ٹرمپ کا افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا دعوی - سید امجد حسین بخاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ جی ہاں آپ کے پیش رو بھی اسی خمار میں مبتلا ہو کر افغانستان آئے تھے، تورا بورا کی کلسٹر بمبنگ سے کون واقف نہیں، کسے خبر نہیں کہ جتنے بم امریکہ نے افغانستان پر داغے اتنا بارود تو دونوں عالمی جنگوں میں بھی استعمال نہیں ہوا۔ ٹرمپ جی آپ سے پہلے آنے والے صدور آپ سے زیادہ طاقت کے نشے میں دھت تھے۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے صدر نے اتنا بڑا بم پھینکا کہ وہاں چاند جیسا گڑھا پڑ گیا۔ جناب عالی! کیا آپ کو بریفنگ نہیں دی گئی کہ افغانستان سے آپ نے اپنے فوجیوں کے کتنے تابوت واشنگٹن میں ریسیو کیے۔ کیا آپ کو پنٹاگون نے بریفنگ میں نہیں بتایا کہ اجلی وردیوں میں ملبوس فوجیوں کو بوریوں میں بند کر کے افغانستان سے لایا گیا۔ یقینا آپ کو خبر نہیں ہوگی کہ افغان جنگ سے واپس آنے والے فوجی نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ آپ اگر تاریخ کا مطالبہ کر لیتے تو آپ کو علم ہوجاتا کہ تاج برطانیہ جس کا چہار عالم میں ڈھنکا بجا کرتا تھا، وہ بھی افغانستان میں اپنا جھنڈا لہرانے میں ناکام ہوا تھا۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ گرم پانیوں تک رسائی کا سوویت خواب بھی افغان کہساروں میں چکنا چور ہوا تھا۔ کاش کہ آپ کو کوئی علامہ اقبال کی ضرب کلیم کا نسخہ دے دیتا جس میں انہوں نے محراب گل افغان کے افکار تحریر کیے تھے۔ جس میں انہوں نے افغانیوں کو پیغام دیا تھا کہ


اے مرے فقر غيور ! فيصلہ تيرا ہے کيا

خلعت انگريز يا پيرہن چاک چاک


جناب ٹرمپ! زلمے خلیل زاد نے تو آپ کو ضرور بتایا ہوگا کہ چاک چاک پیرہن زیب تن کیے ہوئے افغانی ان کے سامنے بیٹھے تھے، وہ تھری پیس میں ملبوس ہونے کے باوجود بھی چاک پیرہن افغانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکے تھے۔ یاد رکھیں! طاقت کا نشہ روس، تاج برطانیہ، مسلم حکمرانوں اور دیگر حملہ آوروں کو بھی تھا۔ جو امریکہ سے کئی گنا زیادہ طاقتور تھے، جو جہاں سے گزرتے نشان عبرت چھوڑ کر جاتے تھے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جس نے افغانستان کا رخ کیا، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا، افغانیوں کو صحفہ ہستی سے مٹانے والے خود ہی بے نشان ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   مصر سے مکہ اور کشمیر تک - محمد رضی الاسلام ندوی

میرے بھولے بادشاہ! سکندر اعظم سے نادر شاہ تک اور سوویت یونین سے امریکہ تک سب نے افغان دھرتی پر اپنے قدم جمانے کی کوشش کی اور سب کو یہاں منہ کی کھانا پڑی۔ امریکہ نے بے شک کروسیڈ کے نام پر افغانستان پر چڑھائی کی جس میں بے شک افغانیوں کو بیشتر مسلم ممالک کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے غیرت ملی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور آج ان کے عزم و حوصلے کی جیت ہے کہ امریکہ اور پچاس ملکی اتحاد نیٹو یہاں سے ’’ با عزت‘‘ واپسی کیلئے کوششیں کر رہا ہے۔

