ریاست بچاؤ، سیاست نہیں - سید طلعت حسین

پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر بھیانک سیاسی بحران کا شکار ہے جس کے نتائج عوام گرتی ہوئی معاشی ساکھ اور ابتر انتظامی امور کی صورت میں روزانہ بھگتتے ہیں۔ اب اس بحران نے قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔

ایسا اثر جو آنے والی دہائیوں میں پورے ملک کو گھیرے میں لے کر اس کی سکیورٹی کو تہس نہس کر سکتا ہے۔ دیکھنے میں یہ بحران سیدھا سادہ ہے۔ عمران خان کی حکومت فعال ہونے سے قاصر ہے۔ اسلام آباد میں کچرے کے ڈھیر، ڈینگی اور پولیو کے پھیلاؤ سے لے کر معیشت کو چلانے، خارجی امور کو سنبھالنے اور ایک پُرامید وژن ترتیب دینے تک ناکامیوں کی ایسی صدا ہے جو کان بند کرنے کے باوجود ختم نہیں ہو گی۔

لیکن اس بحران کی اصل تہیں مسلسل ناکامی سے دوچار بڑک باز حکومت ہی نہیں اس کے پیچھے ایسے محرکات ہیں جو پھیلتی ہوئی سیاسی افراتفری سے جڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان کو طاقت میں لانے والی قوتوں نے بہت سے مفروضوں پر کام کیا مگر بدقسمتی سے ان میں سے ایک بھی صحیح ثابت نہ ہو پایا۔

ایک مفروضہ یہ تھا کہ عمران خان آئے گا اور چھا جائے گا۔ کرکٹ کے میدان کی کامیابیوں کوسیاسی دانش مندوں سے تشبیہ دے کر عمران خان کی قیادت پر ایسا بھروسہ کیا گیا جس کی نا تو کوئی حقیقی بنیاد تھی اور نہ سیاسی منطق اس کے حق میں فیصلہ دیتی تھی۔ پہلے چند ماہ اس امید پر گزرے کہ شاید جلدی سے سیکھنے کا عمل شروع ہو جائے اور شروع کی غلطیاں بعد میں بہترین کارکردگی کے پردے کے پیچھے چھپ جائیں۔ ایسا نہ ہو پایا۔

دوسرا مفروضہ معاشی حالات کی بہتری سے جڑا ہوا تھا۔ چند پیشہ ور معاشی ڈبل شاہوں نے ایسے سبز باغ دیکھائے کہ یقین ہو گیا کہ عمران خان کی مضبوط قیادت معاشی حالات کو فوری سنبھالا دے کر پاکستان کی ترقی میں تیزی لائے گی جو قرضوں میں دبی معیشت کے لیے تریاق ثابت ہو گی۔

سوا سال ہونے کو ہیں اور عمران خان بنی گالہ ہاؤس یا پرائم منسٹر ہاؤس دونوں کے معاملات سمجھنے اور سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ ان کی ٹیم میں تبدیلیاں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔ تمام تر قد کاٹھ کے باوجود نہ ان کی سوچ میں اضافہ ہوا ہے اور نہ فکر میں۔ دوست ممالک سے قرضے، بدعنوانی کی فرضی داستانوں سے بنے ہوئے پیسوں کے تصوراتی انبار اور کچے پکے معاشی ماہرین کی خوش گپیوں نے ایک فاش معاشی غلط فہمی کو جنم دیا جس کو سچ سمجھ لیا گیا۔

اس وقت معیشت قرضوں کی دلدل میں مزید دہنس گئی ہے۔ نہ ٹیکسوں کی وصولی کی بھر مار ہے اور نہ باہر سے آنے والے ڈالرز کی جھنکار۔ اندرونی سیاسی لڑائیوں اور تحریک انصاف سے جڑے فصلی بٹیروں کی منہ زوریوں نے معاشی توازن کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ پاکستان میں کوئی بڑا سرمایہ کار آنے کو تیار نہیں۔ سیاسی دھکم پیل اور معاشی افراتفری نے ایک ایسے غبار کی کیفیت حاصل کر لی ہے جس میں شازو نادر اور واجبی حوصلہ افزا اعداد و شمار بے معنی ہو کے رہ گئے۔

