گھر تو مرد بساتا ہے - عفیفہ ورک

عورت ہر ممکن قربانی دے کر حتیٰ کہ اپنی ذات تک کی نفی کرکے گھر کو گھر بناتیہے، اسے اپنا وقت دے کرسجاتی سنوارتی ہے مگر اسے بسانے کے لئے جو دل گردہ چاہئے وہ تو مرد کے پاس ہے
خواتین کے حق میں آواز اٹھانے والے لوگ اکثر اس حد تک متعصب ہو جاتے ہیں کہ گمان ہونے لگتا ہے اب مردوں کے حقوق کے لیے بھی کوئی تحریک چلانا پڑے گی .

اولاد کی خوشی بھی اور معاشی بوجھ کے بڑھ جانے کا ملا جلا احساس صرف ایک مرد ہی سمجھ سکتا ہے۔ عورت ذات کی مظلومیت پر اکثر ایسی تحریریں دیکھنے کو ملتی ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس دنیا میں تمام تر مسائل کی اصل وجہ صرف اور صرف مرد ذات ہی ہے چاہے باپ ہو ، بھائی ہو، شوہر ہو، سسر ہو ہر روپ میں اس نے ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے اس نے اپنے زیرسایہ اور بقول خواتین کے حقوق کے چند علمبرداروں کے ”ماتحت“ خواتین کو تنگ ہی رکھنا ہے اکثر اوقات تو اس بارے اس قدر زوروشور سے آواز اٹھائی جاتی ہے کہ خواتین کے حقوق کی تحریک کے آگے مردوں کے حقوق کس قدر محدود معلوم ہونے لگتے ہیں ہمارے ہاں خاندانی نظام بارے ایک ایسا اہم سوال جس بارے ہم اکثر سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے یا پھرا س کے جواب بارے ذاتی پسند یا ناپسند بارے جانبدار ہوکر رائے دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ ”اصل میں گھر بساتا کون ہے؟“ وہ گھر جو اچھے برے موسم میں سب کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔
قطع نظر اس کے کہ چھوٹا ہے یا بڑا سب کے سر چھپانے اور سستان کے کام آتا ہے وہ واحد جگہ جہاں معاشرے کے سامنے اخلاقیات کا دکھاوا کرنا پڑتا ہے نہ دفتری قوانین لاگو ہوتے ہیں ہر بندہ اپنے گھر کا شہنشاہ اور گھر اس کی سلطنت ہے وہ گھر جہاں وہ گھر جہاں کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے کی مکمل آزادی ہے۔

اس گھر کو بسانے کا کریڈٹ ایک مرد کو دے دیا جائے تو یقینا معاشرے کی اکثریت اس بات پر شکوہ کناں ہوکر اس ظالم مردوں کے سماج کو کوسے گی کہ کس طرح ایک معاشرہ خواتین کا کریڈیٹ اٹھاکر مردوں کی جھولی ڈال دیتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک عورت کی ساری زندگی اپنے گھر کے گرد گھومتی ہے اس کے تمام تر خواب اور ان کی تعبیریں اس کے گھر سے شروع ہوکر گھر پر ہی ختم ہو جاتی ہیں کس ککمرے میں کیسے پردے لگیں گے، کون سے کمرے میں کیا چیز ہوگی کون سی چیز فیشن کے مطابق ہے کون سی نہیں گھر کا پینٹ کیسا ہوا، لان میں پودے کون سے ہوں، کیسا فرنیچر ہو حتیٰ کہ مرد کے کپڑے کس الماری میں ہوں گے اور شام کو گھر واپس آکر مرد جوتے گھر کے کس کونے میں رکھے گا یہ سب اختیارات صرف اور صرف گھر کی عورت کے پاس ہے ایسے معمولات میں خواتین اکثر ایسے معروف ہوتی ہیں کہ اپنی ذات تک کی نفی کر بیٹھتیں ہیں۔ تپتی دھوپ میں سائبان بن کر اہل خانہ کے لئے فرائض سر انجام دیتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے یہ عورت کی خدمات کا اعتراف ہی تو ہے کہ لوگ اس معقولے پر صدق دل سے یقین رکھتے ہیں اور یقین مانیے ایک عورت کو اپنی قربانیوں کے بدلے اس اعتراف سے بڑھ کر کچھ چاہئے بھی نہیں .

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کا مسئلہ، مرد و خواتین کیا کریں؟ محمد عامر خاکوانی

مگر میرا اصل موضوع یہ ہے کہ بے شک گھر کو ایک عورت ہی گھر بناتی ہے مگر اس گھر کو بساتا مرد ہے۔ تصور کیجئے ایک مرد دفتر جانے کے لئے نکل رہا ہے ابھی ایک پاﺅں ہی باہر دہلیز پر رکھا ہے کہ پیچھے سے آواز آتی ہے © © © © © © یہ بجلی کے بل کی آخر تاریخ ہے جمع کرواتے ہوئے چلیے گا“ جی بہتر کہہ کر گھر سے نکلے تو دنیا کے بہترین ٹریفک کے نظام سے پالا پڑتا ہے۔ اکثر و بیشتر کو پندرہ منٹ کا سفر گھنٹوں کی کوفت میں مبتلا کردیتا ہے۔ ”سب سے پہلے میں“ کی ڈور کا اختتام اکثر گالم گلوچ اور ہاتھاپائی پر ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے دامن بچاکر نکلے دفتر میں قدم دھرتے ہی کسی ایسی کولیگ سے آمنا سامنا معمول کی سی بات ہے جس سے شدید خار ہے، ہر کسی کو اپنی جاب کے حساب سے سلسلہ وار سینئرز کو بھگتا پڑتا ہے، ڈانٹ کھاکر خود کو دنیا کا پرلے درجے کا تحمل مزاج ثابت کرنا ہوتا ہے۔ کوئی مزدور ہوتو شاہراہوں، چوکوں پر خود کو بکاﺅ مال کی طرح سجاکرفٹ پاتھ اس امید کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے کہ ممکن ہے کوئی کام مل جائے، کوئی سکیورٹی گارڈ، چوکیدار ہے تو آٹھ نو گھنٹے دفاتر، بنکوں اورسکولز کے باہربت بنے کھڑا بظاہر ڈیوٹی کر رہا ہوتا ہے مگر ذہن میں مخصوص خیالات گردش کررہے ہوتے ہیں، گھر کا کرایہ دیناہے ، بچوں کی فیس کیسے دینی ہے گھر میں راشن نہیں وغیرہ وغیرہ۔

