دین پر استقامت - خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 15 ذوالحجہ 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " دین پر استقامت " ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے دین اسلام اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، حجاج کرام اور دیگر تمام عبادت گزاروں کو اپنی اپنی عبادات کی تکمیل پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور شکرانے کے لئے دین اور شریعت کے پابند بن جائیں، اپنی زندگی کے ہر گوشے میں دینی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں، اسی کو استقامت کہتے ہیں، اور یہ ہر مسلمان کی زندگی کا اکلوتا ہدف اور مقصد بھی ہے، استقامت انسان کو حب الہی اور اللہ کی تعظیم کے آخری درجے پر پہنچا سکتی ہے، استقامت کا اللہ تعالی نے اپنے نبی اور نبی کے تابعداروں کو بھی حکم دیا ہے، استقامت میں سب سے پہلے الوہیت ، ربوبیت اور اسما و صفات میں وحدانیت الہی کا تصور آتا ہے، اس لیے نبوی فرمان کے مطابق جب بھی مانگیں اللہ سے مانگیں، یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے صرف اللہ تعالی سے ہی مانگا، کیونکہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی نہیں کر سکتا، اپنی زندگی کے تمام گوشوں کو کتاب و سنت کی تعلیمات پر استوار کریں، حدود اللہ کا خاص خیال رکھیں، اور اگر کوئی غلطی یا گناہ سر زد ہو بھی جاتا ہے تو فوری اللہ سے معافی مانگ لیں، کیونکہ نافرمانی کی وجہ سے انسان کو دونوں جہانوں میں نقصان اٹھانا پڑے گا اور بصورت دیگر ہر جگہ پر امن و امان ہی پائے گا، پھر آخر میں انہوں سب کے لئے جامع دعا کروائی۔

اردو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے کلک کریں۔

پی ڈی ایف فارئل ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں۔

عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بہت قدر دان اور نہایت بردبار ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور بادشاہ و علم رکھنے والے اللہ کی رضا پانے والے صحابہ کرام پر سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد، لوگو!

کما حقہ تقوی الہی اپناؤ اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو، تو تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے۔

مسلمانو!

یہ اللہ تعالی کی ہم پر بہت بڑی نعمت ہے کہ ہماری اس دین کے لئے رہنمائی فرمائی اور ہمیں مسلمان بنایا، {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} تم پر جو اللہ کی نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں اور تمہارے ساتھ طے شدہ معاہدے کو یاد رکھو، جب تم نے کہا تھا کہ: ہم نے [معاہدہ]سنا اور مان لیا۔ اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ [المائدة: 7]

اللہ کی نعمتوں کی بدولت حج مکمل کرنے والو! اللہ کے احسانات کی بدولت نیکیوں کی بہاروں میں ہمہ قسم کی نیکیاں کرنے والو! ان نعمتوں پر اللہ جل و علا کا شکر ادا کرو، اللہ کے دین اور شریعت پر ثابت قدم ہو جاؤ، اللہ کی نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرنے سے باز رہو، تمہارے پروردگار کا فرمان ہے: {فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} تو اور تیرے ساتھ توبہ کرنے والے لوگ بھی اسی طرح ثابت قدم رہیں جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے اور حد سے نہ بڑھو، بے شک تم جو کچھ تم کرتے ہو وہ خوب دیکھنے والا ہے۔ [هود: 112]

سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "اللہ کے رسول! مجھے ایسی اسلامی تعلیم دیں کہ پھر مجھے آپ کے علاوہ کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے" تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، اور پھر اس پر ثابت قدم ہو جاؤ) مسلم

اس فانی زندگی میں مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالی کی وحدانیت پر استقامت اختیار کرے۔ دعائے عبادت اور حاجت، امید اور خوف، ڈر اور رغبت، قولی اور فعلی، قلبی اور جسمانی ، ظاہری اور باطنی ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لئے کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} کہہ دیں: یقیناً میری نماز، قربانی، زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لئے ہیں [162] اس کا کوئی شریک نہیں ہے، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اولین فرماں برداروں میں سے ہوں۔ [الأنعام: 162، 163]

یہ استقامت ہی ہے جو تمہیں کامل انکساری کے ساتھ اپنے خالق کی محبت میں انتہا تک پہنچا دے گی اور تم اس کی آخری درجے تک تعظیم بھی کرنے لگو گے، اس تعظیم میں ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات کے تمام تر تقاضے موجود ہوں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {اِتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ} تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی جانب سے جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کرو، اس کے علاوہ کسی بھی دوست کی اتباع نہ کرو۔ [الأعراف: 3]

ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (105) وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ (106) وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} آپ یکسو ہو کر دین حنیف کی طرف اپنی سمت قائم رکھیں اور مشرکوں میں شامل نہ ہوں [105]اور اللہ کے علاوہ کسی کو بھی مت پکاریں جو تمہیں نفع یا نقصان نہیں دے سکتے، اگر تم ایسا کرو گے تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے [106] اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ آپ سے کوئی بھلائی کرنا چاہے تو کوئی اسے ٹالنے والا نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فضل نوازتا ہے ، وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ [يونس: 105- 107]

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تم اللہ کو یاد کرو تو تم اسے اپنی سمت میں پاؤں گے، جب بھی مانگو تو اللہ سے ہی مانگو، اور جب مدد مانگو تو اللہ سے ہی مدد طلب کرو۔۔۔) ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

مسلم اقوام!

لوگوں کے لئے نجات دہندہ استقامت ہی ہے جو لوگوں کو ناقابل تسخیر عظمتِ الہی کے سامنے سرنگوں کر دیتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ مخلوق کتنی ہی بلند شان والی ہو، اس کا مرتبہ کس قدر ہی بلند کیوں نہ ہو؛ وہ پھر مخلوق ہی رہتی ہے جو کہ پیدا کی گئی ہے ، کسی کی زیر ملکیت ہے اور اس کے معاملات کوئی اور چلا رہا ہے، اللہ تعالی نے ساری مخلوقات میں سے افضل ترین اپنے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا: {قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ} آپ کہہ دیں: میں تو خود اپنے آپ کو نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سے مفادات حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو ایمان لانے والوں کو محض ایک ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔[الأعراف: 188]

اس لیے اللہ کے بندے! اللہ تعالی سے امید رکھ، صرف اسی سے مانگ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اپنی مشکل کشائی ، حاجت روائی اور تکلیفیں دور کرنے کی دعائیں اسی سے کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس تکلیف کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ کوئی بھلا کرنا چاہے تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[الأنعام: 17]

اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ} بھلا کون ہے جو لاچار کی پکار پر اس کی فریاد رسی کر کے اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کے جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے؟ تم بہت تھوڑی نصیحت حاصل کرتے ہو۔ [النمل: 62]

اللہ کی مخلوق! تمہارے اس زندگی میں وجود کا مقصد ہی یہ ہے کہ تم صراط مستقیم پر استقامت کے ساتھ چلو، تمہاری زندگی، اٹھنا بیٹھنا، معاملات سمیت ہر چیز نازل شدہ وحی اور سیرت النبی ﷺ کے مطابق ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اور بلاشبہ یہی میری سیدھی راہ ہے لہذا اسی پر چلتے جاؤ اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا کر جدا جدا کر دیں گی اللہ نے تمہیں انہی باتوں کا حکم دیا ہے شاید کہ تم تقوی حاصل کر لو۔ [الأنعام: 153]

اللہ کے بندے! قرآن کریم اور سنت سید الانبیاء والمرسلین پر ظاہری اور باطنی ہر انداز سے استقامت اختیار کر، تمہارے عقائد اور اعمال، فیصلے کرنے اور کروانے کے طریقے سب کچھ ان کے مطابق ہونا چاہیے، ہمارے پروردگار کا فرمان ہے: {وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ} آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کریں اور اس پر ڈٹے رہیں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔[يونس: 109]

{فَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ} چنانچہ آپ اسی دین کی دعوت دیں اور جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ڈٹ جائیں۔ اور ان کی خواہشات پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ : "میں اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا " [الشورى: 15]

اے مؤمن! حدود اللہ کا خاص خیال رکھیں، خالص اسی کے لئے اعمال کریں، نیک اعمال کا ارادہ اور ہدف اللہ کے لئے ہی ہو تو تم دائمی سعادت، امان اور عظیم کامیابی حاصل کر لو گے، دنیا ہو یا آخرت دونوں جہانوں میں خوش حال ترین زندگی گزارو گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (13) أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} یقیناً جن لوگوں نے کہا: ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ گئے تو انہیں کوئی خوف یا غم لاحق نہیں ہو گا [13] یہی لوگ ہیں جنتوں والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔[الأحقاف: 13، 14]

نیکیوں کی بہاروں کو ضائع کرنے والے! گناہ اور مہلک پاپ کما کر اپنے آپ پر ظلم ڈھانے والے! اپنے مولا کی طرف رجوع کر، اور تیرے دل میں امید اور آس جگانے والا فرمان سن، اس انداز سے سن کہ دل کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ جائے، اللہ تعالی کے اس فرمان سے رحمت اور محبت چھلکتی ہے، یہ فرمان تمام لوگوں کے لئے ہے چاہے ان کے پاپ کتنے ہی زیادہ ہوں ، انہوں نے گناہوں کے انبار لگا رکھے ہوں ، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} آپ کہہ دیں: اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے میرے بندو! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، یقیناً اللہ تعالی تمام تر گناہ معاف فرما دیتا ہے، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔[الزمر: 53]

