کشمیر، چنداہم مغالطے جو دور ہونے چاہییں - محمد عامر خاکوانی

ہمارے ہاں بیشتر معاملات میں حقائق سے دور عجیب وغریب مغالطے اور غلط نظریات گھڑ لیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اس قدر بچکانہ بلکہ احمقانہ ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اصلاح یا تردید کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا۔ یہ سوچ کر کہ اتنی کمزور بات پر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ سازشی تھیوریز پختہ ہوجاتی ہیں۔ آج کا دور مین سٹریم میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا کے گرد گھوم رہا ہے۔ فیس بک اور سوشل میڈیابلاگرز ویب سائٹ پر بہت سے نئے لکھاری آ چکے ہیں، ان میں سے بعض عمدہ لکھتے ہیں اور ان میں اچھا کالم نگار بننے کا پوٹینشل بھی موجود ہے، مگر خاصی تعداد ان کچے پکے لکھاریوں کی ہے، جن کا کتاب سے رشتہ مضبوط نہیں اور وہ اِدھر ادھر سے چھوٹی موٹی پوسٹیں پڑھ کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ اگر تعلق کسی مذہبی یا سیاسی جماعت یا اس کی ذیلی طلبہ تنظیموں سے ہے تو پھر سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے۔ اپنے جماعتی یا تنظیمی تعصبات بھی ازخود ان کے خیالات میں گھل مل جاتے ہیں اور یوں نت نئی سازشی تھیوریز جنم لیتی ہیں۔ یہ سوشل میڈیا قارئین میں مزید کنفیوژن پھیلانے کے سوا اور کچھ نہیں کرتیں۔ایسے ہی چند مغالطوں پر بات کرتے ہیں۔

”کشمیر جنگ کے بغیر نہیں ملے گا اور جنگ پاکستان نے کرنی نہیں، اس لیے ہونا کچھ نہیں۔“
یہ اور اس طرح کے مفہوم والے کئی جملے پچھلے چند دنوں سے دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہے ہیں۔ یہ انتہائی کمزور اور غیر حقیقی بات ہے۔ صاحبو! پاکستان نے بھارت کے ساتھ جتنی جنگیں لڑی ہیں، وہ سب کشمیر پر ہی تو ہیں۔ اگر کشمیر کا ایشو نکال لیا جائے تو پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کرنے کے لئے کوئی بڑا، سنگین تنازع موجود ہی نہیں۔ پہلی جنگ جو ملک بنتے ہی لڑی گئی وہ بھی کشمیر کی آزادی کے لیے تھی۔ اس کے بعد 65ء کی جنگ خالصتاً مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر لڑی گئی تھی۔ پاکستان نے آپریشن جبرالٹر کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کو الگ کرنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ وہ جس قدر کمزور اور اغلاط سے بھرپور تھا، اس بحث سے قطع نظر ظاہر ہے وہ کشمیریوں کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ بعد کے حالات اس نہج پر گئے کہ جنگ ستمبر لڑی گئی۔ اس جنگ کے بعد ہی بھارت نے بھرپور کوشش کر کے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کی کوشش کی اور یوں سقوط ڈھاکہ ہوا۔ بنیادی تنازع تب بھی کشمیر ہی تھا۔ پاکستانی ریاست، فوج، عسکری منصوبہ سازوں اور کسی حد تک سویلین حکمرانوں نے کشمیر اور کشمیریوں کو کبھی نہیں بھلایا، ہمیشہ یہ ایشو ٹیبل پر رہا۔ عسکری منصوبہ ساز اس حوالے سے مختلف منصوبے بناتے رہے۔ جہاد افغانستان میں سوویت یونین کی شکست اور ان کی فوجوں کی واپسی کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں جو مسلح تحریک مزاحمت شروع ہوئی، اس میں پاکستان کا کلیدی حصہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں جو شہدا کے قبرستان ہیں، وہاں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی نوجوان جنگجو ہی مٹی اوڑھے سوئے ہیں۔ یہ سب اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی آزادی کے لیے وہاں گئے اور اپنی جانیں لٹا ڈالیں۔ کارگل کا معرکہ جیسا بھی تھا، اس میں جو غلطیاں ہوئیں، ان تمام بحثوں سے قطع نظر یہ منصوبہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ منفی چالیس پچاس ٹمپریچر پر کارگل کی چوٹیوں پر جوان کیک کھانے تو نہیں گئے تھے۔ کارگل کی جنگ میں جتنے جوان شہید ہوئے، شاید پچھلی تمام جنگوںمیں ایسا نہیں ہوا۔اس لیے کہنا غلط اور لغو ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے لیے باتیں کی اور عملاً کچھ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ابن مریم نہیں، دکھ کی دوا چاہیے - حبیب الرحمن

