خورشید ندیم صاحب کا تصور امت - محمد عرفان ندیم

خورشید ندیم صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں ’’تصور امت‘‘ کے متعلق اپنے پرانے مؤقف کا اعادہ کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے تصور کا کوئی سیاسی وجود نہیں بلکہ یہ سراسر ایک روحانی تصور ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہوا اس پر بھارت کے بیس کروڑ مسلمانوں، وہاں کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، اس کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی تقریبا خاموشی چھائی ہوئی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کا کوئی سیاسی وجود نہیں بلکہ امت اب جغرافیائی وحدتوں کی اسیر ہے اور یہی امت مسلمہ کا اصل تناظر یہی ہے۔

خورشید ندیم صاحب، صاحب مطالعہ اور دانشور شخصیت ہیں ، مذہب اور سماج ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، وہ ایک عرصے سے ا ن موضوعات پر لکھ رہے ہیں، ان کا اسلوب تحریر قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے، دلیل سے بات کرتے اور منطقی انداز میں اپنی بات کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔ محترم وجاہت مسعود نے کہیں لکھا تھا مجھے فخر ہے میں خورشید ندیم کے عہد میں زندہ ہوں۔ خورشید ندیم صاحب کی سنجیدہ اور دانشور شخصیت، دلیل و تہذیب کا استعارہ ہے، کوئی وجہ نہیں کہ فکری و نظریاتی اختلات کے باوجود کوئی صاحب شعور محترم وجاہت مسعو د کی بات سے اتفاق نہ کرے۔ ان کے اعتراف عظمت کے باوجود، ان کی فکر سے اختلاف تو بہر حال کیا جا سکتا ہے، خورشید ندیم صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی لٹریچر میں ان کا مطالعہ اور ان کی فکر ایک خاص سطح پر جا کر رک جاتی ہے۔ جس طرح کسی فرد کی سوئی کسی خاص مسئلے میں ایک جگہ پر جا کر ٹک جاتی ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور سمت دیکھنے کا روادار نہیں ہوتا، بعینہ خورشید ندیم صاحب کا مذہبی مطالعہ اور افکار بھی ایک نکتے پر جا کر رک گئے ہیں۔ اب وہ تمام مذہبی معاملات اور سوالات کو اسی فکر اور مطالعے کے تناظر میں دیکھتے ہیں، اس فکر کی بنیاد پر جب وہ مذہبی تصورات اور سوالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو متوازن تجزیہ پیش نہیں کر پاتے۔

اپنے حالیہ کالم میں انھوں نے ’’تصور امت‘‘کے ضمن میں جو تجزیہ پیش کیا ہے، وہ بھی اسی فکر اور رویے کا شاخسانہ ہے۔ پہلی بات یہ کہ ہندوستان کے بعض مذہبی راہنماؤں کی طرف سے انڈیا کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ اجمیر شریف کے گدی نشین کی طرف سے بیان جاری ہوا اور مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے کی دعوت دی گئی۔ جماعت اسلامی ہند نے بھی متعدد پریس ریلیز جاری کیں اور سخت الفاظ میں ان اقدامات کی مذمت کی گئی۔ بھارتی لوک سبھا کے اندر بھی اکبر الدین اویسی اور کچھ دیگر مسلمان ممبران نے مودی حکومت کی خوب خبر لی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے کسی قسم کے شدید ردعمل کے سامنے نہ آنے کی وجہ ان کی کچھ مجبوریاں ہیں، مسلمان وہاں اقلیت میں ہیں اور اس طرح کے کسی بھی قسم کے رد عمل کے جو نتائج نکل سکتے ہیں، مسلمان اس سے آگا ہ ہیں۔ اس لیے وہ معتدل اور حساس رویے کے اظہار پر مجبور ہیں۔ ان کی مجبوری اور حکمت عملی کو ان کی رضا مندی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ، نہ ہی اس تعبیر کی بنیاد پر امت کے سیاسی وجود کی نفی کی جا سکتی ہے یہی اصل تناظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چناروں کی وادی کی ایک شہزادی - فاطمہ طاہر

