بھارت بھی معاشی بحران کی زد میں - پروفیسر جمیل چودھری

ہم پاکستانی معیشت کی آہستہ روی کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ کاروبار کے بیٹھ جانے کی باتیں اکثر پریس میں آتی رہتی ہیں۔ بجٹ خسارے، تجارتی خسارے اور ٹیکس کمی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ٹیکسوں سے آمدنی بڑھانے کی ایک سال کے اندر دوسکیمیں لاچکے ہیں۔ لیکن معیشت پھر بھی سنبھل نہیں رہی۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں اتنے برے معاشی حالات کبھی نہیں دیکھے۔

ایسے ہی برے معاشی حالات اب بھارت میں بھی آچکے ہیں۔ معیشت وہاں بھی کافی عرصے سے سست روی کا شکار ہے۔ راجیو کمار جو ایک سرکاری تھنک ٹینک کے سربراہ ہیں، ان کے مطابق موجودہ بھارتی بحرانی کیفیت گزشتہ 70 سالوں میں سب سے زیادہ شدید ہے۔ چیف اکنامکس مشیر سبرامینین نے لینڈ اور لیبر کے شعبوں میں بنیادی تبدیلیوں کی تجاویز دی ہیں۔ مجموعی طورپر مودی حکومت کے مشیر اسے معاشی سلو ڈاؤن کے بجائے معاشی بحران کہہ رہے ہیں۔ بھارتی معیشت دان جو اپنی معیشت کو سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھنے والی معیشت کہا کرتے تھے، اب معاشی بحران کو تسلیم کر رہے ہیں۔ 70 لاکھ نئے روزگار کے سالانہ مواقع پیدا ہونے کے بجائے اب سالانہ 10 لاکھ روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ نومبر2017ء میں 2 سال پہلے MOODYS (معاشی جائزہ کمپنی) نے بھارت کی ریٹنگ میں اضافہ کیا تھا۔لیکن اب2019ء میں بھارت کی شرح ترقی کو7.5 فیصد سے کم کر کے 6.2 فیصد پر لے آئی ہے۔ اب بھارت سب سے زیادہ تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک نہیں ہے۔

لوگ اور معیشت دان یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ بھارت میں یہ برے حالات تیزی سے کیوں آئے؟ بہت سی صنعتوں اور کاروباروں میں حالات کو بگڑنے کی واضح مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ Cafe Coffee Day جو کافی فروخت کرنے والا سب سے بڑا سٹور تھا، وہ اب بند ہوگیا ہے۔ اپنی بربادی کی جو وجہ سٹور والوں نے بتائی، وہ قرضوں اور ٹیکس والوں کی زیادتیاں ہیں۔ جتنا ٹیکس اس کافی سٹورسے سرکار لینا چاہتی ہے، یہ اداکرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ ان کے نزدیک بند کرنا ہی مسئلہ کا حل تھا۔ایسے ہی پاکستان کی طرح بھارت میں گاڑیاں بنانے والوں کے حالات بھی خراب ہو چکے ہیں۔ اس صنعت کے لاکھوں لوگ بےروزگار ہو چکے ہیں۔گاڑیاں خریدنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بھی ملکی گاڑیوں کی تیاری پر ٹیکس لگنے کی وجہ سے کاروں کی منڈی سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔ کاروں کی درآمدات بھی کم ہوچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بری سوچ بری نظر کا طعنہ اور امریکہ و یورپ کے چشم کشا حقائق - شمس الدین امجد

