کشمیر، انٹرنیشنل لاء کیا کہتا ہے؟ آصف محمود

’مطالعہ پاکستان‘ کی پھبتی کس کر پاکستان کے قومی بیانیے کو بےتوقیر کرنے کی کوشش کرنے والے سورماؤں نے اب کشمیر پر پڑائو ڈال لیا ہے۔ قوم کو باور کرایا جا رہا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ صرف حق خود ارادیت کی بات نہیں کر رہیں بلکہ وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ پہلے پاکستان آزاد کشمیر سے فوجیں ہٹائے، اس کے بعد استصواب رائے ہوگا اور اس استصواب رائے تک بھارت کی فوج کشمیر میں موجود رہے گی۔ اس کے بعد یہ حضرات فوری طور پر ایک نتیجہ نکال کر قوم کے سامنے لہرا دیتے ہیں کہ پاکستان نے جب فوجیں ہی نہیں نکالیں تو استصواب رائے کیسا؟ ساتھ ہی تمسخرانہ انداز سے پوچھا جاتا ہے کہ بتائیے اے اہل وطن کیا آپ آزاد کشمیر سے فوج نکالنے کو تیار ہیں۔

غزل کسی ایک مصرعے کو پڑھ کر سمجھ میں نہیں آتی، اسے مطلع سے مقطع تک پڑھنا چاہیے۔ بلاشبہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ پہلے پاکستان اپنی فوجیں نکالے گا لیکن مت بھولیے کہ 14 مارچ 1950ء کو اسی سلامتی کونسل نے قرارداد پاس کی تھی کہ اب دونوں ملک بیک وقت فوجوں کا انخلاء شروع کریں گے۔ اس دوران کیا ہوا، آئیے ذرا پوری تصویر دیکھتے ہیں۔

13 اگست 1948ء کی قرارداد میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی فوج اور قبائلیوں کو نکال لے گا تو یہاں کا انتظام لوکل اتھارٹیز سنبھالیں گی اور کمیشن ان کو سپروائز کرے گا۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ بھارت کو یہاں ساری فوج رکھنے کی اجازت ہوگی۔ بلکہ قرار پایا کہ اس کے بعد بھارت بھی اپنی فوج کا بڑا حصہ "Bulk of its forces" یہاں سے نکال لے گا اور اسے صرف اتنے فوجی رکھنے کی اجازت ہوگی جو امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے لوکل اتھارٹیز کی مدد کے لیے ضروری ہوں۔

جب اقوام متحدہ کے کمیشن نے دونوں ممالک سے قرارداد پر عملدرآمد کے لیے پلان مانگا تو بھارت نے دو مزید مطالبات کر دیے۔ ایک یہ کہ اسے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمال اور شمال مغرب کے علاقوں پر کنٹرول دیا جائے، اور دوسرا یہ کہ آزاد کشمیر میں پہلے سے قائم اداروں کو نہ صرف مکمل غیر مسلح کر دیا جائے بلکہ ان اداروں کو ہی ختم کر دیا جائے۔ یہ پاکستان کی جانب سے عائد کردہ الزام نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف جوزف کاربل نے اپنی کتاب ’ ڈینجر ان کشمیر‘ کے صفحہ 157 پر کیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں جوزف کاربل کون تھے؟ ان کا تعلق چیکو سلواکیا سے تھا اور یہ اقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئرمین تھے اور کمیشن میں ان کی شمولیت بھارتی نمائندے کے طور پر ہوئی تھی۔ جوزف کاربل نے اعتراف کیا کہ بھارتی مؤقف اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   وضاحتیں نہیں شفافیت چاہیے - حبیب الرحمن

پاکستان نے آزاد کشمیر سے فوج نکالنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے مطابق بھارت جو ضروری فوج کشمیر میں رکھے گا، اس کی تعداد اور تعیناتی کا مقام اقوام متحدہ کمیشن کو پیش کیا جائے۔ بھارت نے اس سے بھی انکار کر دیا۔

