زیادہ فیسوں والے اداروں سے مطمئن نہ ہوں - سعدیہ نعمان

یہ اسی کی دہائی تھی 1986، 87 کی بات ہے، جب مجھے اور صہیب کو سرسید ماڈل سکول میں داخل کروایا گیا. انگریزی ادب کے ایک ماہر استاد سر سبحانی سکول کے پرنسپل تھے، ابھی پرائیویٹ اداروں کا جال نہیں بچھا تھا. گورنمنٹ سکولوں میں سے قریبا زیادہ تر سکول بہت اچھی شہرت رکھتے تھے جہاں کے طالب علم اپنے نتائج سے اداروں کا نام روشن کر رہے تھے.

لہذا اس انگریزی میڈیم سکول کو اپنی ساکھ بنانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی. سکول کا معیار بہت اعلی تھا، اساتذہ مشفق اور محنتی تھے، سر سبحانی اپنی ضعیف العمری کے باوجود صبح بچوں کے سکول آنے کے وقت گیٹ پہ خود موجود رہتے، بچوں کے نام شکلیں کلاسیں انہیں یاد تھیں ، اساتذہ کو چیک کرنے کا ان کا اپنا انداز تھا ٹیچر پڑھانے میں مصروف ہوتے اور وہ خاموشی سے کلاس روم کے دروازے میں کھڑے ہو جاتے یا پچھلے بنچ پہ آ کے بیٹھ جاتے جہاں ضرورت محسوس ہوتی کلاس ٹیچر کی غلطی بھی پوائنٹ آوٹ کرتے اصلاح کرتے تختہ سیاہ پہ لکھ کے بتاتے کہ یہ لفظ یوں لکھا جائے گا ، بچوں کی کاپیاں ری چیک کرتے ، اس سب کے باوجود بھی ہماری امی جو تعلیم کے معاملہ میں انتہائی حساس تھیں باقاعدگی سے سکول آ کے انتظامیہ سے ملتیں غلطیوں پہ متوجہ کرتیں اور مزید بہتری کے لئے مشورے دیتیں سر سبحانی بہت حوصلہ افزائی کرتے ایک دن تو امی سے کہنے لگے بیٹی آپ ہمارے سکول میں جاب کیوں نہیں کر لیتں ہمیں آپ جیسے افراد کی ضرورت ہے ہماری ایک ٹیچر تھیں بہت شفیق ، یہ کلاس چہارم کی بات ہے ،ہماری کلاس کے ایک طالب علم کی زبان میں لکنت تھی وہ پوزیشن ہولڈر اور بلا کا ذہین تھا لیکن اس ایک کمزوری کے باعث بے حد شرمیلا تھا بات کرتے سبق سناتے جھجھکتا تھا لیکن اسی کلاس ٹیچر کی مستقل توجہ اور کوشش سے کچھ عرصہ بعد وہ طالبعلم بہت حد تک اپنی اس کمی پہ قابو پا چکا تھا ،اب وہ بہت اعتماد سے سبق سناتا،

ہائی سکول کی تعلیم کے لئے گورنمنٹ مسلم گرلز ہائی سکول میں داخلہ لیا یہاں وسیع و عریض سکول ملتان شہر کے صف اول کے اداروں میں جس کا شمار ہوتا تھا میڈم نظامی کی سر پرستی میں بے مثال نظم و ضبط کے ساتھ چل رہا تھا ، ان کی شخصیت اسقدر موثر اور با رعب تھی کہ ان کا محض اپنے آفس سے باہر سکول کی اندرونی راہداری میں کھڑے ہونا ہی کا فی ہوتا، محاورتا نہیں حقیقتا بھی کوئ پرندہ پر نہ مارتا، مجھے نہیں یاد کہ اپنی تعلیم کے پانچ سالوں کے دوران کسی استاد کو ڈنڈے کا استعمال کرتے یا مار پیٹ کرتے دیکھا ہو ، ٹیوشن کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئ ، ریاضی اور سائنس مضامین کے لئے اساتذہ زیرو پریڈ لیا کرتے ، پھر اگلے دس سالوں میں وقت بدلا دیکھتے ہی دیکھتے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے جال بچھ گئے تعلیم کا معیار بدلتا بھی گیا اور گرتا بھی گیا، گورنمنٹ ادارے پیچھے چلے گئے ، جتنا اونچا نام اتنی زیادہ فیس، تعلیم بکنے لگی، ٹیو شن سنٹرز اور اکیڈمیاں ناگزیر محسوس ہونے لگیں ، بچے صبح کتابیں لاد کر گھر سے نکلتے اور شام ڈھلے گھر واپس آنے لگے ، نہ والدین کے پاس وقت کہ ان پہ نظر رکھیں اور نہ ہی اسکول۔انتظامیہ بچوں کی تربیت کے لئے زمہ دار رہی.

