پاکستان، کشمیر اور فلسطین - محمد طارق خان

2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد سے اب تک پاکستان میں ایسے مذہبی گروہ یکدم سرگرم ہوگئے ہیں جن کے ہیڈکوارٹر یا شاخیں اسرائیل میں ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے سیاسی و سماجی گروہ اور شخصیات جن کی بنیاد ملحدانہ، سیکولر و لبرل ہے، یا پھر انہیں درپردہ امریکی، بھارتی یا اسرائیلی معاونت حاصل ہے.

انہوں نے بھی گاہے بگاہے اسرائیل کی حمایت کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا ہے، سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی فلور پر اسرائیل کی حمایت میں تقریریں بھی کیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارتی وزیراعظم اور مسلمانوں کے قاتل نریندرا مودی کو چند عرب ممالک کی کٹھ پتلی آمریتوں کی طرف اعلی ترین سویلین ایوارڈز دینے کی آڑ میں متذکرہ بالا گروہوں نے ایک بار پھر یہ شور و غوغا شروع کردیا ہے۔ اس بار "نیا جال لائے پرانے شکاری" کے مصداق ان کی بھونڈی منطق یہ ہے کہ اگر عرب کشمیر پر ہمارا ساتھ نہیں دیتے اور ہمارے دشمن کو اعزازات سے نوازتے ہیں تو پھر ہمیں بھی اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے اور فلسطینیوں کی حمایت سے دست بردار ہو جانا چاہئیے۔
ہوسکتا ہے کہ یہ بات جذباتی ذہنوں کو اپیل کرتی ہو، اس لئے ہمارے کچھ نادان دوستوں نے بھی کھلے بندوں اس طرح کی باتیں اور مباحث شروع کر دیئے ہیں۔
حالانکہ انہیں اس مسئلے کا ادراک ہی نہیں ہے،

اور نہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا یہ شور کہاں سے اٹھ رہا ہے، اور اس کے نتائج کیا ہوں گے؟
میرا ایسے دوستوں سے سوال ہے کہ ناجائز غاصب، نسل پرست، قاتل، جابر، ظالم اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لئے ان کے پاس چند عرب حکمرانوں کے بھارت کی طرف بڑھتے جھکاؤ کے علاوہ اور کیا توجیہ ہے؟ کیا اسرائیل ہمارا ہمسایہ ہے؟ کیا اسرائیل بہت بڑی منڈی ہے جس تک ہماری مال کی رسائی نہیں؟ کیا اسرائیل کچھ ایسا مال تیار کرتا ہے جو ہمیں دنیا میں کہیں اور مل ہی نہیں سکتا ؟ کیا اسرائیل ممکنہ طور پر ہم سے اتنا مال خرید سکتا ہے کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم یا کم ہوجائے؟ کیا اسرائیل سپر پاور ہے؟ کیا اسرائیل ہمارے دشمن کا دشمن ہے؟ کیا اسرائیل سے ہمارا کوئی خونی یا مذہبی رشتہ ہے؟ کیا جن ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کئے ہیں، مثلا اردن، مصر وغیرہ، وہ ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ گئے ہیں؟ کیا اسرائیل ان ملکوں کو قرض یا امداد دیتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے، اسرائیل سے نہ ہماری سرحد ملتی ہے، نہ نظریات، نہ مفادات۔