2 ماہ پہلے جب بھارتی وزیر خزانہ نے نئی ٹیکس تجاویز پیش کیں تو اس پر اتنی تنقید ہوئی کہ متعلقہ وزارت کو کئی ٹیکس تجاویز واپس لینا پڑیں۔ یہاں صرف 2 شعبوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔ بہت سے دیگر شعبوں کے حالات بھی بہت خراب ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت اب معاشی تنزلی کا شکار ہے۔ کاروباری لوگوں کا اعتماد پاکستان کی طرح وہاں بھی ختم ہو رہا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری گزشتہ 15 سالوں کی پست ترین سطح پر آ چکی ہے۔ ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے خوف و ہراس جیسے پاکستان میں ہے، یہی صورت حال بھارت میں بھی ہے۔ نئے پروجیکٹ میں پرائیویٹ سرمایہ کاری بھارت میں بالکل نہیں ہو رہی۔ پاکستان کی طرح بھارت کی بھی سب سے بڑی درآمد تیل ہے، جو زیادہ تر خلیج فارس کے ملکوں سے آتا ہے۔ جب 2014ء اور 2016ء کے درمیان آئل کی قیمتیں کم ہوئیں تو حکومت نے G.D.P میں تیز رفتار اضافے کا شور ڈال دیا، یوں اصل اور بنیادی معاشی مسائل چھپ گئے۔ اور پھر مودی کا ایک اور قدم بھی معیشت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ایک ہی دن میں تمام بڑے بنک نوٹ اٹھا لیے گئے، اس سے بہت سی اشیاء کی رسد میں رختہ پڑا۔ زراعت، تعمیرات اور صنعتوں میں اشیاء سازی پر برا اثر ہوا۔ اور ملک میں روزگار کے مواقع کافی کم ہوئے۔ سوچے سمجھے بغیر انقلابی اقدامات معیشت کے لیے کبھی بھی مثبت اثرات کے حامل نہیں ہوتے۔ پھراس کے فوری بعد بھارتی حکومت نے بھی G.S.T نافذ کر دیا۔ اس سے چھوٹے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ حکومت پاکستان اور کاروباری لوگوں کا G.S.T پر جھگڑا اب تک جاری ہے۔ بھارت میں بھی اب یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ان تمام اقدامات سے بھارتی معیشت بری طرح متاثر ہوئی اورتیزی سے سست روی کا شکار ہوئی۔

پاکستان اور بھارت میں ٹیکس کلچر ایک ہی طرح کا ہے۔ ٹیکس ضرورت کے لحاظ سے کم اکٹھا ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت جسے اکثر کیش کی کمی کا سامنا رہتا تھا۔ اس وقت حکومت نے سکھ کا سانس لیا جب چند دن پہلے24 ارب ڈالر سنٹرل بنک سے مل گئے۔ لیکن یہ قرض کب تک چلے گا۔ صنعت کار اب بھی شور ڈال رہے ہیں کہ ان پر لگے ٹیکس ختم کئے جائیں۔ Buy Indian کا شور بھارت میں کئی سال سے ہے لیکن اس شور کے باوجود چینی اشیاء کی طلب گزشتہ 5 سال میں 2 گنا بڑھ گئی ہے۔ہر شخص سستی اور معیاری چین کی بنی ہوئی اشیاء خریدنا چاہتا ہے۔ اور یہ کلچر پوری دنیا میں بن چکا ہے۔ اب تک چین کی معاشی فلاسفی کو کوئی بھی نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی اس کا مقابلہ کر سکا ہے۔ کرۂ ارض کے لوگ چین کے خلاف بولتے تو ہیں لیکن اشیاء چین کی ہی خریدتے ہیں۔ عوام کو تو چین کی سستی اشیاء سے غرض ہے۔ Buy Indian کا نعرہ بھارت میں مقبول نہیں ہو سکا۔ بھارت اس وقت ہر بھارتی باشندے کے لیے6000 روپے کے برابر چین کی بنی ہوئی اشیاء خرید رہا ہے۔ جیسے پاکستان کی مارکیٹیں چینی اشیاء سے بھری ہوئی نظر آتی ہیں، یہی صورت حال بھارت اور امریکہ میں بھی ہے۔ اس دنیا میں معاشی لحاظ سے چین کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیرمیں کرفیو: پاکستان کی کاوشیں بے ثمر کیوں؟ علی حسنین نقوی

بھارتی برآمدات2011ء کی مقدار پر کھڑی ہیں۔گزشتہ کئی سالوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت اپنی سوا ارب آبادی اور باقی دنیا کے لئے پیداوار میں کوئی خاص اضافہ نہیں کر رہا۔ صرف انڈین فلمیں دنیا میں مقبول ہو رہی ہیں۔ اگرچہ اب بھارتی سنٹرل بنک نے سود کی شرح میں کمی کر دی ہے اور اشیاء سازی کی لاگت میں کمی کی کوشش کی ہے۔ لیکن بھارتی پیداوار میں تو تب اضافہ ہوگا جب عوام میں اشیاء کی طلب بڑھے گی اور عوام کے پاس خریدنے کے لئے رقم ہوگی۔ بھارتی رقم تو بڑی مقدار میں مسلح افواج کی تنخواہوں اور اسلحہ کی خریداری پر خرچ ہو جاتی ہے۔ اب بھی60 ارب ڈالر کے فرانسیسی رافیل طیارے خریدے جا رہے ہیں۔ ایسے ہی آرڈر دیگر دفاعی شعبوں کے بھی ہیں۔ بھارتی لوگوں کو تو سہولت تب حاصل ہوگی جب بھارتی دفاع کا بجٹ بڑے پیمانے پر کم ہوگا۔معاشی بحران نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی اسی طرح کا ہے۔