اس فرمان کے بعد اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو وقت گزرنے سے پہلے توبہ اور انابت کی ترغیب بھی دلائی ہے کہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو ، چنانچہ فرمایا: {وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (54) وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} تم اپنے اوپر عذاب آنے سے قبل ہی اپنے پروردگار کی طرف رجوع کر لو اور اس کا حکم مان لو مبادا تمہیں کہیں سے مدد بھی نہ مل سکے۔ [54] اور تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف نازل کی گئی سب سے اچھی بات کی پیروی کرو ، قبل ازیں کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں شعور تک نہ ہو۔ [الزمر: 54، 55]

یا اللہ! ہمیں انابت اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے اپنے لیے اور سب مسلمانوں کے لئے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں، تم بھی اسی سے بخش طلب کرو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں صرف ایک اللہ کے لئے ہیں، درود و سلام ہوں خاتم النبیین پر کہ آپ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہے۔

حمد و صلاۃ کے بعد، مسلمانو! میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں۔

اللہ کے بندو!

اطاعت الہی پر ڈٹ جاؤ تو تم کامیاب ہو جاؤ گے، قرآن و سنت کی تعلیمات پر کار بند رہو تو دونوں جہانوں میں خوشیاں ہی خوشیاں پاؤ گے؛ کیونکہ عزت اور سیادت دین الہی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں پنہاں ہے۔ نیز عقیدہ توحید اور تقوی کی بدولت بہترین انجام حاصل ہو گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {اَلَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم [یعنی شرک] سے آلودہ نہیں کیا ؛ تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام: 82]

جبکہ ذلت، رسوائی، شرمندگی اور نقصان؛ گناہوں، معصیتوں اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی پر ملتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ} اور جو بھی اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کرے گا اور حدود اللہ سے تجاوز کرے گا تو اللہ اسے ہمیشہ کے لئے جہنم رسید فرمائے گا اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔[النساء: 14]

رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام افضل ترین اعمال میں سے ہے ، یااللہ! ہمارے حبیب، نبی ، رسول اور آنکھوں کی ٹھنڈک جناب محمد -ﷺ-پر درود و سلام، برکتیں اور نعمتیں نازل فرما۔

یا اللہ! اہل بیت، تمام صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین نیز ان کے نقش قدم پر روزِ قیامت تک بہترین انداز سے چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

یا اللہ! مومن مرد و خواتین کو بخش سے، مسلمان مرد و خواتین کو بخش دے، یا اللہ! زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما دے۔

یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات سنوار دے۔ یا اللہ! سب مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! ان کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مسلمان مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! غریب مسلمانوں کو مالدار کر دے، یا اللہ! ان کے دلوں میں الفت ڈال دے، یا اللہ! حق اور تقوی پر انہیں متحد فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما دے۔

یا اللہ! تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما، وہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما، وہ تجھے عاجز نہیں کر سکتے، یا اللہ! انہیں ذلیل و رسوا کر دے، یا اللہ! انہیں ذلیل و رسوا کر دے، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو صرف تیری پسند اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد تو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جس میں تیری رضا شامل ہو، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! تمام مسلم حکم رانوں کو صرف وہی اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں ان کی رعایا کی بھلائی ہو۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہماری عبادات قبول فرما، یا اللہ! ہمارے گناہوں کو دھو ڈال، یا اللہ! ہمارے درجات بلند فرما دے، یا اللہ! ہمارے درجات بلند فرما دے، یا اللہ! ہمیں بھی راضی کر دے اور تو بھی ہم سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہمیں بھی راضی کر دے اور تو بھی ہم سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہمیں بھی راضی کر دے اور تو بھی ہم سے راضی ہو جا، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ! تمام حجاج اور معتمرین کو صحیح سلامت اپنے اپنے علاقے میں واپس پہنچا، یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! تمام حجاج اور معتمرین کو صحیح سلامت اور ڈھیروں اجر و ثواب کے ساتھ اپنے اپنے علاقے میں واپس پہنچا، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! ہماری اور تمام حجاج کی ضروریات اپنی رحمت سے پوری فرما دے، یا اللہ! ہماری اور تمام حجاج کی ضروریات اپنی رحمت سے پوری فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمانوں کی ضروریات پوری فرما دے، یا ذالجلال والا کرام! یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند اور محبوب ہوں، یا اللہ! ہمیں صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند اور محبوب ہوں۔

ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.