اسرائیل ہمارے کھلے اور چھپے ہر دشمن کا دوست ہے۔ بھارت کے ساتھ اسرائیل کے عشروں پرانے اسٹریٹیجک تعلقات ہیں، اسرائیل بھارت کو اسلحہ اور دیگر ٹیکنالوجی فراہم کرتا اور کشمیریوں کی نسل کشی کے لئے بھارتی اداروں کو تربیت دیتا ہے، بالاکوٹ پر بھارتی فضائیہ نے جو بم گرائے اس کا گائیڈنس سسٹم بھی اسرائیل کا فراہم کردہ تھا۔ اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر ہماری ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی سازش بھی ایک سے زیادہ بار رچا چکا ہے، تاہم خفیہ معلومات قبل از وقت طشت از بام ہونے کے سبب اس کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے۔ اسرائیل کو جن مسلم ممالک نے تسلیم کر رکھا ہے وہ بھی اسرائیلی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں، جو ممالک اسرائیل کے پڑوسی ہیں ان سب کے ساتھ اسرائیل کا کوئی نہ کوئی تنازعہ ہے اور ان کے کچھ علاقوں پر اسرائیل کا غیر قانونی اور غاصبانہ قبضہ ہے، ان تمام ممالک سے اسرائیل باقاعدہ جنگ بھی کرچکا ہے۔ تاہم امریکی دباؤ پر ان ممالک کو طوعا و کرہاً اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑا۔ مگر اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لئے امریکہ نے ان ممالک سے جو وعدے کئے تھے وہ شاذ ہی پورے ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناکام سیاسی نظام اور بدقسمت عوام!محمد اکرم چوہدری

ان سب عرب ممالک میں، جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا، آمریتیں اور شخصی بادشاہتیں مسلط ہیں، کسی ایک ملک میں بھی جمہوریت نہیں، عوام کی غالب اکثریت اسرائیل مخالف ہے، تاہم آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے لوگوں کے پاس اپنے رائے کا اظہار کے مواقع میسر ہی نہیں۔
اسرائیل اپنے قیام کے دن سے ہی ایک غیر قانونی اور ناجائز ریاست ہے، جس کی بنیاد غاصبانہ قبضے اور نسل پرستانہ پالیسیوں پر ہے، عصر حاضر کے تمام بین الاقوامی ادارے اسرائیل اور اسرائیلی نسل پرستانہ غاصبانہ قبضے کے خلاف قراردادیں اور قوانین منظور کر چکے ہیں۔

اسرائیل کو عالمی قوانین اور رائے عامہ کا ذرا بھی پاس نہیں، اسرائیل دنیا بھر میں دہشت گردی کرواتا ہے، سیاسی مخالفین کو قتل کرواتا ہے۔یہاں تک کہ یو اے ای، ملائیشیا سمیت دنیا بھر میں فلسطینیوں اور اسرائیل مخالف رہنماؤں کو قتل کروا چکا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ ستر سالوں میں لاکھوں فلسطینیوں کو قتل کیا ہے، لاکھوں کو ملک بدر کیا ہے، اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں واپسی کی اجازت بھی نہیں دیتا، ہر روز مزید فلسطینی علاقوں پر قبضہ کو بڑھاتا ہے، ہر روز کئی فلسطینوں کو بےگھر، گرفتار،زخمی اور قتل کرتا ہے اور اس طرح عالمی قوانین کے مطابق اسرائیل 70 سالوں سے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور فلسطینوں کی نسل کشی کا مرتکب ہے، جس پر اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی موجود ہیں۔ لاکھوں فلسطینیوں غزہ اور مغربی کنارے پر محصور ہیں، ان کی بجلی، پانی، خوراک، ادویات ہر چیز پر اسرائیل رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے، فلسطینی علاقوں کے گرد دیواریں، باڑھ اور چوکیوں کے ذریعے ان کی نقل و حمل محدود کر دی گئی ہے، ہزاروں فلسطینی اسرائیل عقوبت خانوں میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں، لاکھوں معذور اور اپاہج ہو چکے ہیں۔ یہ اسرائیل کی بھیانک اصلیت کی محض ایک جھلک ہے۔

