وہ پراسیسنگ پلانٹس ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تیل کی مارکیٹ میں اضافی مقدار موجود ہے، اگر نہ بھی ہوتی تو امریکی شیل کی پیداوار انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھائی جا سکتی ہے۔

تیل کی مارکیٹ کے لیے یہ دھچکا تو ہے ہی اور کچھ عرصے تک اس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوگا، لیکن یہ اتنا بڑا دھچکا نہیں کہ 2008 جتنی قیمتوں میں اضافہ ہوسکے، جب تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، یا اس سے کچھ مزید پیچھے جائیں جب 1970 کی دہائی میں تیل کی قیمتیں بہت بڑھ گئی تھیں۔ ہم یقیناً اپنی گاڑیوں کو بھرنے کے لیے بھاری قیمت ادا کریں گے لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے اسے سنبھالا جا سکتا ہے۔

عالمی معیشت کو مزید مدد اس بات سے بھی ملی ہے کہ اس وقت افراطِ زر کم ہے، بعض جگہوں پر تو بہت ہی کم، خاص طور پر یورپ میں، جہاں یورپیئن سینٹرل بینک نے افراطِ زر اور طلب دونوں ہی کو بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ عالمی معیشت اُس وقت زیادہ متاثر ہوتی ہے جب نمو ڈگمگا رہی ہو، لیکن سب سے بڑا مسئلہ تجارتی دھڑے بندی ہے۔ اگر آپ مجموعی طور پر عالمی معیشت کو دیکھیں تو یہ ایک درمیانی سطح کا مسئلہ ہے، تباہ کن نہیں۔

اس سے ہمیں دیگر کمزوریوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔

اول، دنیا اب بھی فاسل فیول پر انحصار کر رہی ہے اور کم از کم اگلی نسل تک کرتی رہے گی۔ 1970 کی دہائی کے مقابلے میں جب تیل توانائی کے بنیادی استعمال کا نصف تھا اب کم ہو کر ایک تہائی رہ گیا ہے، لیکن گیس (جو اکثر اسی خطے سے آتی ہے) پر انحصار ایک چوتھائی تک بڑھ گیا ہے، لہذا یہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کا 60 فیصد مہیا کرتے ہیں۔ (ان میں کوئلہ 25 فیصد اور توانائی کا ایسا ذریعہ جسے دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہو 15 فیصد ہے۔)

یہ انحصار کم ہو جائے گا، لیکن دنیا کی آبادی اور بڑھتی دنیا کے معیارِ زندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہم سب کو اس میں اضافے کی امید اور خواہش رکھنی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی امید رکھنی چاہیے کہ عالمی توانائی میں کوئلے کا حصہ کم ہو جائے۔ اس سب کو اکھٹا کریں تو یہ واضح ہے کہ کاربن کے بغیر دنیا کی معیشت کو اگلے 30 سالوں میں مزید تیل اور گیس کی ضرورت ہوگی۔ بہت سا تیل اور گیس مشرقِ وسطیٰ سے ہی آئے گا۔

اب اسے سعودی عرب کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ جو زیادہ تر تیل اور گیس پر ہی انحصار کرتا ہے اور سعودی وژن 2030 پروگرام کے تحت تبدیلی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس منصوبے پر تنقید کی گئی ہے اور یہ کام بہت بڑا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ یا تو آپ میعشت میں اوپر سے نیچے تک تبدیلی لائیں یا پھر مارکیٹ کے اشاروں کو دیکھتے جائیں کہ کہاں مسابقت ہو سکتی ہے۔ لیکن آپ کا خیال کچھ بھی ہو، اس میں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اس کے لیے بہت سارا پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔

اس سرمایہ کاری کے لیے سعودی عرب کا آرامکو میں شیئر ہولڈنگ کا منصوبہ ہے، ممکنہ طور پرعالمی منڈی میں پانچ فیصد۔ یہاں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر کمپنی کی گورننس، جس کے بورڈ روم میں ہلچل ہو سکتی ہے، لیکن کچھ تشویش اُن سیاسی خطرات پر ہے جنہیں روکا نہیں جا سکتا اور کچھ شیئر ہولڈرز کی جانب سے، ایسی سرمایہ کاری کو روکنے کے لیے، توانائی کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاروں کی طلب کے بارے میں ہے۔ آرامکو کے شیئرز کی فروخت کو دیکھتے ہوئے یہ حملے ایک برے وقت میں ہوئے ہیں۔

یہاں پر ایک چھوٹا اور بڑا مسئلہ ہے۔ چھوٹے مسئلے پر اس وقت بینکرز بحث کر رہے ہیں کہ آرامکو کے لیے اس کا کیا مطلب ہے: قیمتوں میں کمی کی جائے، اسے موخر کر دیا جائے یا پھر اور کیا؟

بینکرز پیشہ ور لوگ ہیں اور اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اس چھوٹے مسئلے کا کیا جائے، لیکن مجھے امید ہے کہ آئندہ مہینوں میں بڑے مسئلے کے بارے میں سوچ بچار کی جائے گی۔ گیس اور تیل کا بہاؤ جاری رہنا چاہیے۔ یہ ظاہر کرنا کہ ہم ایسا نہیں کر رہے معصومانہ ہے۔ اس کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں معدنی ایندھن کا متبادل ڈھونڈنا ہے اور اس کے لیے بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب میں خوفناک واقعات سے لوگ چھوٹے مسائل کے بارے میں تو سوچیں گے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ لوگوں کی ایمانداری سے بڑے مسائل کے بارے میں بھی سوچنے پر حوصلہ افزائی کریں گے۔