ملاقاتیں بڑھائیں، ملنا آسان بنائیں - محمد عاصم حفیظ

آج ہم ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں کہ جہاں رابطہ انتہائی آسان اور ملاقات اتنی ہی مشکل ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا کے باعث آپ کے رابطے میں ہزاروں لوگ ہوتے ہیں، کئی طرح کے گروپس کے ممبر ہوتے ہیں اور ہم خیال آپ کو فالو کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کی تحریر، پوسٹ، ویڈیو یا تصویر وغیرہ بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ لیکن آج کا المیہ بھی یہی ہے کہ اکثر کسی سے ملاقات ہو تو وہ بتاتا ہے کہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے آپ کے ساتھ کئی سالوں سے منسلک ہوں، لیکن ملاقات پہلی مرتبہ ہوئی۔ آپ کو خود بعض شخصیات سے اتنا عرصہ ملاقات نہ ہونے کا دکھ رہتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ساِئبر رابطے انتہائی اہم ضرور ہیں اور انہیں مفید بنانا جا سکتا ہے لیکن " ملاقات" کا کوئی متبادل نہیں۔ ایک دوست کا جملہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ " ملاقات ، کرامات ہے" یعنی آپ کسی کے بارے بہتر صرف ملاقات میں ہی جانتے ہیں اور اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مواد کی بھرمار کے باعث اب یہ بھی یکطرفہ پیغام رسانی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ فیڈ بیک اور جواب کا وقت ہی نہیں ملتا۔ واٹس ایپ ، فیس بک پر ایسے کئی مفید گروپس بن چکے ہیں جن میں ہم خیال لوگ ہوتے ہیں، انتہائی کارآمد تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ اکثر گروپ ممبرز کے ملنے کی بات بھی چلتی ہے لیکن عملی طور پر بہت کم گروپس وغیرہ ملاقات کا اہتمام کر پاتے ہیں۔ ہمیں اس کی وجوہات کو جاننا اور حل کی طرف بڑھنا ہو گا۔ اہل علم کی محفلیں، سکالرز کی مجالس، حلقہ جات اور سٹڈی فورمز وغیرہ شخصیت سازی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر معلومات کی بھرمار اپنی جگہ لیکن جو کچھ کسی تجربہ کار شخصیت کے ساتھ گزرے چند لمحات میں سیکھا جا سکتا ہے، وہ شاید لمبے عرصے کے مطالعے اور تحقیق سے بھی ممکن نہیں ہے۔

یقین مانیں ہمارے عہد کی ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہمیں وہ محفلیں اور مجالس نہیں ملتیں جو کہ ہم سے پہلی نسل کو میسر تھیں جہاں اظہار خیال ہوتا اور تجربہ کار لوگ اپنے رائے کا اظہار کرتے۔ دراصل ڈیجیٹل دور کے باعث معاشرے کی ہیت ہی بدل گئی ہے۔ اب ہمیں اس نئے دور میں جینا ہے۔ شہروں نے گھر چھوٹے کر دیے ہیں، مہنگائی نے وسائل محدود کر دیے ہیں، اخراجات نے میل ملاقات کی خواہشوں کا گلہ گھونٹ دیا ہے، گھریلو ضروریات دوست احباب، ہم خیال لوگوں سے ملنے ملانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اس حوالے سے نوجوان نسل اور موٹیویشنل اسپیکرز نے پروفیشنل حل نکال لیا ہے جس پر اب دیگر شعبہ جات سے منسلک افراد کو بھی غور کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ناک بند کرنے سے کیا تعفن ختم ہو جاتا ہے؟ تنویر شہزاد

ہمارے ہاں عام طور پر دعوت کرنے، دعوت پر بلانے اور دعوت ملنے پر ہی ملاقات کے لئے جانے کا رواج ہے۔ انتہائی بے تکلف دوست اور چند قریبی رشتہ دار ہی بن بلائے مہمان بن کر تشریف لانے کی جرات کرتے ہیں اور شاید اب یہ کلچر بھی ختم ہی ہو رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ ہر ایک کو نہیں بلا سکتےاور نہ ہی ہر دعوت پر جا سکتے ہیں۔ ٹیچرز، پروفیسرز، وکلاء، آفس ورکرز اور ایسے ہی تنخواہ دار طبقے کے افراد کے لیے دوستوں کے ایک گروپ کو مدعو کرنا، کھانے کا انتظام، مناسب بیٹھک کا اہتمام اب اتنا آسان نہیں رہا۔ گھر چھوٹے ہیں اور اخراجات زیادہ۔ کسی ایک کے لیے ہوٹل یا ہال کا خرچہ افورڈ کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ اسی لیے کوئی ہمت کرنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ اس مسئلے کا حل نوجوان نسل نے نکالا ہے۔ کیا آپ کو علم ہے کہ لاہور، کراچی، اسلام آباد جیسے بڑے شہروں سمیت اب تو چھوٹے شہروں میں ہر ویک اینڈ پر ایسے میٹ اپ ہوتے ہیں جن میں ممبران رجسٹریشن کرا کے یا پھر ٹکٹ خرید کر شرکت کرتے ہیں۔ موٹیویشنل اسپیکرز اور چند مصنفین نے بھی یہ طریقے اپنایا ہے کہ وہ کسی بھی ہوٹل میں "ملاقات" کا اہتمام کرتے ہیں، لوگ ایک خاص تاریخ تک رجسٹریشن کرا لیتے ہیں جس میں ہر کوئی اپنا خرچہ اٹھاتا ہے اور انتظامات ہوٹل والے کرتے ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ کہ ایک اچھے ماحول میں کسی پر بھی بہت زیادہ ذمہ داری ڈالے بہترین ملاقات کا اہتمام ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب کے اسٹارز بھی مختلف شاپنگ مالز، ہوٹلز یا ہالز وغیرہ میں ایسی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہی ماڈل ٹیچرز، اہل علم، شاعر، پروفیسرز، وکلاء اور دیگر کم آمدنی والے طبقات باآسانی اپنا سکتے ہیں۔

