مسئلہ کشمیر کا حل - ابنِ فاضل

حل کہیں. " رات کو پاکستانی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کردینی چاہئیے".... .. اور" جنگ کوئی مذاق ہے"........... کے درمیان ہے. ایک بات تو طے ہے کہ بالکل لاتعلق تو ہم نہیں ہوسکتے کہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی بنا ہماری دلائی ہوئی امید ہے. اگر ہم اتنا عرصہ ،اتنی شدت سے اور ہر ذریعہ سے اس مسئلہ کو زندہ نہیں رکھتے تو شاید کشمیریوں کا جذبہ حریت اور ان کی زندگیاں اس سے مختلف ہوتیں جیسا کہ آج ہیں.

پاکستان کے کردار سے ان کے ذہنوں میں جو امید کی کرن روشن کررکھی ہے اس کا اندازہ جناب علی گیلانی کے اس بیان سے ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہر رات اس امید پر سوتے ہیں کہ آنکھ اس خبر سے کھلے گی کہ پاکستانی فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگئی ہے.
اب جب مسئلہ کشمیر میں بالکل نیا اور غیر متوقع موڑ آیا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر غیرمنطقی غیر آئنی اور غیر اخلاقی طور پر اس کی ریاستی حیثیت ختم کرکے اسے باقی بھارت کی طرح وفاقی علاقہ قرار دے دیا ہے. ساتھ ہی کشمیر میں پہلے سے موجود سات لاکھ فوج میں تیس ہزار کا مزید اضافہ کرتے ہوئے وادی میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ کردیا ہے. پوری وادی جو ایک کروڑ بیس لاکھ جیتے جاگتے انسانوں کی بستی ہے، میں تمام ذرائع ابلاغ بشمول فون، انٹرنیٹ اور ٹی وی وغیرہ کے ساتھ تمام ذرائع آمدورفت بھی معطل کردیئے ہیں. کشمیریوں کے بیٹے، بیٹیاں جو حصول تعلیم یا روزگار کی غرض سے بھارت کے دوسرے علاقوں میں ان سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے. نہ ماں باپ کو بچوں کی کچھ خبر ہے اور نہ بچے جانتے ہیں کہ گھر والے کس حال میں.

لگاتار کرفیو نے ضروریات زندگی کا حصول ناممکن بنایا گیا. کشمیر زیادہ تر برف باری والا پہاڑی علاقہ ہے نومبر دسمبر اور جنوری فروری کے مہینوں میں برف باری کی وجہ بطور خاص دوردراز علاقوں میں ضروریات زندگی کی ترسیل بہت مشکل اور کئی علاقوں میں ناممکن ہوجاتی ہے. سو آجکل اگست ستمبر میں یہ لوگ آنے والے مہینوں کیلئے ان کا ذخیرہ بھی کرتے ہیں. جو کہ اس وقت کرفیو کی وجہ سے ناممکن دکھائی دے رہا ہے. حالات اسی نہج پر رہے تو خدانخواستہ کہ آنے والے دنوں میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ صاف نظر آرہا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ کشمیر؛ تاریخی تناظر اور موجودہ صورت حال - محمد سلیم جباری

یہ ساری تکلیف دہ صورت حال اور بھی ناقابل برداشت ہوجاتی ہے جب گھٹیا ذہنیت رکھنے والا بھارتی لیڈر کشمیر کی سر زمین اور ان کی بیٹیوں کے متعلق گھٹیا بیان داغتا ہے کہ کشمیریوں سے اس آئینی ترمیم کے بعد ان کی زمین بھی چھینیں گے اور ان کی بیٹیاں بھی. یقیناً ایسے بیانات بھی انکی اس ساری نئی کشمیری حکمت عملی کا حصہ ہیں. جس کے تحت وہ کشمیریوں کے حوصلے پست کرکے انہیں مزاحمت ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں.

بھارت کی اس نئی حکمت عملی سے تین باتیں واضح ہوتی ہیں. ایک یہ کہ بحیثیت ریاست کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی امید بھارتی پالیسی سازان کے ذہنوں میں بالکل ختم ہوگئی ہے اور انہوں نے اب ریاستی علاقے پر بذریعہ آئینی ترمیم تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے. دوسرا یہ کہ انہوں نے کشمیریوں کو باقاعدہ طور پر بھارت سرکار کادشمن قرار دےدیا ہے. حالانکہ اس کارروائی سے پہلے کشمیریوں کی بڑی تعداد پرو بھارت بھی تھی.
اور تیسرا یہ کہ بھارتیوں کی نظر میں پاکستان کی بطور ریاست کوئی حیثیت یا خوف باقی نہیں رہا.

اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کرنا کیا چاہئیے. تو میری نظر میں سب سے پہلے ہمیں بھارت کو دشمن ملک کے مرتبہ پر بحال کرنا چاہیے. پچھلی ربع صدی میں زبانی طور پر انہوں نے ہمیں لاکھ موسٹ فیورٹ نیشن، اور دوست وغیرہ قرار دیا ہو. مگر عملی طور پر ایک دن بھی ایسا نہیں گذرا جب انہوں نے کسی نہ کسی فورم یا جگہ پر ہماری پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپا. پاکستان میں دہشت گردی سے لیکر بی ایل اے اور دوسری علیحدگی پسند تحریکوں سے لیکر کلبھوشن یادیو کی کارروائیوں تک اور یو این او سے لیکر ایف اے ٹی ایف تک ہر جگہ انہوں نے پورے طمطراق کے ساتھ دشمنی نبھائی ہے. اور ہم ابھی گومگو میں رہتے ہیں کہ ان سے دوستی کرنا ہے کہ دشمنی. خاص طور پر ن لیگ کا رجحان ہمیشہ سے دوستی کارہا ہے.

اب جب آپ انہیں دشمن قرار دے دیں گے تو ہر وہ کام جو انہوں نے دہائیوں سے آپ کے ساتھ کیے ان کا جواب انہی کی زبان میں دیں. ہم نے خود سے ہی رضاکارانہ طور پر کشمیر سمیت بھارت کی دیگر علیحدگی پسند تحریکوں سے بالکل قطع تعلق کرلیا. جب وہ سارے عالمی دباؤ کے باوجود پبی ایل کے لوگوں کو بھارت اور افغانستان میں تربیت دے سکتے ہیں تو ہمیں عالمی دباؤ کا اسقدر خوف کیوں ہے. گاؤں کا ایک چھوٹا سا زمیندار بھی یہ بات جانتا ہے کہ لڑائی کی صورت میں اگر دوسرا فریق پرچہ کٹوا دے تو کسی نہ کسی طور جوابی پرچہ کٹوانا چاہیے تاکہ بعد میں مذاکرات میں توازن کی صورت رہے. تو ہم بحیثیت ملک یہ بات کیسے بھول گئے کہ ایک علیحدگی پسند تحریک کاجواب دوتحریکیں ہیں اور ایک دھماکے کا جواب دو دھماکے ہیں تاکہ مذاکرات کی میز پر بہتر بارگین ہوسکے.

یہ بھی پڑھیں:   اور آپشنز، بس ایک ہی آپشن ہے - پروفیسر جمیل چودھری

ہمارے ذرائع ابلاغ کے کئی ادارے ہر وقت بھارت کو لیکر امن کا راگ الاپتے ہیں، ہم نے ان کے ذرائع ابلاغ میں اپنا اثرورسوخ کیوں پیدا نہیں کیا. اگر ہم نے پہلے سے اس پر کام کیا ہوتا تو اس وقت ہمیں بھارتی ذرائع ابلاغ اور سماجی ذرائع ابلاغ میں بھارت کے کشمیر رویے کے خلاف عوامی تحریک شروع کروائی جاسکتی تھی. اب بھی کچھ نہیں بگڑا کسی بھی قیمت پر یہ تحریک شروع ہوسکتی ہے. ان کے معتدل فکر دانشور اب بھی بھارت کے اس رویے پر تنقید کررہے ہیں اس کو ہائی لائٹ کریں اور لوگوں سے بیانات دلوائیں ان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں. نیوٹرل اذہان کی بھارتی پالیسیوں کے خلاف ذہن سازی کریں تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے. یاد رہے کہ یہ کام وہ آپ کے ملک میں ایک عرصے سے کررہے ہیں.

ان سب آف فیلڈ کاموں کے ساتھ آن فیلڈ بھی ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کریں. بالکل ایسے جیسے وہ پورے کشمیر اور سیالکوٹ سیکٹر پر کرتے رہتے ہیں. آپ کی چھوٹی موٹی کارروائیوں پر بھارت بہت بڑا واویلا کریگا. اس واویلے کے جواب دنیا کو مسئلہ کشمیر تازہ کروائیں. نیز اس کشمیریوں کو مثبت پیغام ملے گا کہ پاکستان ان کے عملی طور پر کچھ کررہا ہے. ان کے حوصلے بلند ہوں گے.

ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر دنیا نے بھارت کی اس آئین سازی کو قبول کر لیا کہ جس امکانات میری نظر میں بہت زیادہ ہیں. تو پھر ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہے گا. سندھ طاس بھی نہیں اور کسی پانی اور کسی دریا کی تقسیم کا جواز بھی.