اجتماعی بےضمیری کی تفسیر دودن کی دو خبریں - افشاں نوید

پچھلے دودن کی دو خبریں ہیں ۔ کل رات ٹاک شو میں سنا کہ دوبرس کی بچی کی میت کو ہسپتال نے فری ایمبولینس سروس دینے سے انکار کر دیا کہ دو ہزار فیس ہے ۔ باپ غریب فیس کہاں سے دیتا ۔چھوٹے بھائی کے حوالے میت کی اسے بائک پر پیچھے بٹھایا اور گھر روانہ ہوئے۔

ایک باپ کا ٹوٹا ہوادل۔۔۔۔اس کی ننھی شہزادی پیچھے میت کی صورت میں چچا کے بازوؤں میں تھی ۔ پھر ایکسیڈینٹ ہوا اور دونوں بھائی بھی لقمہ اجل بن گئے ۔ جس گھر میں ایک میت کا انتطار تھا وہاں تین میتیں پہنچیں ۔ آج خبروں میں سنا کہ ایک خاتون کی میت کو ہسپتال نے ایمبولینس بلا معاوضہ دینےسے انکار کردیا تو شوہر بیوی کی میت چنگچی رکشہ پر گھر لایا۔

ہم کس سماج کا حصہ ہیں ؟؟ ہماری شریعت کی تعلیمات کیا تھیں کہ۔۔جنازہ گزر رہا ہو تو احتراماً ٹہر جاؤ ۔ میت کے ساتھ چند قدم چلنے کا بھی اجر۔میت کا کتنا احترام کہ سفید براق کفن دو، خوشبو میں بساؤ ، حالانکہ جانا مٹی کے گھر میں ہے ۔ کیڑے مکوڑوں کی غذا بننا یے۔۔مگر وہ بعد کی بات ہے ، دنیا والے احترام میت میں کوئی کمی نہیں کر سکتے۔ کتنا احترام کہ میت کے ہمراہ دھیرے قدموں سے چلو ، جانے والا چاہے جیسے بھی کردار کا مالک ہو اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے ، میت کی برائی نہ کی جائے، اس کی وصیت پوری کی جائے۔ انکے گھر کھانا بھیجا جائے، تعزیت کا کتنا اجر بتایا گیا ۔ کامل شریعت ہے ہمارے پاس الحمدللہ ۔اب تو ہم اپنے دیس کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔

زندوں کی قدر نہ کی جائے وہ تو چیخ پُکار کر اپنے حق کے لئے واویلا کرہی لیتے ہیں ۔ کبھی کچرے کی دہائی دیتے ہیں تو کبھی مہنگائی کی، کبھی کرپشن پر واویلا کرتے ہیں کبھی ملاوٹ پر ۔ حق ملے نہ ملے شور کرکے اپنا زندہ ہونا تو ریکارڈ کراتے ہیں ۔ جانے والا تو چلا گیا اب نہ روٹی مانگے گا۔ نہ بجلی پانی۔ عزت کی تدفین تو اس کا حق تھا افسوس اب غریب کی میت بائیک اور چنگچی پر روانہ ہوگی کیونکہ ہسپتال تو منڈیاں ہیں جہاں انسانی احساسات بھی تھرمامیٹر اور اسٹیتھ اسکوپ سے ناپے جاتے ہیں۔ میت کو محض بل بڑھانے کے لئے کئی کئ دن وینٹی لیٹر پر ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دو خبریں چار ممالک - حبیب الرحمن

کچھ دن قبل ایک ساتھی نے کہا بھابھی ہفتہ بھر ہسپتال میں رہیں ۔رپورٹس بتا رہی تھیں کہ بچنے کا امکان نہیں۔وینٹی لیٹر پر رکھا ایک ہفتہ۔ اور میت کی شکل میں جب واپس ملیں تو ساتھ تیس لاکھ کا بل جو ادا کرکے میت حاصل کرنا تھی ۔ تعلیم اور علاج دو بنیادی حقوقِ ہیں ہر شہری کے۔افسوس کہ ہمارے ملک میں یہ دونوں تجارت بن چکے ہیں۔اور تاجر بھی بے ضمیر وشقی۔۔ہم ہر محرومی کو اپنا نصیب سمجھ کر خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں ۔ کتنا صبر سمیٹ رہے ہیں حکمران عوام کا ۔ جو شاید بھول بیٹھے کہ روزحشر تو جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا