مسئلہ کشمیر: جوش، حکمت اور مصلحت کا توازن - وقاص احمد

تبصروں، آراء اور نعروں کے جھمگٹے میں عوام الناس اکثر مختلف انتہاؤں کے درمیان کنفیوژن کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں۔ افراد بہرحال مختلف نظریات اور طبیعت کے حامل ہوتے ہیں جس کا اظہار ان کے قول و عمل سے ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی جلسوں میں تقاریر سے لے کر بند کمروں میں انتہائی پرمغر، عقلی و منطقی مشاورت تک ایک ہی مسئلے کے کئی حل ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ کو اس کی حقیقی اہمیت اور اس کے حل کو بین الاقوامی قوانین، داخلی و خارجی زمینی حقائق، اپنے اور دشمن کی طاقت و استعداد، صورتحال کی نزاکت، مجموعی فائدے اور نقصان کے تجزیہ کی روشنی میں ضرور دیکھنا چاہیے۔ یہ شریعت کا حکم بھی ہے، اور سیرت النبیﷺ اور سیرت صحابہؓ میں ان حوالوں سے کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ان سب اجزاء کے ساتھ سب سے بڑھ کر جوش ایمان اور شرعی ذمہ داری کو بھی شامل کیا جائے تو عزیمت سے لیکر شرعی رخصت تک مختلف جوابات نکل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں ہونی چاہیے کہ ظاہر میں ایک خاص انداز اور بیانیہ رکھ کر مخالف کو دوسرے زاویوں سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے یا کسی غلطی پر اکسایا بھی جاسکتا ہے۔ لیکن فی الحال سب کچھ گڈمڈ لگ رہا ہے۔

اوپر بیان کی گئی ساری باتوں کا اطلاق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ہوتا ہے۔ جیسے حدیث ِ رسول اللہ ﷺ میں بتایا جاتا ہے کہ استطاعت و طاقت کے مطابق آدمی منکر کے خلاف عملی اقدام کرسکتا ہے۔ ورنہ زبان سے منکر کو روکنے کی کوشش کرے۔ اب عملی اقدام کی بھی دسیوں اقسام ہیں جو ایک معمول کے عمل سے لیکر عزیمت و قربانی کی عظیم مثال جیسی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح قولی اقدامات بھی درخواست گزاری سے لے کر مطالبے اور مطالبے سے لیکر سخت عوامی احتجاج تک ہوسکتے ہیں۔ بیک وقت کئی چیزیں قانونی اور شرعی ہوسکتی ہیں اور ایسی بھی جو ملکی اور بین الاقوامی قانون کے حساب سے غیر قانونی لیکن شرعی۔ سب چیزوں کا دارومدار ایمانِ حقیقی اور جذبہ ایثار و قربانی پر ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ اپنی فیملی کے ساتھ ہوں اور اپنے دیرینہ پڑوسی اور اس کی فیملی کو ڈاکؤوں کے ہاتھوں لٹتے اور بےتوقیر ہوتے ہوئے دیکھیں تو آپ اس صورتحال میں کس حد تک جاسکتے ہیں؟ اپنے آپ اور اپنی فیملی کو کس حد تک داؤ پر لگا سکتے ہیں؟ جتنے جوابات اس انفرادی صورتحال کے دیے جا سکتے ہیں، اس سے زیادہ کشمیر کی علاقائی صوتحال اور خطے پر اس کے اثرات کے تناظر میں ہو سکتے ہیں جس کے ساتھ کروڑوں مسلمان اور ارب سے زیادہ انسان جڑے ہوئے ہیں۔

دیکھیں! جوناگڑھ کے معاملے میں کیا ہوا؟ آبادی ہندو تھی، نواب مسلمان تھا۔ نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، ہندو عوام نے بغاوت کی، پاکستان نواب کی مدد کو نہیں پہنچ سکا۔ بھارت نے کنٹرول سنبھال کر ریفرنڈم کرا دیا۔ ہندوؤں نے بھاری اکثریت سے بھارت سے الحاق کے حق میں رائے دی۔ تھوڑے بہت احتجاج کے بعد پاکستان نے اخلاقی طور پر خاموشی اختیار کرلی۔ قاعدے کے طور پر پاکستان کو اس پر شدید احتجاج کر کے مسلمان نواب کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور پاکستان کی منظوری کو لے کر اسے عالمی فورمز پر چیلنج کرنا چاہیے تھا۔ کشمیر کا معاملہ نہ صرف جوناگڑھ ہی کی طرح پاکستان اور مسلمانوں کے حق میں جانا چاہیے تھا بلکہ کشمیر پر 1948ء کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جسے بھارت نے بھی تسلیم کیا، پاکستان اور کشمیریوں کے کیس کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت سے جنگ اور گھر کا محاذ - عظمی ظفر

موجودہ صورتحال پر آتے ہیں۔ بھارت نے آئین کی وہ شقیں جو ڈوگرہ راجہ اور شیخ عبداللہ کی طرف سے متنازع الحاق کی منظوری کی دستاویز میں موجود تھیں، اور جس کی بنیاد پر مقبوضہ کشمیر کی ایک جداگانہ حیثیت تھی، وہاں الیکشن ہوتے تھے، کشمیری حکومت اور پارلیمنٹ عملاً نہ بھی سہی مگر قانونی اہمیت تھی، سب ختم کر دیا۔ آئی ایس پی آر نے منطقی بات کہی کہ ہم آرٹیکل 370 اور 35-A کو ویسے ہی نہیں مانتے تھے۔ اصل میں ان شقوں کو منسوخ کرنے سے بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداوں کو مزید رسوا کیا اور شملہ معاہدہ بھی عملاً معطل کر دیا ہے۔ اپنی طرف سے کشمیر کی ایک متنازع علاقے کی تھوڑی بہت حیثیت بھی ختم کر دی اور کشمیریوں پر امن و امان کے نام پر گرفتاریوں اور کرفیو کے ذریعے زندگی مزید تنگ کر دی۔

اب ہم واپس ابتدائی سوال پر آتے ہیں کہ پاکستان اس تمام صورتحال میں مقبوضہ کشمیر کے لیے کس حد تک جاسکتا ہے؟ ہمیں اس سوال کے جواب میں جوش و جذبہ، ایمان و استقامت، حکمت و مصلحت، استعداد و اہلیت اور قانون و شریعت کی تمام بحثوں کو شامل کرنا چاہیے۔ تب جا کر ہم کسی مناسب، قابل عمل، حقیقت سے قریب ردّعمل کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔

ملکی سیاستدانوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، وزیراعظم، آرمی چیف، دفتر خارجہ کے اقدامات اور بیانات سے تو صاف واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر ہی ہر فورم پر بھرپور احتجاج کر کے بھارت کے ظلم اور نا انصافی کو اجاگر کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہا ہے۔ فوجی قوت کا استعمال صرف بھارت کی طرف سے پہل کی صورت میں ہے۔ جو بھارت میرے خیال میں کبھی نہیں کرے گا کیونکہ بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح کا مسئلہ بنے، خاص طور پر اس موقع پر۔ پاکستان کا اگلا قدم یہ ہے کہ بار بار نیوکلیئر جنگ کی بات کی جائے۔ نیوکلیئر کی بات میں کبھی کبھی جان بوجھ کر ابہام بھی پیدا کیا جائے تاکہ کم از کم دنیا خطرناک ماحول سے ہی خوف زدہ ہو کر بھارت پر کشمیر کے مسئلے کے حل کےلیے دباؤ ڈالے۔ نیوکلیئر جنگ، اس میں پہل، یا روایتی جنگ میں کسی مقام پر اس کے استعمال کی بات دہرانا ایک مناسب حکمت عملی ہے۔ اس سے نہ صرف دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول ہوگی بلکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے دفاع کے حوالے سے بھارت کو پیغام جائے گا۔ لیکن کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟ نہیں! بالکل نہیں! جوش و ایمان اور حکمت و مصلحت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو لازماً اگلا قدم اٹھانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی حکومت نے کشمیریوں کے زخم پر مرہم کی جگہ نمک رگڑ دیا ہے

کشمیریوں پر ظلم و ستم اور کرفیو کی بدمعاشی پر بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی عملاً غیر مؤثر آواز اور دباؤ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور فوج کو سوچنا ہوگا کہ حالات و صورتحال کے اگلے تقاضے کیا ہیں۔ ہمت و جرات کا اگلا قدم کیا ہے۔ کیا ہر چیز کو عرب ممالک کی طرح مال و تجارت، دنیاوی آرام و سہولت یا پابندیوں کے خوف کی روشنی میں دیکھنا پڑے گی؟ عزیمت کی طرف سفر کے بجائے صرف رخصتوں اور مجبوریوں کا سہارا لینا پڑے گا؟ نہیں! اگلی سطح کے مناسب قدم حکومت پاکستان کو ضرور اٹھانے چاہییں۔ راقم سمجھتا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی قرارداد ویسے ہی انڈیا نے ستر سالوں سے کوڑے دان میں پھینک رکھی ہے تو پاکستان اس کی رُو سے آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی سرحد کی حیثیت لائن آف کنٹرول کے بجائے سیز فائر لائن اور پھر اس کو بھی ختم کرنے کا اعلان کردے۔ پاکستان یہ منطقی اور قانونی مؤقف اختیار کرے کہ لائن آف کنٹرول کی اب کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔ یہ بات بھی دنیا اور بھارت کو باور کرادی جائے کہ پاک بھارت بین الاقوامی سرحد پر اگر کوئی محاذ کھولا گیا تو پاکستان پھر آخری گولی اور آخری سانس تک جائے گا۔ نیوکلیئر آپشن ویسے ہی موجود ہے۔ اس بات سے قوی امید ہے کہ دنیا کے مقتدر حلقے ششدر رہ جائیں اور نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ عملی اقدامات پر آمادہ ہوجائیں۔ اگلے قدم کے طور پر پاکستان یہ کہے کہ چونکہ آزاد کشمیر باقاعدہ ایک ریاست ہے جس کا اپنا صدر اور وزیراعظم ہے اور جس کی عوام سخت غصے اور پریشانی کی حالت میں ہے، اس لیے پاکستانی فوج آزاد کشمیر میں عوام کا غصہ اور غضب قابو میں نہیں رکھ سکتی اور نہ ان کو کسی راستے سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوکر خوراک و دوا یا کسی اور حوالے سے اپنے رشتہ داروں اور بھائیوں کی مددسے روکنا اس کے بس میں ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور خدشات کے بارے میں سوچنا بھارت اور دنیا کا کام ہے۔

یعنی حکمت اور منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ جوش ِایمان کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات کر کے بتدریج آگے بڑھنا ہوگا اور اس کام میں پہل پاکستان کو ہی کرنی ہے۔ تبھی ان بیانات اور نعروں میں کہ ’’کشمیر کے لیے آخری حد تک جائیں گے‘‘، یا ’’آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑیں گے‘‘، یا ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘، میں وزن آئے گا۔ عوام امیر وقت اور سپہ سالارِ وقت کی طرف دیکھ رہی ہے اور انہیں مختلف اوزان میں تول بھی رہی ہے۔