اب یہ واقعہ 2009 کا ہے اپنے بچوں کے لئے گھر سے قریب ایک سکول کا انتخاب کیا جو ایک نامور ادارے کی برانچ تھی اور برٹش سکولنگ سسٹم پڑھایا جاتا تھا، سکول پرنسپل کے اپنے دونوں بچے بھی یہیں زیر تعلیم تھے وہ محترمہ انگلینڈ سے ڈگری ہولڈر تھیں، یعنی بظاہر سب اچھا تھا ، ایک دن بچے بے حد خوفزدہ گھر واپس آئے پوچھنے پہ جو سامنے آیا وہ دل دہلانے کے لئے کافی تھا ، پتہ چلا کہ انہوں نے کچھ بچوں کو ایک غلطی پہ سزا کے طور پہ رسی سے باندھ کے الٹا لٹکائے رکھا ، یہ بات اسقدر خوفناک تھی کہ ہم نے فورا مین برانچ اور ادارہ کے ہیڈ سے رابطہ کیا انہیں معاملہ کی سنگینی کا احساس دلایا انہوں نے تحقیقات کروائیں تو یہ سچ ثابت ہوا ان پرنسپل کو عہدہ سے ہٹا دیا گیا سکول انتظامیہ میں تبدیلی کی گئ بعد میں پتہ چلا کہ وہ محترمہ بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں . ایسے نجانے کتنے واقعات ہوں کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پہ ٹوٹے ہوئے لوگوں کا معاشرہ بنتا جا رہا ہے امید و حوصلہ سے ہمت بڑھانے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے ٹانگ کھینچنے اور اذیت دینے میں لذت محسوس کرنا ایک بیمار ذہن کی عکاسی کرتا ہے اور یقینا تعلیم کا شعبہ اور اساتذہ بھی اسی طرز زندگی کی زد میں ہیں . والدین سے یہی استدعا ہے کہ ایسے میں اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اعلی تعلیمی ادارے آپ کے بچے کے اچھے اخلاق اور تعلیم وتربیت کے ذمہ دار نہیں بن سکتے ،

آپ کی اولاد آپ کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے بچوں کے رویہ پہ نظر رکھیں کسی معمولی تبدیلی کو بھی نظر انداز نہ کریں فورا نوٹس لیں اس کے تعلیمی نتائج سے کہیں زیادہ اہم اس کی ذہنی صحت ہے ،اس پہ اتنا بوجھ ڈالیں جتنا وہ اٹھا سکے اسے کتابیں رٹوانے کی بجائے زندگی گزارنے کی مہارتیں سکھایئے اسے مضبوط انسان بننے میں مدد کریں اس کے لئے اسے صحیح عقیدہ اور اس عقیدہ پہ یقین سکھایئے اسے صرف ظاہر پہ نہیں باطن کی طاقت پہ بھروسہ سکھایئے ، اس کی صحبت اس کے دوست اس کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں سب آپ کے علم میں ہوں ، کوئ غلطی کر لینے کی صورت میں اسے تنہا نہ چھوڑیں ، استاد ادارے طالب علم انتظامیہ کسی بھی جانب سے کسی شکایت کو نظر انداز نہ کریں فورا نوٹس لیں سکول۔انتظامیہ سے ملیں اساتذہ سے ملیں پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں بات رکھیں جب تک مسئلہ حل نہ ہو جائے بالکل خاموش نہ بیٹھیں بلا شبہ اچھے اور محنتی اساتذہ اب بھی موجود ہیں اچھے ادارے بھی ہیں جو طالب علموں کی تربیت کے لئے فکر مند بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے مخلص اساتذہ کی تعداد اب بہت محدود ہے لہذا اونچے ناموں اور زیادہ فیسوں والے اداروں میں ڈال کے مطمئن نہ ہو جائیں بلکہ اپنی نگران ہونے کی ذمہ داری احسن انداز میں ادا کیجیے .

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.