یہ خواہش رکھنا کہ کوئی ایک ہی میزبان بنے اتنا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گروپس کی ملاقات کی خواہش پوری ہی نہیں ہو پاتی۔ سب لوگ ہی برسر روزگار ہوتے ہیں اور ان کے لیے اپنے حصے کی رقم کوئی بڑا مسئلہ بھی نہیں ہوتا۔ یقین مانیں اگر یہ روایت پڑ جائے تو انتہائی مفید رہے گی۔ اگر آپ کسی خاص موضوع کے استاد ہیں، اسی سبجیکٹ کے کوئی سینیئر پروفیسر ملاقات کا اعلان کرتے ہیں تو وہاں جانا کسی اعزاز سے کم نہیں ہوگا اور اس کے لیے اگر اپنا خرچہ خود برداشت کرنا پڑے تو بخوشی قبول کر لیں گے کیونکہ شخصیت میں نکھار، رابطے اور سیکھنے کے لئے یہ انتہائی ضروری ہوگا۔ اسی طرح ہم خیال سکالرز ، کسی خاص موضوع کے ماہرین وغیرہ بھی اکھٹے ہو سکتے ہیں۔ اگر زیادہ وقت کے لیے بیٹھنا مقصود ہو تو کسی فارم ہاؤس یا تفریحی مقام کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔ نامور کالم نگار جاوید چوہدری، اینکر پرسن سید بلال قطب، ناول نگار عمیرہ احمد وغیرہ تو اس سے بھی بڑھ کر غیر ممالک کے چند روزہ تفریحی ٹورز کا اہتمام کر رہے ہیں جن میں بہت سے لوگ بخوشی شریک ہوتے ہیں، اپنا اپنا خرچہ اٹھاتے ہیں اور ان سکالرز سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا موبائل فون واقعی خفیہ ریکارڈنگ کرتے ہیں؟

"ملاقاتیں بڑھانا اور ملنے کو آسان بنانا" ایک مشن ہونا چاہیے۔ بس ذرا سا طریقہ کار بدلنے کی ضرورت ہے۔ صرف مہمان بن کر جانے کی خواہش یا سب کے میزبان بننے کی تمنا اگر پوری نہیں ہو رہی اور اسی چکر میں ملاقاتیں نہیں ہو رہیں یا ملنے میں مشکل پیش آ رہی ہے تو پھر یہ والا طریقے آزمانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ گروپ میں اناؤنس کریں، کسی ہوٹل یا ہال کا پتہ دیں، پر ہیڈ خرچہ ہو اور باآسانی ملاقات کے حسین لمحات سے استفادہ کریں، کسی ایک کو میزبان بنانے کی خواہش اب مناسب نہیں۔ اگر کوئی مان بھی جائے گا تو شاید ایک بار، اگلی بار کوئی دوسرا نہیں ملے گا۔ اسی طرح ہر ملاقات میں ہر ایک کا آنا بھی کچھ اتنا ضرور ی نہیں ہوتا۔ آغاز میں کچھ مشکلات آئیں گی لیکن جب ان ملاقاتوں کے مفید ہونے کی بات پھیلے گی تو یقینا بہت سے ہم خیال ان کا انتظار کیا کریں گے۔ ملاقات عام ہونی چاہیے، ملنا جلنا آسان ہونا چاہیے، اسی سے کرامات پھوٹیں گی، آپ کے لیے نئی معلومات ہوں گی، بہت سی پیشکشوں اور نئی راہوں کا پتہ چلے گا۔ ذاتی و اجتماعی مسائل حل ہو ں گے ، رابطہ مضبوط ہوگا اور حلقہ احباب میں اضافہ ہوگا۔