کشمیر کے بغیر ہماری آزادی ؟ شاہد مشتاق

عامر خان اپنی مشہور فلم " تھری ایڈیٹس"میں ہر بار خود کو تسلی دینے کے لئےباربار" آل از ویل ، آل از ویل" کی گردان کرتے ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرکے سمجھ بیٹھتا ہے کہ سب اچھا ہے۔ ہمارا اپنا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ سات عشروں سے ہماری اپنی شہ رگ ہندو کے قبضے میں ہے.
ہمارے اپنے کشمیری بہن، بھائی ستر سالوں سے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں ، اور خود کو مطمئن کرنے کے لئے ہمارے پاس ایک ہی تکرار ہے کہ ہم نے چند عشروں میں افغانستان میں وقت کی دو سپریم طاقتوں کو شکست سے دوچار کردیا ہے ۔

ہمارے بھی عجیب شوق ہیں ، دشمن ہمارے جسم کا ایک حصہ کاٹ چکا، کشمیر سارا زخم زخم ہے ، بیٹیاں امریکی قید میں ، گھر محفوظ نہیں ، ایک غلامی سے نکلتے ہیں تو دوسری میں جاپڑتے ہیں ، برطانیہ کی غلامی سے نکلے تو امریکی آقا بنا لئے ، اب امریکہ کو چھوڑ کر لگتا ہے ہم چائنہ کو اپنا مائی باپ بنانے والے ہیں اور دعوے کرتے ہیں روس اور امریکہ کو مار بھگانے کے ۔ کشمیر کی وجہ سے دل دکھی ہے کسی کو اچھی طرح سے عید کی مبارکباد بھی نہیں دی، اسی طرح یوم آزادی کے جشن ہمیں زیب نہیں دیتے کہ کشمیر جب تک بھارت کے قبضے میں ہے ہماری آزادی مکمل نہیں ہوتی۔ ہم نیو کلئیر پاور ہیں دنیا کی بہترین افواج اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ، اس کے باوجود کشمیر کے لئے ہماری خاموشی ناصرف ایک مجرمانہ فعل ہے بلکہ ہماری حب الوطنی پہ بھی بہت سارے سوالات اٹھاتی ہے۔

کیا ہم کشمیر کو اپنا نہیں سمجھتے ؟ کیا ہماری کشمیر پالیسی اب بدل چکی ہے ، کیا کشمیر کی بندر بانٹ ہونے والی ہے ، کیا کشمیر کے زخم اب ہمیں بے چین نہیں کرتے ؟ ایسے بہت سارے سوالات ہیں جو عام آدمی اپنے حکمرانوں سے جاننا چاہتا ہے ، کتنے افسوس کی بات ہے کہ غیر مسلم ملک بھارت کی حکومت اور اپوزیشن کشمیر کے مسلے پہ ایک جان ایک آواز نظر آتے ہیں ، لیکن ہم پاکستانی مسلمان جن کی بقاء کشمیر کی آزادی کے بغیر ممکن ہی نہیں اپنے سیاسی اختلافات کو کشمیر کے معاملے میں بھی ختم نہیں کرسکے ۔ اللہ تعالی ہمارے کشمیر کو آزادی دے ، ہمیں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی توفیق سے نوازے اور ہمیں حقیقی آزادی کا لطف عطا فرمائے ۔ آمین

ٹیگز