بچوں کی پوٹی ٹریننگ کیسے کی جائے؟ نیر تاباں

جب جب ڈائپر چھڑوانے کی بات ہوتی ہے، ماؤں کا سوال ہوتا ہے کہ ڈائپر استعمال نہ کریں تو کیا کریں۔ دو تین چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ چھوٹے ہوتے سے ہی بچوں کو باتھ روم لیجانے لگیں۔ کتنے چھوٹے؟ جیسے ہی آپکی صحت تھوڑی بہتر ہو۔ جی، دو تین ہفتے کے بچے سے ہی! بچے اپنے تاثرات سے بتا دیتے ہیں جب بھی انہیں حاجت ہوتی ہے۔ اب ننھے بچے کیساتھ اور اتنے کام ہوتے ہیں کہ یہ ایک اضافی کام انسان جان چھڑاتا ہے۔

میں پھر بھی کہوں گی کہ ہو سکے تو اسکی کوشش کریں،
Elimination Communication
پر سرچ کریں۔ آپ کو حوصلہ ملے گا کہ ایک آپ ہی نہیں، آج بھی بہت سے لوگ یہ طریقہ اپناتے ہیں اور انکی success stories ہیں۔ باتھ روم لیجا کر بچے کی پشت اپنے سینے سے لگائیے اور سسسسس کی آواز نکالیے۔ آپ نے بس یہی کرنا ہے، باقی کام بچے نے کرنا ہے.
اگر یہ زیادہ مشکل لگتا ہے تو کپڑے کے ڈائپر استعمال کریں۔ جاذب کپڑے کے کافی سارے ڈائپرز بنا لیجیے، بنوا لیجیے، یا خرید لیجیے اور ڈسپوز ایبل ڈائپرز کے بجائے یہ استعمال کیجیے۔ ڈسپوز ایبل ہو یا ری یوز ایبل ڈایپر، کسی بھی صورت میں بچے کو پہلی فرصت میں اس مصیبت سے آزاد کریں۔ اس قدر گرمی میں جب اپنے باریک کپڑے بھی جسم پر چبھتے ہیں، بچے غریب کو ڈایپر میں ڈالا ہوتا ہے۔ ایک غلاظت، اوپر سے گرمی۔ وہ کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن آپ تو محسوس کر سکتے ہیں ناں اسکی مشکل؟ سوا سال، ڈیڑھ سال کا بچہ پاٹی ٹریننگ کے لئے بالکل بھی چھوٹا نہیں ہے۔ ابھی پچھلے ہی سال پاکستان گئی تو اپنی ڈیڑھ سالہ بھتیجی کو تین چار دن میں ٹرین کر لیا تھا۔ پہلے احمد کو بھی اسی عمر میں فل ٹائم ٹرین کر لیا تھا۔

کرنا کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ بچے کو جتنا زیادہ عرصہ ڈائپر میں رکھیں گے، اتنی ہی اسکی عادت پختہ ہو جائے گی۔ پھر اسے خود بھی باتھ روم جانے کی تکلیف کرنے سے بہتر ڈائپر ہی لگے گا۔ اسلئے پہلی بات یہی کہ بالکل چھوٹے بچے کو ٹرین کریں۔ آجکل گرمیوں کا موسم ہے تو یہ بہترین وقت ہے۔
* گھر سے چھوٹے قالین کچھ دن ہٹا لیں۔ باقی قالین پر کوئی شیٹ وغیرہ بچھا لیں۔
*بچے کو بالکل ڈھیلا پاجامہ پہنائیں تا کہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں اسکو کراہیت محسوس ہو۔ خود بھی کہیں کہ اوہو، یہ دیکھیں کیا ہو گا۔
* الارم لگا کر رکھیں اور ہر کچھ دیر میں باتھ روم لیجائیں۔
* اگر بچہ متذبذب ہے تو اسکا بھالو، گڑیا، کار کو باتھ روم میں "بٹھائیں" اور پھر شاباش بھی دیں کہ کتنی اچھی گڑیا، کتنا اچھا بھالو ہے، باتھ روم جاتا ہے۔
* کوشش کرنے کی صورت میں بچے کو شاباش دیں، ہائے فائیو اور خوب پیار کریں۔
* بچے کے سامنے باقیوں کو بتائیں بھی کہ میرا بیٹا تو اب بڑا ہو گیا ہے، باتھ روم بھی جاتا ہے۔
* خوبصورت رنگوں یا ڈیزائن والا انڈر ویئر بھی خرید دیں کہ اب ہم گندے ڈائپر کو بائے بولیں گے اور یہ دیکھیں، کتنا پیارا انڈر ویئر۔