. . . . . . . . . . . . . . ”بھارتی آئین کا آرٹیکل 370ختم کرنے کے بعد ہمیں حملہ کرنے کا حق مل گیا “
بعض سادہ لوح لوگ، خاص کر معلومات سے نابلد نوجوان یہ سمجھ رہے ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں کہ بھارت نے اپنے آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا ہے تو اب پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول عبور کر بھارت پر حملہ کر سکتی ہے۔ یہ سوچ درست نہیں۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے ایسا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس وقت خطے کی یا عالمی صورتحال ایسی ہے کہ پاکستان اس طرح کا ایڈونچر کر سکے۔ لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا مقصد کھلی اور بڑی جنگ ہے، ایسی وسیع جنگ جس کے محاذ کئی ہوں گے اور پھر ہمیں آل آؤٹ وار لڑنا پڑے ۔ یاد رہے کہ اس قسم کی مہم جوئی میں دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا، چین تک کے لیے تب پاکستان کی حمایت ممکن نہیں رہے گی۔ حقیقت میں یہ ویسی تباہ کن غلطی ہوگی جو عراق کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے کی تھی۔

”کیا پاکستان بھارت پر حملہ کر سکتا ہے؟“
عسکری حوالے سے ایک سادہ ترین اصول موجود ہے کہ حملہ آور فوج کو مخالف سے تین گنا زیادہ ہونا چاہیے، تب وہ اسے پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ پاکستان کا تمام تر دفاع اسی مساوات پر قائم ہے۔ بھارت ہم سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس کی فوج پاکستان سے تین چار گنا زیادہ بڑی اور زیادہ اسلحہ رکھتی ہے۔ ہم اپنے تمام ترمعاشی مسائل کے باوجود کوشش کرتے ہیں کہ بھارت سے تین گنا کم کی پوزیشن پر تو رہیں، اس فرق کو چار گنا یا پانچ گنا تک نہ پہنچنے دیں۔ وجہ یہی کہ اس کے بغیر دفاع ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ نیوکلیئر آپشن بھی اپنائی ہے تاکہ دشمن کو علم ہو کہ اگر وہ اپنی افرادی قوت کے زور پر غلبہ پانے کی کوشش کرے گا تو ہم شکست تسلیم کرنے کے بجائے نیوکلیئر آپشن اپنائیں گے۔ یوں سب کچھ تباہ ہوجائے گا، ان کے پاس بھی کچھ نہیں رہے گا۔ پاکستان کا تمام تر ماڈل بھارتی حملے سے دفاع پر مبنی ہے۔ اگر بھارت پر حملہ کر کے اسے شکست دینے کی منصوبہ بندی کی جائے تو ہمیں اپنی عسکری قوت میں دو تین گنا اضافہ کرنے کے ساتھ جنگ کے لیے درکار اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی اکانومی کو بہت مضبوط اور بڑا کرنا پڑے گا۔ ناممکن کچھ نہیں، مگر اس کے لیے سمجھداری سے پلاننگ اور بھرپور تیاری کی ضرورت پڑتی ہے۔

