سلامتی کونسل کا مشاورتی اجلاس ! ہندوستان کا ردعمل - مسعود ابدالی

ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تناظر میں مسئلہ کشمیر اور پاک ہند کشیدگی پر سلامتی کونسل کے 'مشورہ'اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب جناب سید اکبرالدین نے اپنی حکومت کا ردعمل پیش کیا۔ ہندوستانی موقف کا خلاصہ:

• بند کمرے کے اس اجلاس میں نہ تو ہندوستان کو مدعو کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کو لہٰذا اس اجلاس کی حیثیت ایک غیر رسمی مشورے کی سی تھی۔ اجلاس کے بعد کوئی اعلامیہ بھی جاری نہیں ہوا۔ گویا یہ نشستند، گفتند اور برخواستند کی ایک شکل تھی۔ (نوٹ: آخری جملہ ہندوستانی مندوب کا نہیں بلکہ میرا تجزیہ ہے)
• آرٹیکل 370 کی منسوخی ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس فیصلے سے جموں و کشمیر میں سماجی و معاشی ترقی کے نئے باب کا آغاز ہوگا
• سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں ہندوستان کے ان اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جووہ وادی کے حالات کو معمول کے مطابق لانے کیلئے اٹھارہا ہے
• ہندوستان کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل کی دلچسپی اور کشمیری عوام کی بہتری کیلئے دئے جانیوالے مشوروں کو قدر کی نگاہ سےدیکھتا ہے
• ہندوستان کشمیر سے متعلق شملہ اور لاہور سمیت ہر عالمی معاہدے پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنے کیلئے پرعزم ہے
• ہم پاکستان سے کشمیر سمیت ہر معاملے پر بات کرنے کو تیار نہیں لیکن اسکے لئے اسلام آباد کو دہشت گردی ترک کرنی ہوگی
• جہاں تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تعلق ہے تو یہ معاملہ ہندوستانی عدالتوں میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں عالمی برادری کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہم ایک ارب سے زیادہ کی قوم ہیں اور 70 برس سے اپنے معاملات کسی غیر ملکی مدد کے بغیر بخوبی چلارہے ہیں
ہے اس ہٹ دھرمی کا کوئی جواب؟؟؟