* اگر سب کچھ اتنا آئیڈیل نہیں ہو رہا تو بھی بھالو اور گڑیا کو لیجاتے رہیں۔ کہانیاں بھی سنائیں کہ ایک بچہ اتنا اچھا تھا۔۔ اور آگے کہانی بنا لیں۔ اگر رونا دھونا ہو تو زبردستی نہ کریں۔ کچھ دن کا بریک دے کر پھر سے شروع کریں۔ ڈانٹ ڈپٹ کر کے باتھ روم جانے کو ایک جنگ نہ بنا لیں۔ ہماری غلطیوں کی سزا بچے کو نہیں ملنی چاہیے۔
* بچے کو روبوٹ نہ سمجھیں کہ اسکی ایک دو سال کی عادت ایک دن میں چھوٹ جائے گی، وہ کل ہی آپ کو بتانے لگے گا کہ مجھے باتھ روم لیجائیں۔ اور کسی دن بھی پاجامہ گیلا نہیں کریگا۔ وہ شاید کچھ عرصہ نہ بتائے، آپکو خود ہی خیال رکھنا ہے۔ کبھی نہ کبھی گڑ بڑ بھی ہو جائے گی، ایسے میں بچے کو ڈانٹیں نہیں۔ بس اسکو بتا دیں کہ اوہو، یہ تو ٹانگیں گندی ہو گئیں، پاجامہ خراب ہو گیا۔ آئیں ہم بدل لیں۔ اگلی بار ہم وقت پر باتھ روم جائیں گے۔
پاٹی ٹریننگ ایسے دنوں میں شروع کریں جب کم از کم ایک ہفتہ آپ گھر پر ہوں۔ ان دنوں ملنے جانا، شاپنگ، گھومنا پھرنا نہ ہو۔ ایک بار ڈایپر اتار دیا، تو اتار دیا۔ بار بار کبھی آن کبھی آف کر کے بچے کو کنفیوز نہ کریں۔ بچہ سمجھ نہیں پاتا کہ کب باتھ روم جانا ضروری ہے اور کب ڈایپر ہے اور باتھ روم نہ جانا بھی خیر ہے۔

گھر میں دیورانی، جیٹھانی، نندیں جو بھی ہیں وہ ساتھ مدد کروائیں۔ ماں کے اتنے کام ہوتے ہیں، ایسے میں اگر آپ یہ مدد کر دیں گی تو بچے کا بھلا ہو جائے گا۔
رات کے وقت ڈائپر چھڑوانے کے لئے بیڈ پر واٹر پروف شیٹ ڈال لیں۔ حادثات کے لئے تیار رہیں۔ سونے سے دو گھنٹے پہلے ہی دودھ، پانی وغیرہ دے دیں تا کہ سونے سے فورا پہلے لیکویڈ نہ دیا جائے۔ بچے کے سونے کے بعد کوئی چالیس پچاس منٹ بعد باتھ روم لیکر جائیں۔ اسکے بعد ایک دفعہ رات کا الارم لگا لیں۔ پہلے دن کے "ایکسیڈنٹ" سے آپ کو وقت کا اندازہ ہو جائے گا۔ اگلے دن اس سے پندرہ بیس منٹ پہلے کا الارم لگا کر رکھیں۔ جاگتے ساتھ ہی باتھ روم لیکر جائیں۔
ان گرمیوں میں بچے کو ڈایپر فری کروانے کو اپنا گول بنا لیں۔ یہ اتنا مشکل نہیں جتنا سننے میں لگتا ہے۔ آپ کر لیں گی! ذرا سی کوشش! 🙂
نوٹ: ڈائپر لینڈ فل میں ڈی کمپوز ہونے میں ۵۰۰ سال لگا دیتے ہیں۔پوٹی ٹرین ہونے سے پہلے ایک بچہ ۷۰۰۰ ڈایپر اوسطا استعمال کرتا ہے۔ اب آپ کے دو تین بچے ہیں تو دیکھ لیں ماحول پر یہ چیز کیا اثر چھوڑ رہی ہے۔۔۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.