بنیادی معاملہ یہ ہے کہ پاکستانی معیشت روزانہ کی بنیادی پر پیدا کی جانے والی خوش فہمیوں اور سیاسی طور پر غیر فعال نظام کے توسط ترقی نہیں کر سکتی۔ جس سیاسی تجربے کے توسط معیشت کو نئے انداز سے چلانے کا تجربہ کیا گیا تھا اس نظام نے اسی معیشت کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔ اگر یہ نظام درست سمت پر گامزن ہو بھی جائے تو بھی سیاسی تنازعے اور روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن کو ’مینج‘ کرنے کا عمل کسی طویل المدت ترقیاتی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

ہر روز نہ تو انتخابات کے نتائج تبدیل کیے جا سکتے ہیں اور نہ بڑی جماعتوں کی قیادت کو کال کوٹھڑیوں میں ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔ ہر جج ثاقب نثار نہیں بنے گا۔ نہ ہر مرتبہ قومی مفادات کے نام پر ذاتی نوکریوں اور پسندیدہ سیاسی مہروں کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان یا معاشی جنگ لڑ سکتا ہے یا سیاسی۔ دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں ہو سکتے۔ عمران خان اگر کرشماتی طور پر خود میں نئی روح پھونک بھی لیں تب بھی وہ 2018 کے انتخابات میں مہیا کی ہوئی سہولت کے توسط حاصل شدہ نتائج سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

ان کا اثر رسوخ اور مقبولیت جس کو اب فردوس عاشق اعوان کے سہارے کی ضرورت ہے، عروج کے نکتے کو کہیں پیچھے چھوڑ کر غروب ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں تمام تر خواہشات کے باوجود عمران خان کی مقبولیت کا گراف نیچے جائے گا اوپر نہیں۔

تیسرا مفروضہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات سے منسلک تھا۔ عمران خان کو طاقت میں لانے کی منصوبہ بندی اور ایک تیز رفتار معاشی ترقی کا تصور افغانستان میں امن اور ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات سے پیوست تھا۔ خیال یہ تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں سے انخلا کروا کر امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھی دوستی کے راستے کھولے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کو بات چیت کی میز پر لا کر مشرقی سرحد کا دباؤ دوستی کے باب میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا خطرہ دنیا کے ساتھ افغانستان اور انڈیا کی مثبت پالیسی کے ذریعے ٹال دیا جائے گا۔ پاکستان تجارت اور تیل و گیس کی فراہمی کی راہداری بن جائے گا جس سے امریکہ اور چین دونوں مستفید ہو پائیں گے۔

اس طرح اندرونی طور پر ایک مضبوط قیادت بڑھتی ہوئی معاشی ترقی اور موافق بین الاقوامی حالات ایک ایسے نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے جس میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی وغیرہ قصہ پارینہ بن جائیں گے۔ عمران خان اور ان کے لانے والوں کے سر پر کامیابی کا تاج ہو گا اور خلق خدا ان کی طویل زندگیوں کی دعائیں مانگے گی۔

ظاہر ہے یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ وہ لوگ جو روزانہ کی بنیاد پر اُڑتی چڑیوں کے پر گننے کے دعوے کرتے ہیں اس سستے فلمی سکرپٹ کو سچ جان گئے بالکل ویسے ہی جیسے فلمی ایکٹر اور ایکٹریسز اور گلوکاروں کے غول کو لائن آف کنٹرول کے قریب لے جا کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم انڈیا کو شیر کی طرح للکار رہے ہیں۔

امریکہ ہندوستان کے ساتھ مل کر ایک بڑی لڑائی چین کے ساتھ اور ایک چھوٹی لڑائی ہمارے ساتھ لڑنے میں مصروف ہے۔ اس لڑائی کے ہتھیاروں میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی پابندیاں بھی ہیں اور ہماری معیشت کا وہ نرخرہ بھی جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے مالیاتی اداروں کے نمائندگان کی تعیناتی کی صورت میں واشنگٹن کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