اسرائیل دنیا کا واحد ملک جس کی کوئی باقاعدہ سرحد نہیں ہے، عالمی سطح پر اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف درجنوں قراردادیں منظور کرچکا ہے اور جب بھی مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ میں رائے شماری ہوئی، تقریبا 180 ممبران کی جنرل اسمبلی میں محض درجن بھر ممالک اسرائیل کے حق میں ووٹ کرتے ہیں، جبکہ 120 سے زیادہ ممالک نسل پرست، قاتل، ظالم، جابر، غاصب اور ناجائز اسرائیل کے خلاف ووٹ دیتے ہیں، سلامتی کونسل میں بھی آج تک کوئی قرار داد اسرائیل کے حق میں منظور نہیں ہوئی، جبکہ فلسطین کے حق میں کئی قرار دادیں منظور ہوئیں اور متعدد محض امریکہ کے ویٹو کی وجہ سے منظور نہ ہوسکیں، امریکہ کے علاوہ سلامتی کونسل کا کوئی ممبر اسرائیل کی اس طرح حمایت نہیں کرتا۔ اب آئیں دوسری طرف، دوسری طرف مظلوم فلسطینی ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان سے بھی پہلے سے اس سرزمین پر آباد ہیں، اکثریت مسلمان ہے (عرب نہیں مسلمان، یہ غلط فہمی دور کرلیں کہ فلسطینی عرب ہیں، فلسطینی عرب نہیں ہیں)، فلسطینیوں سے ہمارا تاریخی مذہبی اور ثقافتی رشتہ ہے، تحریک پاکستان کے تمام رہنماؤں، بشمول قائد اعظم محمد علی جناح، نے اسرائیل کی مذمت اور فلسطینیوں کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

فلسطین میں ہمارا قبلہ اول ہے، مسجد اقصی ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان کے فلسطینیوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں، ہزاروں فلسطینی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے ہیں، آج بھی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلبہ موجود ہیں۔ فلسطینی اس امہ کا حصہ ہیں جس کے بارے میں بنی آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے جسم کے ایک حصہ میں درد یا تکلیف ہو تو پورا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے، اس لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ فلسطینوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے قاتلوں سے نفرت کا اظہار کریں اور فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کریں۔ اس لئے جو لوگ اسرائیل کی حمایت یا اسے تسلیم کرنے کی باتیں کرتے ہیں وہ یا تو حقائق سے واقف نہیں، نا سمجھ ہیں یا مسلمانوں کے دشمن اور بھارتی، امریکی، اسرائیلی ٹکڑوں پر پلنے والے اور ان کے آلہ کار ہیں۔ دوسری قسم کے لوگوں سے ہمارے کھلی جنگ ہے، پہلی قسم کے نادان دوستوں سے گزارش ہے کہ تاریخ اور دین کا مطالعہ کریں، پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہوں، اور محض شغل میلہ لگانے کے لئے اس طرح کے سنجیدہ موضوعات پر طبع آزمائی نہ کریں۔

اس سے فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی کتنی دل آزاری ہوگی اس کا شاید آپ کو اندازہ نہیں، اللہ کے ہاں جو پکڑ ہوگی وہ الگ ہے۔ اور پھر یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اسرائیل اخلاقی اور قانونی دونوں طرح سے (قانون بھی عالمی تسلیم شدہ قانون) ایک ناجائز، غاصبانہ اور نسل پرست ریاست ہے، جو 70 سال سے ہمارے فلسطینی مسلمان بھائیوں کا قتل عام کر رہی ہے۔دوسری بات یہ کہ فلسطین کشمیر ہی کی طرح ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا ہے، فلسطین کے مسئلے سے دست برداری اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بلواسطہ مطلب یہ نکلتا ہے کہ ہم کشمیر سے بھی دست بردار ہورہے ہیں اور بھارت کے غاصبانہ قبضے پر ہمارے اعتراض کی کوئی اخلاقی اور قانونی وجہ نہیں ہے۔ اور آخری بات یہ کہ قومیں اپنی پالیسیاں اصولوں پر بناتی ہیں، پاکستان کی فلسطین پالیسی بانئ پاکستان کی وضع کردہ اور اصولوں پر مبنی ہے۔ پاکستان نے ہر دور میں فلسطینیوں کی تائید و نصرت کی ہے اور ہمارا فلسطینیوں سے یہ رشتہ اور تعلق کسی زانی، شرابی، جواری، مفاد پرست، آمر یا شخصی حکمران کے کردار سے مشروط نہیں بلکہ دینی، اخلاقی، قانونی اور اصولی بنیادوں پر استوار ہے۔ کشمیر اور فلسطین ان شا اللہ آزاد ہوں گے، بھارت اور اسرائیل نیست و نابود ہوں گے۔