مکالموں و بحث مباحثوں والوں سے اہم گزارش - انس اسلام

اہلِ علم کے ہاں معروف حقیقت ہے کہ دنیا والوں کی لکھی ہوئی ہر کتاب انسان کے ''تصورات و افکار و نظریات'' کے 'زیرِاثر' ہوتی ہے، اور بڑی حد تک ''انسانی عقل و نفس'' کی غلامی کا شکار ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا رائٹر کی ''سیرت'' اور مصنف کی Metaphysical Position کا علم ہونا نہایت لازمی ہے، کہ وہ کن نظریات کا حامل ہے؟ اور اُس کے جو بھی افکار ہیں، اُس نے وہ افکار و نظریات و تصورات ''کہاں سے'' حاصل کیے ہیں؟

خالقِ کائنات ، رب السماوات والارض، تمام جہانوں کے مالک سے؟ یا مخلوق میں سے کسی سے؟ یا وہ اُس کے خود ساختہ ہیں؟ اور خود ساختہ بھی خود ساختہ نہیں ہوتے، اُسے 'کہیں سے' ۔۔۔۔۔ ضرور ''مِلے" ہوتے ہیں۔ تو میں (مسلمان) سوچتا ہوں کہ میں ''مخلوق'' سے اپنی ذہنی پرورش کیوں کرواؤں؟

وجہ؟ بنیادی طور پر مجھے اپنے افکار و تصورات و نظریات، اور اپنی سوچ کے تمام زاویے؛ ''اپنی زندگی و موت کے خالق و مالک'' سے ''ڈیزائن'' کروانے چاہییں۔ تاکہ میں ہمیشہ خالقِ کائنات کے زیرِ اثر و ماتحت ہی رہوں۔

بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بھی بولتے، جو بھی درج کرواتے، لکھواتے، اور جو بھی آپ کے اعمال و افعال تھے، غرض؛ آپ کی زندگی کا ہر پل اور ایک ایک لمحہ، آپ کی اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ رب العالمین کی رضا و اجازت کے عین تابع و مطابق تھا۔ رسول کی تمام تر مَرتبت و عظمت و تقدس و اتھارٹی ہی اس سبب سے ہے کہ رسول، اللہ تعالٰی کی منشاء و خوشنودی کے برخلاف کبھی، کچھ بھی نہیں کرتا۔

تو میں (مسلمان) سوچتا ہوں کہ میں مخلوق میں سے، ''رسول کے علاوہ'' کسی اور کو اپنی زندگی میں صحیح و غلط، خیر و شر ، بھلائ و برائی کی تعیین کے لیے معیار و پیمانہ کیوں بناؤں؟

یہ بھی پڑھیں:   ہندومت کی وسعت قلبی کے پروپیگنڈے کی حقیقت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

وجہ؟ بنیادی طور پر مجھے اپنا آئیڈیل و نمونہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ایسی معصوم عن الخطا و پرفیکٹ ذات کو تسلیم کرنا چاہیے، تاکہ میں صحابہ کی طرح کامیاب و سرخرو ہوسکوں۔ بلاشبہ صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) جو بھی بولتے، جو بھی کہتے، لکھتے اور درج کرواتے، اور جو بھی وہ اعمال و افعال سرانجام دیتے تھے، آپ اصحاب کا ہر لمحہ اور ایک ایک پل؛ اُن کی خود کی مرضی سے نہیں، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت و فرماں برداری و اتباع میں، آنحضرت کی تعلیمات و ہدایات کے عین مطابق تھا۔ صحابہ کرام کی ساری شان و اہمیت و حیثیت و تقدیس و رفعت ہی اس وجہ سے ہے کہ آپ اصحاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے برخلاف کبھی کچھ نہیں کیا۔

تو میں (مسلمان) سوچتا ہوں کہ میں صحابہ کے علاوہ کسی اور جماعت سے کیوں ناطہ بناؤں؟ بنیادی طور پر مجھے صحابہ کی طرح ہدایت یافتہ بننے کی مکمل تگ و دو کرتے رہنا چاہیے تاکہ میں روز آخرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور اللہ تعالٰی کا دیدار پا سکوں۔ لیکن میں جب پڑھتا ہوں ایسی کتابیں، جنھیں انسانی محدود و سطحی سوچ نے لکھا ہو، یا میں ایسے لوگوں کو سنتا ہوں جن کے افکار و خیالات و نظریات ''باطل و غیر شرعی'' ہوں، تو میں اللہ، رسول اور صحابہ؛ تینوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہوں۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلتا، اور میں بھی اُن لوگوں جیسا ہوجاتا ہوں، وہی باتیں بولنے لگتا ہوں، اور ویسا ہی سوچنے لگتا ہوں۔

جن لوگوں کی Metaphysics میں اللہ رسول اور صحابہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، اُن کی باتیں بہت اچھی بھی ہوتی ہوں گی، اُن کی کتابیں بڑی پاپولر ہوں گی۔ لیکن میرے (مسلمان کے لیے) لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ ''درحقیقت'' لادین و بے خدا ہوتے ہیں۔ لکھنے اور بولنے میں ہر آسمانی ہدایت و رہنمائی سے آزاد و فری۔ ایسے رائٹرز و سپیکرز کو پڑھ ، سن کر آنے والے احباب سے ہم ہمیشہ معذرت خواہ ہیں کہ ان سے افہام و تفہیم ایک ایسا مشکل امر ہے جو دراصل ناممکن ہے۔ کیونکہ وہ ''جہاں سے'' اپنی ذہنی و فکری خوراک لیتے ہیں، وہ ہمارے ہاں سرے سے ہی، ہر طرح سے غیر معتبر و نقصان دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا نیا چینل واقعی اسلام کو پیش کرے گا - حامد کمال الدین

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہماری ''اُخروی'' ناکامیوں و بربادیوں کی جڑ ہے۔ اور ہم (مسلمان) آخرت کے معاملے میں کبھی کوئ Compromise نہیں کرتے ۔ اِسی لیے ہم کہتے ہیں کہ رائٹرز و سپیکرز لکھنے اور بولنے سے پہلے یقینا سوچتے ہوں گے، اور ضرور سوچنا چاہیے۔ لیکن اہم سوال تو یہ ہے کہ وہ لکھنے اور بولنے سے پہلے ''جو'' سوچتے ہیں، وہ ''کہاں سے'' سوچتے ہیں؟