خونی بارش - عظمی ظفر

بارش کی شروعات ہوئی تو سبرینہ کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ بچپن کی یادوں میں کھو سی گئی۔ جیسے ہی مون سون کی جھڑی لگتی تھی، مزا آجاتا تھا، اسکول بند، گرمیوں کی چھٹیاں سونے پہ سہاگہ ہوتی تھیں۔ کھلے برامدے میں تیز بارش کو ہوتے دیکھ کر سیدھا چھت پر بھاگتے تھے۔ منظر ایسا دلکش ہوتا تھا کہ بس،،، صاف ستھری چوڑی گلیاں کولتار کی سڑک دھل کر اور چمک جاتی تھیں۔ پیڑ پودے الگ دھل دھل کر اپنی بہار دکھاتے تھے، سرخ پھولوں کا رنگ سبز پتوں میں حسین امتزاج دکھتا تھا۔ سامنے گلی میں لگے کٹھ بادام کا پیڑ الگ جھومنے لگتا تھا۔

کبھی گرے بادام اٹھا کر کھاتے تو کبھی اگلی گلی کے شہتوت جمع کرتے۔ چھت پر پھیلی توری کی بیل اور اس کے ستارہ کناروں جیسے گہرے سبز پتے جن کے پیلے پھولوں پر کالے بھنورے آتے تھے۔ قدرت کی انہی رنگوں میں بارش کا لطف اٹھاتی سبرینہ کے لیے لطف دوبالا ہوتا تھا جب پڑوس والی آنٹی کے مزے دار پکوڑے اور چٹنی کی پلیٹ دیوار کے اوپر سے آجاتی۔ اِکّا دُکّا لڑکے گلی سے گزرتے نظر آتے، جنھیں برساتی مینڈک کا خطاب ملتا تھا اور سچ مچ کے مینڈک بھی پھدکتے نظر آتے تھے۔ بارش کے بعد کہیں ڈریگن فلائی جنھیں ہیلی کاپٹر بھی کہا کرتے تھے اڑتے ہوئے آجاتے۔ رنگ رنگ کی تتلیاں جانے کہاں سے آجاتیں اور بارش کا حسن دو آتشہ ہوجاتا پکوانوں کی مہک الگ اشتہا بڑھاتی تھیں۔ اگلے دن پودوں کے نیچے کھمبیاں اگ آتی جنھیں سانپ چھتری کا گھر کہہ کر ڈراتے تھے کہ قریب مت جانا مگر پھر بارش شروع ہوجاتی اور سبرینہ کے مزے ہوتے، دوستوں کے ساتھ پکڑم پکڑائی تو کبھی گلیوں کے چکر کاٹ کر واپس آجاتے آہ،،، کیسا بے فکری کا دور تھا نا کبھی پانی کھڑا دیکھا نا کبھی کرنٹ کا خطرہ ،،، سبرینہ کی نظر تیمور پر پڑی جو موٹر سائیکل دروازے سے باہر نکال رہا تھا ماشاءاللہ سے قد کاٹھ ایسا نکالا تھا کہ دیکھنے میں سولہ سترہ سال کا لگتا جبکہ ابھی چودہ کا ہوا تھا۔اسے نکلتا دیکھ کر فوراً سے چیخی،"کہاں جا رہے ہو تیمور بارش میں گھر پر ہی رہو بس؟" سبرینہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا، بچپن کی بارش کا منظر لمحے بھر میں حالیہ اور گزشتہ خونی بارشوں میں بدل گئی۔

کہیں نہیں ایسے ہی دوستوں میں جارہا تھا تیمور کو شاید ٹوکنا اچھا نہیں لگا تھا۔ "امی ایک تو آپ بھی ہر وقت روک دیتی ہیں،، کیا مصیبت ہے کب تک گھر میں بند رہوں گا، بارش میں نا بجلی ہے نا وائی فائی چل رہا ہے۔" تیمور کا انداز جارحانہ تھا موٹر سائیکل واپس کھڑی کی دھاڑ دوازہ بند کیا۔ چھوٹی عیشا کو بھی موقع مل گیا بولنے کا، "ہاں بھائی مجھے بھی چھت پر سائیکل چلانے نہیں دیتی امی، چھت پر مت جاؤ، بارش میں مت بھیگو، پول سے دور رہو، کبھی کچھ کبھی کچھ پہلے تو خوب اپنے بچپن کے مزے دار بارشوں کے قصے سناتی تھیں، اب ہمیں کچھ بھی انجوائے کرنے نہیں دیتیں۔" اس نے منہ بسورا، فرائز بنانے بولو تو فضول پکوڑے بنا دیتی ہیں۔
عیشا کا دکھ زبان پر آگیا تھا۔ ہونہہہہ!!! سبرینہ نے آنکھیں دکھائیں۔ ماں کا دل تھا کیسے کھول کر دکھاتیں بچوں کو، جو بیتی بارش میں ان ماؤں کے ساتھ گزری ہوگی کیسے اپنے جوان اکلوتے بچوں کی لاشیں اٹھائی ہوں گی ان ماں باپ نے، جن کے بچے کرنٹ لگ کر زندگی سے ہار گئے۔ پھول سا بچہ سائیکل کی سیر کرتے ہوئے جان سے چلا گیا اور کتنے ہی لوگ اس خونی بارش کی نظر ہوگئے تھے۔ بے شک حادثاتی موت بھی گردانتے ہیں اسے مگر غفلت اور اداروں کی بے حسی محکموں کی ڈھٹائی ، دیدہ دلیری پر کون سی آنکھ نم نا ہوئی ہوگی۔ اب جانے کب تک ان ماؤں کا دل ان بارشوں میں پھٹتا رہے گا، تڑپتا رہے گا جن کے لاڈلے واپس نہیں آسکتے۔سبرینہ نے جھر جھری لی .. "یا اللہ!!!تو ہی ان کے دلوں کا درماں سب ماؤں کی آنکھیں ٹھنڈی رکھنا۔" وہ دعا کرتی کچن کی جانب بڑھ گئی، اپنے بچوں کو خوش کرنے کی خاطر۔ بارش تو متواتر برس رہی تھی کسی کے لیے تفریح تھی کسی کے لیے خونی۔