ان کا کالم پڑھنے کے بعد میری انڈیا کے چند صحافی دوستوں سے گپ شپ ہوئی تو انہوں نے بتایا انڈیا میں موجود مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اس حوالے سے کچھ حساس ہے کہ ان کی اپنی مجبوریاں ہیں، لیکن سیاسی و سماجی طبقے نے کھل کر اہل کشمیر کی حمایت کی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی اہل کشمیر کے حق میں آوازیں اٹھی ہیں اور سول سوسائٹی نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے۔ بقول ان کے کہ پاکستان کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر رہا۔ بظاہر جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ بھی محض دکھلاوا ہیں ورنہ اہل کشمیر کو اس سے کوئی ریلیف نہیں ملنے والا۔ جہاں تک بات ہے باقی دنیا کے مسلمانوں کی تو میرا نہیں خیال کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا ہوگا جہاں کے مسلمانوں نے کشمیراور اہل کشمیر کے دکھ درد کو محسوس نہ کیا ہو۔ لندن، نیویارک، آسٹریلیا غرض دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمان اہل کشمیر کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا اس با ت کا گواہ ہے۔ اور ایسا صرف کشمیر کے ایشو پر نہیں ہوا بلکہ حرمت رسول اور دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والوں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہی رد عمل سامنے آتا رہا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کا قضیہ اس پر شاہد عدل ہے۔

بعض اوقات ایک بات بالکل بدیہی اور واضح ہوتی ہے لیکن مخاطب کا ذہن اسے اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کے مخصوص ذہنی سانچے کے مطابق فٹ نہیں بیٹھتی اور اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے اس بات کو قبول کر لیا تو وہ اس مخصوص ذہنی سانچے سے باہر نکل جائے گا۔ بعض اوقات یہ جرائت اس لیے کی جاتی ہے کہ مخاطب اپنے حالات اور زمانے سے اس قدر متاثر ہوجاتا ہے کہ صحیح اور غلط کی پہچان ہی کھو دیتا ہے، اس کی اپنی علمی پختگی، اپنے موقف پر ثابت قدمی اور اپنے عقائد و نظریات پر تصلب زمانی تاثر کے بوجھ کے نیچے دب جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

خورشید ندیم صاحب اپنے پرانے مؤقف کے اثبات کے لیے اگر کوئی مضبوط علمی و عقلی دلیل لاتے تو ان کے مفروضہ امت کے تصور کو سہارا مل سکتا تھا۔ خورشید ندیم تک ہی کیا محدود آج ہر دوسرا فرد امت کے سیاسی تصور کی نفی میں پیش پیش ہے، بطور دلیل حالیہ کشمیر ایشو پر عرب ریاستوں کے ردعمل کو پیش کیا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے یہ صورتحا ل کا درست ادارک نہیں، مود ی کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ فوری یا کشمیر ایشو کے بعد کا نہیں بلکہ یہ سب چیزیں پہلے سے طے شدہ تھیں، طے شدہ معاہدوں کو منسوخ کرنا جبکہ دونوں طرف مفادات کی اجاری داری ہو اتناآسان نہیں ہوتا، ہمیں عرب ممالک کو کچھ مزید وقت دینا چاہیے اس کے بعد بھی اگر ان کی طرف سے اسی ردعمل کا ظہور ہوتا ہے تو پھر کوئی بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے۔ امر واقع تو یہ ہے کہ ہم بذات خو د مکمل طور پر بھارت کا تجارتی بائیکاٹ نہیں کر پائے ہمارے مختلف شہروں میں مندروں کی مرمت بھی جاری ہے توعرب ریاستوں کے لیے ہم اتنا کڑا معیار کیوں طے کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں امت کے سیاسی تصور کے منکرین کا مؤقف جدیدیت سے تاثر کی بنیاد پر کھڑا ہے، جدیدیت نے قومی ریاستوں کے وجود کو جو سند قبولیت بخشی ہے یہ اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ ماضی میں موجود امت کے تصور کو منہدم کر کے نئی بنیادوں پر ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور ظاہر ہے یہ عمل تجدد ناقابل قبول ہے۔ اس کے برعکس روایتی فکر قومی ریاستوں کے وجود کو تسلیم کرنے کے ساتھ امت کے سیاسی تصور (خلافت) کے وجود واحیاء کی بھی خواہاں ہے۔ ان دونوں نظام ہائے فکر میں بایں طور اتفاق ممکن ہے کہ دونوں ’’لیگ آف مسلم نیشن‘‘ طرز کے کسی ادارے کے وجود کو تسلیم کر لیں، اس ادارے کی حیثیت بیک وقت خلافت کی بھی ہواور اس میں ریاستوں کے انفرادی مفادات کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ اس طرح کے کسی نظام فکر پر اتفاق سے دونوں فریقین کے درمیان اختلاف کی نوعیت محض لفظی رہ جائے گی۔ جدیدیت کی پیدا کردہ ہر نئی فکر کو ہاتھوں ہاتھ لینے اور روایتی افکار کو بیک جنش قلم نظر انداز کر دینے کا رویہ قابل افسوس ہے۔ ہمارے لیے بہتر وہ ہے جو اسلاف نے چھوڑا اسی میں ہماری بھلائی اور اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.