آگے چلیے۔ اس پر کمیشن نے امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی کی تجویز پر کہا کہ دونوں ممالک اپنا مؤقف پیش کر دیں جو ایک آربٹریٹر کے سامنے رکھا جائے اور وہ فیصلہ کر دے۔ اقوام متحدہ کی اپنی دستاویزات گواہ ہیں کہ پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی لیکن بھارت نے اسے بھی رد کر دیا۔ بھارت کے اپنے نمائندے نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر بھارت کی وجہ سے عمل نہ ہو سکا۔ ان کے الفاظ تھے : "a lack of goodwill on part of India"

معاملے کے حل کے لیے سلامتی کونسل نے سلامتی کونسل ہی کے صدر مک ناٹن پر مشتمل ایک یک رکنی کمیشن بنایا۔ اس کمیشن نے کہا کہ اب دونوں ممالک بیک وقت اپنی فوجیں نکالتے جائیں گے، تاکہ کسی کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی۔ بھارت نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تجویز کو سلامتی کونسل 14 مارچ 1950ء کو ایک قرارداد کی شکل میں منظور کر لیا۔ گویا اب اقوام متحدہ کی قرارداد یہ کہہ رہی ہے کہ دونوں ممالک بیک وقت فوجیں نکالنا شروع کریں گے۔

اقوام متحدہ نے اوون ڈکسن کو جو آسٹریلیا کے چیف جسٹس رہے، اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فوج کے انخلاء کی بہت سی تجاویز دیں۔ پاکستان نے سب مان لیں، بھارتی وزیر اعظم نے ایک بھی نہ مانی۔

1951ء میں بھارت نے کہا ہمیں خطرہ ہے اس لیے ہم فوج نہیں نکالیں گے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم گورڈن منزیزنے مشترکہ فوج کی تجویز دی، بھارت نے رد کر دی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مقامی فورس بنانے کی بات کی، بھارت نے اسے بھی رد کر دیا۔ انہوں نے کہا ہم کامن ویلتھ کی فوج بھیج دیتے ہیں، بھارت نے یہ تجویز بھی رد کر دی۔ معاملہ ایک بار سلامتی کونسل چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ’بیان لینے کمیشن آئے اور طبیعت بھی دیکھ لے‘

30 مارچ 1951ء کو سلامتی کونسل نے امریکی سینیٹر فرینک پی گراہم کو نیا نمائندہ مقرر کر کے کہا کہ تین ماہ میں فوج کشمیر سے نکالی جائے اور پاکستان اور بھارت اس پر متفق نہ ہو سکیں تو عالمی عدالت انصاف سے فیصلہ کرا لیا جائے۔ فرینک صاحب نے چھ تجاویز دیں، بھارت نے تمام تجاویز رد کر دیں۔

خانہ پری کے لیے بھارت نے کہا وہ تو مقبوضہ کشمیر میں اکیس ہزار فوجی رکھے گا جبکہ پاکستان آزاد کشمیر سے اپنی فوج نکال لے، وہاں صرف چار ہزار مقامی اہلکار ہوں، ان میں سے بھی دو ہزار عام لوگ ہوں، ان کا آزاد کشمیر حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ان میں سے بھی آدھے غیر مسلح ہوں۔ گراہم نے اس میں کچھ ردو بدل کیا، پاکستان نے کہا یہ ہے تو غلط لیکن ہم اس پر بھی راضی ہیں، بعد میں بھارت اس سے بھی مکر گیا۔

سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بار پھر تجویز دی کہ ’’آربٹریشن‘‘ کروا لیتے ہیں تاکہ معلوم ہو انخلاء کے معاملے میں کون سا ملک تعاون نہیں کر رہا۔ پاکستان اس پر بھی راضی ہو گیا، بھارت نے یہ تجویز بھی ردکر دی۔

اب آپ بتائیے کون سچا کون جھوٹا؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.