قرآن کی چار مثالی خواتین - ڈاکٹر بشری تسنیم

اللہ رب العزت کا ہر انسان پہ خاص احسان ہے کہ اس نے اپنے بندے کو وہ مردہو یا عورت ایک مثالی کردار عطا کر رکھا ہے۔ جس کو سامنے رکھ کر وہ رب کی رضا کا پیمانہ جانچ پرکھ سکتا ہے۔ جنت کی طلب گار مومنات کے سامنے تاریخ اسلامی کی چار خواتین نمونہ ہیں۔ یہ چار وہ مکرم خواتین ہیں جن کو خواتین جنت کی سردار ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ سبحان اللہ ! کہ وہ کیا لمحہ ہوگا جب ہم ان میں سے کسی ایک کی ہمسائیگی کی نوید سنیں گی۔

زرا تصور کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کریں کہ جنت کی وہ چار شاندار کالونیاں کیسی ہوں گی جو ان مثالی خواتین کے نام سے وابستہ ہوں کی اور جن میں سے کسی ایک میں ہمارا بھی گھر ہو سکتا ہے۔

مومنات کے سامنے داعی ہونے کی حیثیت سے ازدواجی زندگی کی چار صورتیں ہی پیش آسکتی ہیں ۔ مومنہ عورت کا شوہر اگر تقوی، دین ،علم و عمل داعی الی اللہ کے فرائض میں اس سے بہتر ہے تو اس کے سامنے نبی کی بیوی سیدہ خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنھا کا اسوہ موجود ہے۔ داعی کی بیوی کو کیسا ہونا چاہیے اپنے سے بہتر متقی شوہر کا ساتھ کیسے دینا چاہئے؟ اپنا تن من دھن کیسے اس کے مشن میں لگانا چاہئے اور کس طرح اس کو قلبی راحت اور گھر کا سکون مہیا کرنا چاہیے اور تنگی و ترشی کے نا مساعد حالات میں صبر و ثبات کا نمونہ کیسے بننا چاہیے؟ اگر اپنی پیاری محترم ماں کا قرب چاہئے پیارے نبی کی سب سے محبوب بیوی کی جنت میں اپنے گھر کی خواہش ہے تو پھر یہی اسوہ ہے یہی مثال ہے اور انہی کی زندگی قابل تقلید ہے کہ جن کو دنیا میں بھی رب کریم نے سلام بھیجا اور ان کا تزکرہ کیا ، یاد کیا ، سراہا اور تعریف کی اور اپنے حبیب محمد صل اللہ علیہ وسلم کے دل کی ملکہ بنایا۔

دنیا میں بھی وہ خاتون اول تھیں اور جنت میں بھی وہ خاتون اول ہی ہوں گی اور سلطنت بہشت کی ملکہ عالیہ ہوں گی ۔سلام اللہ علیھا. وہ مومنہ جس کا شوہر علم و عمل، تقوی تعلیم و تربیت اور داعی الی اللہ کے حوالے سے برابر کی سطح پہ ہے تو اس کے لئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا اسوہ کامل موجود ہے۔ جنت کی نوجوان خواتین کی لیڈر، قائد ،سربراہ اور سردار کی رفاقت نصیب ہو جانا کیا کچھ کم خوش نصیبی ہے؟ اللہ تعالی کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے باپ ہیں اور ماں وہ ہے جو پہلے ہی جنت کی خاتون اول ہے ۔کیا خیال ہے اس مبارک وقت کے بارے میں جب میرا آور آپ کا گھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا زوجہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی کالونی میں ہو اور وہاں سے قریب ہی سیدہ خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنھا کی جنت ہو اور ہمارا آنا جانا لگا ہوا ہو ان مبارک گھروں میں ۔ اللہ اکبر !اللہ اکبر!

تو پھر آج سے ہی اپنے اس شوہر کی قدر کیجیے، جو داعی ہے اس سفر میں آپ کا ساتھی ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سیرت کو ازبر کیجئے سادگی ، تعلق باللہ ،گھر کی حفاظت عزت آبرو اور حیا کے اسی پیمانے کو سامنے رکھئے جو کہ بنت محمد سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا نے قائم کیا۔ زندگی امتحان لیتی ہے تو پھر کسی مومنہ عورت کے لئے سیدہ آسیہ علیھا السلام زوجہ فرعون کی مثال موجود ہے ۔یہ کردار سبق دیتا ہے کہ شوہر فرعون وقت بھی ہو تو ایمان کو آنچ نہیں آسکتی، جنت کی سردار ہونا تب ہی ممکن ہے جب ایمان کے اس قدرکڑے امتحان میں کامیاب ہو جایا جائے ۔ اس مومنہ کی مثال سامنے رکھ کر جنت کی اس کالونی میں گھر لیا جا سکتا ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن پاک میں کیا ہے سیدہ آسیہ علیھا السلام کی وہ جنت جس کی شان ناقابل بیان ہے فرعونی مزاج کے شوہروں کی بیویوں کو تسلی ہوجانی چاہیئے کہ ان کے لئے ایک ایسی جنت کا وعدہ ہے جو ان کی اپنی ہوگی بلا شرکت غیرے ہوگی اس کی قیمت سیدہ آسیہ سلام اللہ علیھا کے کردار کو حرز جاں بنانا ہے توکل علی اللہ، استقامت ایمان ، دنیا و ما فیھا کے مقابلے میں جنت میں ایک گھر کی خواہش۔

سبحان اللہ کیا قدر ہے اس خواہش کی کہ وہ تمنا ہر مومن مرد و عورت کی تمنا بنا دی گئ ۔ ان تین حالات کے علاوہ کسی بھی عورت کو زندگی میں جس معاملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہے تنہا زندگی گزارنا ۔ بغیر شوہر کے وہ وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے ۔شادی نہ ہو سکنا یا شادی ختم ہو جانا یا بیوہ ہونے کی صورت میں تنہا رہ جانا ۔ ان حالات میں بھی ایک ایسی تنہا عورت کا نمونہ موجود ہے جو جنت کی سردار ہے اور جس کی تعریف رب العلمین نے خود کی کہ اس کا تقوی ، توکل علی اللہ ،راضی برضا رہنا اس شان کا تھا کہ اس نے ایک کڑے امتحان کو سہولت سے پاس کر لیا اور اللہ رب العزت نے خود اس کو ڈگری جاری کی کہ وہ اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والی تھی تو تنہا رہنے کا امتحان پاس کرنے کے لئے سیدہ مریم علیھا السلام کا اسوہ موجود ہے اور اس کالونی میں جنت اپنے نام کروانے کی کوشش ایمان کا حصہ بنا لینا ہے جو سیدہ مریم علیھا السلام سے منسوب ہوگی۔

یہ چار خواتین ہیں جو جنت کی سردار ہیں اور ان چار خواتین میں سے کس کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے ہماری زندگی، اور ہم اس زندگی کی کیا قیمت لگانا چاہتی ہیں؟
فیصلہ ہمارا اپنا ہے