جناب ٹرمپ ! آپ نے گذشتہ سال نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ تو پڑھی ہوگی جو اس نے نائن الیون کے سترہ سال مکمل ہونے پر شائع کی تھی ، ہاں وہی رپورٹ جس میں کہا گیا کہ اس جنگ میں اب تک 2200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ افغان فوجیوں کی ہلاکت 30 ہزار سے زائد ہے۔ اسی طرح اس جنگ میں امریکہ کو 840 ارب ڈالر کے اخراجات اٹھانے پڑے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ اخراجات نہ صرف جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات میں سب سے زیادہ ہیں بلکہ یہ اس رقم سے بھی زیادہ ہے جو امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر مغربی یورپ کی تعمیر پر مارشل پلان کے تحت اٹھائے تھے۔ آپ کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ اس سب کہ باوجود افغانستان کے 63 فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔

افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھنے سے قبل آزاد زرائع کی اس رپورٹ پر ایک نظر دوڑا لیں جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت افغانستان میں 14 ہزار امریکی اور 8 ہزار نیٹو سپاہ موجود ہے جبکہ امریکی حمایت یافتہ افغان فوج کی تعد 3لاکھ 14 ہزار ہے جبکہ طالبان کی تعداد صرف 50ہزار ہے لیکن طالبان پھر بھی ان پر حاوی ہیں۔ آپ افغانستان کو ثقافتی طورپر بنجر بنانے کے خواب بھی دیکھ رہے تھے، افغان خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کیلئے آپ نے یو ایس ایڈ کے ذریعے 280ملین ڈالر کی سرمایہ کاری تاکہ 75ہزار خواتین کو چار دیواری سے باہر نکالا جائے، لیکن آپ کے اس منصوبے سے صرف 55 خواتین نے استفادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا بحران عالمی ضمیر کا امتحان - چوہدری محمد الطاف شاہد

شکست تسلیم کرنا حوصلے کا کام ہے، لیکن آپ میں یہ جرات اور حوصلہ کہاں سے آئے گا، آپ کو تو علم ہے کہ آپ طالبان سے جنگی اور اخلاقی محاذ پر شکست کھا چکے ہیں، اب آپ صرف ہڈیاں سمیٹنے اور عزت سادات بچانے کیلئے آخری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ آپ تسلیم کر لیں کہ آپ کو اب طالبان کی شرائط پر افغانستان سے نکلنا ہوگا۔
طالبان نے جس طرح امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ، یقینا ایسے ہی سپوتوں کیلئے محراب گل نے پیغام دیا ہوگا۔ انہوں نے افغانوں کو اپنی مٹی سے عشق کا جو پیغام دیا ہے طالبان نے اس پیغام کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔


روز ازل سے ہے تو منزل شاہین و چرغ

لالہ و گل سے تہی نغمہ بلبل سے پاک

تیرے خم و پیچ میں میری بہشت بریں

خاک تری عنبریں آب ترا تاب ناک


امریکہ سے مذاکرات کے لیے مختلف مواقعوں پر موجود طالبان قیادت کے چاک پیرہن دیکھ کر افغانیوں کے عزم و ہمت اور جوانمردی کا قائل ہوگیا ہوں۔ وقت جو بھی ہو، آپ کے مقابل کتنا بھی خطرناک دشمن کیوں نہ ہو، جب آپ حق پر ہیں، جب آپ کا عزم ہمالیہ سے مضبوط ہے اور آپ کے اندر جیت کا جذبہ ہے تو یقین جانیں شکست آپ کے پاس بھی نہیں پھٹکے گی۔ میری نظر میں یہی وہ جذبہ تھا جس نے آج 18 سالوں بعد امریکہ کو افغانستان سے واپسی کیلئے ’’عزت‘‘ کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا ہے۔ جناب ٹرمپ! طاقت کے نشے کے بجائے حکمت سے کام لیں اور طالبان سے ایک بار پھر ’’سوری‘‘ کرلیں شاید کہ ان کے دل میں ’’رحم‘‘ آجائے اور آپ کی باعزت واپسی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