حکومت کا ایک سال- انصار عباسی

وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنا ایک سال مکمل کر لیا ہے، اگر پی ٹی آئی کی اس ایک سالہ حکومت کی پرفارمنس پر تبصرہ کیا جائے تو اسے ’’یو ٹرنزکا سال‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ عمران خان جو پہلے کہتے رہے، تحریک انصاف جو ماضی میں وعدے کرتی رہی، حکومت ملنے پر خان صاحب اپنے کہے سے پھرتے رہے اور پی ٹی آئی وعدوں کے برخلاف کرتی رہی۔ ایک سال گزرنے پر اگر کوئی یہ گننے لگے کہ کتنے یو ٹرنز لیے گئے تو شاید گننا مشکل ہو۔ کرکٹ کی زبان میں کم از کم خان صاحب کے یو ٹرنز کی سنچری تو ضرور مکمل ہو چکی ہو گی۔ وعدہ تو کیا تھا کہ کابینہ چھوٹی ہوگی اور وزیر و مشیر وہی لگیں گے جو بہترین شہرت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اُس شعبہ کے ماہر ہوں گے جو شعبہ اُنہیں سونپا جائے گا۔

لیکن جب حکومت بنانے کا وقت آیا تو کابینہ میں انتہائی متنازع افراد کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا گیا جن کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر نیب یا دوسرے اداروں میں تحقیقات ہو رہی تھیں، جن کو پہلے ڈاکو کہا یا جنہیں چپڑاسی رکھنا بھی گوارا نہ کرنے کا وعدہ کیا اُنہیں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا۔کابینہ ابتدا میں چھوٹی تھی لیکن ایک سال میں ہی پھیلتے پھیلتے صرف دو افراد کی کمی سے ہاف سنچری کو چھونے والی ہے۔ جہاں تک بات کہ ہر وزارت کے لیے متعلقہ تجربہ رکھنے والا وزیر مقرر کیا جائے گا تو اس کا جواب وفاقی وزیر برائے انفامیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول کے اپنے ایک بیان سے مل سکتا ہے کہ اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر ہیں لیکن اُنہیں آئی ٹی کی وزارت دے دی گئی۔

کہا جاتا تھا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی تو نہ کسی رشتہ دار اور نہ ہی کسی دوست کو کوئی سرکاری عہدہ دیا جائے گا۔ درست کہ رشتہ دار تو خان صاحب نے کوئی کسی عہدہ پر تعینات نہیں کیا لیکن دوستوں کے معاملہ میں اُنہوں نے یو ٹرن لیتے ہوئے زلفی بخاری، نعیم الحق، عون چوہدری اور کچھ دوسروں کو اہم عہدے پیش کیے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں نہ صرف اپنے دوست کو چیئرمین بنایا بلکہ اُس کا بالکل الٹ کیا جو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق نجم سیٹھی کو پی سی بی چیئرمین بنانے پر کہتے تھے۔ خان صاحب کہتے تھے جب وزیراعظم اپنے بندے کو چیئرمین پی سی بی لگائے گا تو کرکٹ تباہ ہو جائے گی لیکن جب خود وزیراعظم بنے تو ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ موجودہ چیئرمین کو چیئرمین پی سی بی لگا رہے ہیں۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزارتِ اعلیٰ کے مناصب کے لیے پروفیشنل، تجربہ کار کے بجائے ایسی شخصیات کو چنا جو اس عہدے کے لیے دوسروں کے علاوہ خود تحریک انصاف کی اکثریت کی نظر میں بھی نااہل ہیں۔ کہا تھا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی تو پٹرول پچاس روپے یا اس بھی کم فی لیٹر پر دستیاب ہوگا لیکن اس ایک سال میں اتنا مہنگا کر دیا گیا کہ نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ جب حکومت میں نہیں تھے تو کہتے تھے کہ دنیا بھر میں گیس سستی اور پاکستان میں مہنگی کی جاتی ہے لیکن جب اپنی حکومت آئی تو پہلے ہی سال گیس کو دو سو فیصد تک مہنگا کر دیا۔ آئی ایم ایف کو گالی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ خودکشی کر لیں گے لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ پہلے ہی سال نہ صرف آئی ایم ایف کے پاس گئے بلکہ ایسی شرائط کے ساتھ گئے کہ پاکستانیوں کی چیخیں نکال دیں۔ کہتے تھے مر جائیں گے لیکن نہ قرضے لیں گے اور نہ ہی کسی غیر کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے لیکن جب حکومت میں آئے تو دوسروں کے سامنے ایسے ہاتھ پھیلانا شروع کیا کہ ایک موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے بھی یہ کہہ دیا کہ دوسروں سے پیسہ مانگتے ہوئے بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کہا تو تھا کہ قرضے نہیں لیں گے لیکن اس سال میں ریکارڈ دس ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے۔ جب اپنی حکومت نہیں تھی تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ذرا سی کمی پر بھی تڑپ اٹھتے تھے اور کہتے تھے ڈالر کے مقابلے روپیہ جب گرتا ہے تو ملک کا قرضہ ایک سو ارب روپے بڑھ جاتا ہے لیکن اپنی ایک سالہ حکومت کے دوران روپے کی قدر میں تیس فیصد سے زیادہ تک کمی کی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک ڈالر 164روپے کا ہو گیا۔ اب ایک ڈالر تقریباً 160روپے کا ہے۔ کہتے تھے کہ نون لیگ اور پی پی پی نے اپنے دس سالہ اقتدار کے دوران پاکستان پر 22ہزار ارب روپے کا قرض چڑھا دیا لیکن جب اپنی حکومت آئی تو پہلے ہی سال پاکستان پر چار ہزار ارب روپے سے زیادہ کے قرضوں کا بوجھ بڑھا دیا۔ کہا تھا کہ جب ایماندار حکمران آئیں گے تو حکومت کو ٹیکس دگنا ملے گا لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے پہلے سال میں ٹیکس نہ صرف گزشتہ سال کے مقابلہ میں کم اکٹھا کیا بلکہ ٹیکس کولیکشن میں پانچ سو ارب روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی۔

