اٹھو کہ خواجہ بطحا کی حرمت کا سوال ہے - صالحہ نور

دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن برطانیہ کے آئین میں تخت برطانیہ کی گستاخی کرنے والوں کے خلاف مختلف قسم کی سزائیں لاگو ہیں۔ جرمن نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام، جسے ہولو کاسٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس کی وقوع پذیری پر صرف شک کرنے والوں کے خلاف یورپ کے بیشتر چھوٹے بڑے ممالک میں قانون سازی کی جا چکی ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آئین میں ایسی حد یا ریڈ لائنز رکھے جس کو عبور کرنے کی کسی میں جرات نہ ہو، جس پر بری نظر رکھنے والے کی میلی آنکھ نکال باہر پھینک دی جائے۔ 1974ء کا تحفظ ختم نبوت بل اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

محسن انسانیت، تاجدار ختم نبوت صلی اللہ عليہ وسلم كی محبت اور اسلام سے وابستگی کی نظریاتی اساس پر قائم مملکت خداداد پاکستان میں خوش قسمتی سے ختم نبوت کے تحفظ کا قانون نافذالعمل ہے، جس کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے اندراور باہر جدوجہد کی ایک طویل اور قربانیوں کی لا زوال داستان ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں بحث و مباحثے اور جانبین کی طرف سے دلائل کے متعدد سیشنز کے بعد قانون ساز اداروں کو ادراک ہوا کہ ختم نبوت پر شب خون مارنے والے فتنہ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ ناسور ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردے گا۔ یوں 1974ء کا تحفظ ختم نبوت بل پاس ہوا۔ اس ایکٹ کے نفاذ کے باوجود ہر تھوڑے عرصہ کے بعد خصوصا دو ڈھائی عشروں سے قادیانیت سے متعلق کوئی نہ کوئی ایسا ایشو ضرور اٹھتا ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ابھی بھی فتنہ زوروں پر ہے۔

کلیدی عہدوں پہ قادیانیوں کی تعیناتی، عوامی احتجاج کے بعد گو مگو کی کیفیت میں تقرری کو روکنا، قادیانیت سے متعلق درسی نصاب میں مبینہ تبدیلی پر واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار نہ کرنا، وزراء کی سطح کے حکومتی رہنماؤں کی طرف سے وقتا فوقتا قادیانیوں کی حمایت اور خفیہ ملاقاتیں، اس خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

وزیراعظم کے دورہ امریکا سے عین پہلے ایک سزا یافتہ قادیانیت کا پرچار کرنے والے شخص کی بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج کے ساتھ امریکی صدر سے ملاقات ایک ایسا منظرنامہ سامنے لا رہی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے قانون کی تبدیلی اس دورے کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت سے ہر پاکستانی کا اتفاق یا نظریاتی اور سیاسی اختلاف اپنی جگہ برقرار ہے، مگر ایک مسلمان ہونے کے ناطے وزیراعظم صاحب سے گزارش ہے کہ معیشت سیاست اور دیگر شعبہ ہائے حکومت میں جس قسم کی بھی پالیسییز اختیار کریں، جی بھر کے ٹیکس لگائیں، کرپشن کے الزامات کی چھتری تلے سب کو اندر کردیں، نااہل اور نالائق ترین افراد کو وزارتوں کی سیٹ پر بٹھا دیں، ڈالر کو آپ کی بلا سے 500 تک بھی پہنچا دیں، پھر بھی گزارا نہ ہو تو قبروں پہ بھی ٹیکس لگادیں، واللہ ہم یہ بھی نہ کہیں گے کہ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے. لیکن خدارا اس ملک کی بقاء کے ضامن اس قانون کو نہ چھیڑیں۔ بے شک آپ امریکہ سے تعلقات ضرور استوار کریں مگر ناموس رسالت کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ چاکری کریں مگر اتنی نہیں کہ اس شاخ کی جڑوں کو کاٹ بیٹھیں جہاں سے آپ وابستہ ہیں۔ اس قانون کے تحفظ کو اپنا ایمانی فریضہ جانتے ہوئے اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہ کریں کہ یہی "ایاك نعبد وإياك نستعین" کا تقاضا ہے، اور اسی "أنا خاتم النبیین" پر ریاست مدینہ کی باوقار بنیاد رکھی گئی تھی۔