ہندوستان نے کشمیر میں واردات امریکہ کے ساتھ مل کر کی ہے۔ اب امریکہ لداخ میں بیٹھ کر چین کے خلاف گھیرہ ڈالنے کا پلان بہتر انداز سے سر انجام دے سکتا ہے۔ افغانستان میں امن کا ہونا یا نہ ہونا امریکہ کے انخلا کے پلان پر اثر انداز نہیں ہو گا۔

یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ امریکا بات چیت کے عمل کو با نتیجہ بنائے بغیر افغانستان نہیں چھوڑے گا اور نتائج کے حصول کے لیے اس کو ہماری ضرورت ہے۔ امن ہو یا نہ ہو امریکہ افغانستان میں نہیں رکے گا۔ مشرق وسطی کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اس کے پیش نظر وہاں سے ہماری مدد اتنی ہی ہو گی جتنی کشمیر پر ہوئی یعنی نہ ہونے کے برابر۔

اس منظر نامے کے پیش نظر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سمیت قومی سلامتی کے تمام محاذوں پرایک بدترین صورت حال جنم لے چکی ہے جس کی ذمہ داری جیلوں میں بیٹھی ہوئی قیادت پر نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ ہی عمران خان ان حالات میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پنجاب میں دو چار ’ریلو کٹوں‘ کو آگے پیچھے کرنے سے یہ لڑھکتا ہوا ملک نہیں سنبھل پائے گا۔ اخباری مالکان کو اشتہارات کے لالچ میں یا سینسر شپ کے درے لگا کر اچھی خبریں لگانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ وفاقی کابینہ کے 80 فی صد وزرا نکمے اور غیر فعال ہیں۔ چند ایک کی وزارتیں تبدیل کرنے سے یہ فی صدی نہیں بدلے گی۔

کب تک کشمیر پر کھوکھلے باجے بجا کر خود کو دھوکا دیتے رہیں گے کہ ہمارے پاس ایک بہترین کشمیر پالیسی ہے؟ کب تک طالبان کو کبھی امریکہ، کبھی روس اور کبھی چین بھجوا کر ہم سوچتے رہیں گے کہ ہم افغانستان کو صحیح سنبھال رہے ہیں؟

عوام کو مزید طفل تسلیاں نہیں دی جا سکتی کیوں کہ 13 ماہ میں ان کا دودھ پانی میں اور پانی بھاپ میں تحلیل ہو گیا ہے۔ وہ ایک ایسے جان لیوا معاشی حبس میں گرفتار ہیں جہاں پریشانی اور دکھ کے اور کچھ نہیں۔ یہ نظام جنگل کے ان بندروں کی طرح جکڑ کا شکار ہو چکا ہے جو شکاریوں کی طرف سے رکھے ہوئے پتلی گردنوں والے مرتبانوں میں سے دونوں ہاتھوں سے سیب نکالنے کی لالچ میں اپنے بازو پھنسا بیٹھتے ہیں۔

نہ سیب چھوڑتے ہیں اور نہ مرتبان سے آزاد ہو سکتے ہیں اور پھر اسی کشمکش میں شکاریوں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد قریبی بازاروں میں سستے مال کے طور پر بک جاتے ہیں۔

اس وقت ڈیل کی ضرورت نواز شریف سے کہیں زیادہ اس نظام کے بنانے والوں کی ضرورت بن چکی ہے۔ وہ یا اپنے ناکام تجربے کے سیب کو پکڑے رکھ سکتے ہیں اور یا اس کو چھوڑ کر مرتبان کے چنگل میں سے اپنے بازوؤں کو آزاد کروا سکتے ہیں۔ اس موقعے پر رہنمائی کے لیے ریٹائرڈ شدہ طاہر القادری کے منہ سے کہلوایا ہوا وہ نعرہ یاد کرنے کی ضرورت ہے جو کسی زمانے میں ہر جگہ سے نشر ہوا کرتا تھا۔ ’ریاست بچاؤ، سیاست نہیں۔‘