جب نون لیگ کی حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کیا تھا تو خان صاحب نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی اور کہا کہ یہ چوروں، ڈاکوئوں اور ٹیکس نہ دینے والوں کو سہولت کے لیے دی جا رہی ہے۔ جب اپنی حکومت آئی تو ٹیکس ایمنسٹی پہلے ہی سال میں دے دی۔ ایک بار نہیں ،سو بار سے بھی زیادہ بار وعدہ کیا کہ جب تحریک انصاف حکومت بنائے گی تو پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی کیا جائے گا، اُنہیں بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے گا لیکن اپنے پہلے سال کی حکمرانی کے دوران ہی پولیس اور سول سروس کو نہ صرف پہلے سے زیادہ سیاسی کر دیا گیا بلکہ مداخلت اس حد تک بڑھ چکی کہ حکومتی پالیمنٹیرین اگر اپنے علاقہ میں کسی سرکاری افسر سے ناخوش ہیں تو وہ وہاں نہیں رہ سکتا۔

ایک بار نہیں بار بار آئی جی پولیس، چیف سیکرٹریز اور دوسرے عہدیداروں کو تبدیل کیا گیا اور یہ پیغام پولیس اور سول سروس میں ہر عام و خاص کو دیا گیا کہ اگر اپنے اپنے عہدوں پر رہنا ہے تو حکومت اور حکومتی ارکانِ اسمبلی سے بنا کر رکھو۔ مہنگائی کو ماضی میں گالی سمجھتے تھے لیکن حکومت میں اپنے پہلے ہی سال میں دو گنا سے بھی زیادہ مہنگائی کر دی۔ سب سے اہم بات کہ وعدہ تو ریاست مدینہ کا کیا لیکن سودی نظام کو مزید بڑھاوا دیا۔ گویا یوٹرن اتنے ہیں کہ گننا مشکل اور سب سے بڑا المیہ کہ وزیراعظم عمران خان نے خود کہا اور بعد میں اُن کی پارٹی کے ہر رہنما نے بھی یہی دہرایا کہ یوٹرن تو صرف بڑے لیڈر لیتے ہیں۔ وہ لیڈر نہیں جو یو ٹرن نہیں لے سکتا۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر وعدہ، سچائی، عہد اور زبان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے، اس کا جواب تحریک انصاف ہی دے سکتی ہے۔