” طالبان نے بھی امریکہ کو شکست دی، ہم بھارت کو کیوں نہیں دے سکتے؟“
یہ سادہ لوحی بھی دراصل گوریلا جنگ اور روایتی جنگ میں فرق نہ سمجھنے پر مبنی ہے۔ طالبان کو جنگ میں امریکہ نے بری طرح شکست دی۔ طالبان نے البتہ گوریلا جنگ لڑ کر مزاحمت جاری رکھی اور قابض امریکی فوج کو تنگ کیے رکھا۔ حتیٰ کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث امریکیوں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ طالبان کی جرات، ہمت کا میں معترف ہوں، مگر یہی طالبان میدانی علاقوں میں گوریلا جنگ نہیں لڑ سکتے۔ افغانستان کی پہاڑی سرزمین کی وجہ سے وہ گوریلا جنگ لڑ پائے اور اس کی بھی پورے ملک نے قیمت ادا کی۔ طالبان ماڈل کا مطلب ہے کہ پہلے شکست ہو، دشمن فوج ملک پر قابض ہوجائے، پھر اگلے دس پندرہ برس کے لیے گوریلا جنگ لڑی جائے، جس میں دشمن کے فوجی اکا دکا کر کے مارے جائیں، جبکہ دشمن کے جوابی حملوں اور فائرنگ سے ہزاروں، لاکھوں شہری ہلاک ہوں، پورا ملک کھنڈر ہوجائے۔ یہ مگر یاد رکھیں کہ اس سب کی افغانستان اور افغان عوام نے کیا قیمت ادا کی؟ لاکھوں مارے گئے، کئی ملین بچے یتیم، بےشمار معذور ہوئے، پورے ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا۔ یہ طالبان ٹائپ ماڈل کی قیمت ہے۔ جو بھی اس آپشن کو اپنانا چاہیے وہ اسے پہلے دیکھ لے۔ پھر یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیں کہ طالبان نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ ان پر حملہ ہوا تھا۔ جب کسی ملک پر دشمن حملہ آور ہو تب تو پھر یہی ماڈل ہی بچتا ہے۔ تب تو اپنی جانوں، مال، مکان سب کی بازی لگانی بنتی ہے۔ کوئی بھی باعزت، زندہ قوم ایسا کرے گی۔ تاہم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن پر حملہ کرتے ہوئے تیاری، سوچ بچار اور پنجابی محاورے کے مطابق کچھ سائنس لڑانی چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ کشمیر؛ تاریخی تناظر اور موجودہ صورت حال - محمد سلیم جباری

”ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“
یہ کوئی مفروضہ یا سازشی تھیوری نہیں بلکہ حل سجھانے کی ادنیٰ کوشش ہے۔ ہمیں بھارت کو اپنا دشمن سمجھنا چاہیے، اس کی طرف سے کچھ بھی ممکن ہے، ہر حملے، ہرسازش کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ حملہ ہوجائے تو پھر ہر آپشن کو آزمایا جائے، تب Do or Die کی صورتحال ہوگی۔ تاہم یاد رکھنا چاہیےکہ پاکستان اس وقت شدید بحرانوں کا شکار ہے، اکانومی اس قابل نہیں کہ ہم جنگ کے لیے پہل کریں۔ افغانستان کا معاملہ بھی اپنے فیصلہ کن مرحلے پر ہے، ادھر بھی ہمیں توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ اس لیے سردست کھلی جنگ یا ناکافی تیاری کے ساتھ کسی ایڈونچر سے گریز کرتے ہوئے ہمیں بھرپور اورجارحانہ سفارت کاری پر فوکس کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیاجائے اور وزیراعظم سابق سفارت کاروں، تجربہ کار ڈپلومیٹس کو مشاورت کے لیے بلائیں، انہیں دنیا بھر میں بھیجیں، عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کریں۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ خود دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کریں اور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو بھرپور طریقے سے اٹھائیں۔ بھارتی حکومت نے ایک خوفناک غلطی کی ہے، ہمیں اسے اپنے حق میں بہترین طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ کشمیری حق پر ہیں، اللہ ظالموں کو یقینا نیچا دکھائے گا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.