منطق بھی یہی کہتی ہے ہر روز دوران ڈیوٹی ، جاب یا کاروبار پر مرد کو کئی ایسے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس پر خواتین کو آگاہ نہیں کیا جاتا حتیٰ کہ باہر کے معاملات پرمرد قتل ہو جاتے ہیں مگران کے اہل خانہ اس بارے پولیس کو کوئی مناسب معلومات نہیں دے پاتے کیونکہ مرد تو گھر میں ہمیشہ ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ دے رہا ہوتا ہے۔ پہلے والدین کی طرف سے مسلسل دباﺅ تعلیم مکمل ہوگئی، نوکری لگ گئے،اب شادی کرلو، ابھی اپنی شادی کے لئے اٹھایا گیا قرض چکانے کو ہی ہوتا ہے کہ گھر والے صبح شام ریمائنڈر دینا شروع کردیتے ہیں ”دیکھو اپنی شادی کرکے یہ مت بھول جانا کہ ابھی تمہاری چھوٹی بہن بھی بیاہنے والی ہے“ بچے ہو جائیں تو اخراجات ڈبل ، اولاد کی خوشی بھی اور معاشی بوجھ میں اضافے کا ملا جلا احساس صرف ایک مرد ہی سمجھ سکتا ہے سارا دن بھاگم بھاگ کے بعد جب کوئی مرد گھر واپس پہنچتا ہے وہی گھر جو محفوظ پناہ گاہ، سر چھپانے اور ستانے کی جگہ ہے، وہی گھر جہاں معاشرے کی اخلاقیات کالبادہ اوڑھنا پڑتا ہے نہ دفتری قوانین لاگو ہوتے ہیں جہاں مرد اپنے گھر والوں سے اپنے سو کاروباری اوردفتری مسائل و معاملات چھپاتا ہے صرف اس نیت سے کہ اس کے اہل خانہ پریشان نہ ہوں اسی گھر میں داخل ہوتے ہی چند روایتی معاملات پیش آتے ہیں جیب میں نسخہ رکھنے کے باوجود والدکی دوائیاں بھول جانا، ساس بہو کی روزمرہ لڑائی میں ماں کی الگ شکایتیں سنا، منہ پھلا کے بیٹھی بیوی کو الگ بہلاناپھسلانا،

یہ بھی پڑھیں:   صبر اور برداشت سے مکانو ں کو گھر بنائیں - بشریٰ نواز

بچوں کی سکول سے آنے والی شکایات سے لے کر گھر میں ہونے والے معمولی جھگڑے تک نپٹانا ، بچوں کے سکول کی فیس، کبل کابل، واش روم کے خراب بلب کی تبدیلی، چار پائیاں اوپر نیچے لانے لے جانے سے ”آج کیا پکانا ہے؟“ جیسے بنیادی مگر معمولی سوالات تک گھر کے اکثر و بیشتر ایسے کام ہوتے ہیں جو براہ راست نہ سہی بالواسطہ گھر کے مردوں پرمنحصر ہوتے ہیں۔ ممکن ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کماکر لانے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے کیونکہ وہ ا عصابی طورپر عورتوں سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ زندگی کے بہت سے فیصلوں میں خواتین جذبات سے کام لیتی ہیں مگر اپنی فیصلوں پر مرد سوچ بچار کے بعد قدم اٹھاتے ہیں مگر ہر مرد ہر وقت ایک سے مزاج میں نہیں رہ سکتا، ہر کسی کا سہارا بننے والے کو بھی سہارے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اہل خانہ خصوصاً بیوی کی جانب سے روایتی برتاﺅاس کو مشتعل کرسکتا ہے یا پھر نجی معاملات کو اس نہج پرلاسکتا ہے جہاں رشتوں کی ڈور ٹوٹنے کے قریب تو ہو مگر اس وقت خدا کی طرف سے مرد کو عطا کردہ سو پر پاورز کا م دکھاتی ہیں مرد ان نقاط پر کمپرومائز کرتے یا پیچھے ہٹنے پر تیار ہو جاتا ہے جذبات کی رو میں بہہ کر عورت جن پر ڈنٹ جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ عورت کمپروپائز نہیں کرتی ہمیشہ ساری قربانیاں مرد دیتا ہے لیکن اگر مرد بھی چھوٹی چھوٹی بات پر منہ بنالیں اور یہ توقع کریں کہ ان کی بیوی ان کی منتیں کرکے منائے یا شوہر اپنے ساس سسر کے بارے ویسے خیالات کا اظہار کرنا شروع کردے جو بیوی اس کے والدین کے لئے کرتی ہے تو معاملات انتہائی پیچیدہ ہو جائیں گے اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ بے شک ایک گھر کو عورت بناتی ہے مگر اس کو بساتا مرد ہی ہے

ٹیگز