وقت کی اہمیت اور اس کا استعمال - مولانا عثمان الدین

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، قدرت کی ان نعمتوں میں ایک نعمت ”وقت“ بھی ہے جو کہ ایک بہت بڑی نعمت اور انسان کی زندگی کا قیمتی اثاثہ ہے۔ وقت کی یہ نعمت دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو بلا تفریق حاصل ہے۔ وقت انسان کی زندگی کا دوسرا نام ہے اور زندگی اسی کی مرہون منت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کادنیا میں مقررہ وقت پورا ہوتا ہے تو اسی کے ساتھ ہی اس کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف ارشادات میں وقت کی اہمیت کو بیان کیاہے اور اس کو غنیمت جان کر اس کی قدر کرنے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔ شریعت کے احکام مثلا نماز، روزہ، زکوٰة اور حج جیسے بڑے اعمال میں بھی وقت کی خاص رعایت رکھی گئی ہے۔ اس کا ایک مقصد لوگوں کے ذہن میں وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، اس لیے اس نعمت کی قدر کرنا اور اس کا درست استعما ل کرکے اس کو ضائع ہونے سے بچانا نہایت ضروری ہے اور یہی اس عظیم نعمت کا حقیقی شکر بھی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بد قسمتی سے وقت کی اس نعمت کی ناقدری و ناشکری بہت عام ہوچکی ہے کیوں کہ اس نعمت کی سب سے بڑی ناقدری و ناشکری اس کو ضائع کرنا ہے اور ضیاع وقت کا مرض اب معاشرے اس قدر عام ہوچکا ہے کہ کوئی اس کو برائی ہی نہیں سمجھتا۔ لوگوں میں فضول و لایعنی کاموں کے لیے وقت کو ضائع کرنا معمول بن چکا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں وقت کی قدر و قیمت اور اہمیت کے بارے میں آگاہی بہت کم ہے۔ لوگوں میں ایک بہت بڑے طبقے کو یہ شعور ہی نہیں ہے کے وقت کی اہمیت کیا ہے اور اس کو استعمال کس طرح کرنا چاہیے؟ اس لیے وہ اپنے اوقات کو ضائع کرتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ضیاع وقت کے اسباب بہت زیادہ ہوچکے ہیں جن سے اپنے اوقات کی حفاظت کرنا کسی بڑی جدو جہد سے کم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر موبائل اور اس میں سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال وقت کا سب سے بڑا دشمن ہے اور یہ دشمن تقریبا ہر ایک کے ہاتھ میں ہے، یہ محض ایک مثال ہے۔ بنیادی طور پر ان دو وجوہات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ خطرناک حد تک ضیاع وقت کی بیماری میں مبتلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

انسان اپنی زندگی میں کوئی بھی کام کرے تو اس سے پہلے یہ ضرور سوچے کہ اس کام میں مےرے لیے دین یا دنیا کا کوئی فائدہ موجود ہے یا نہیں۔ اگر کسی کام میں کوئی فائدہ نہیں ہے تو وہ فضول اور لایعنی کام ہے اور اس سے اپنے وقت کی حفاظت کرنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔ اگر ہم نے ہر کام کرنے سے پہلے اس سوچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا تو ہمارے لیے اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچا نا آسان ہوجائے گا۔ خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک شخص حاضر ہوا اور ایک کرتب دکھایا کہ فرش کے بیچ میں ایک سوئی کھڑی کی اور پھر ہاتھ میں مزید سوئیاں لے کر کچھ فاصلہ پر کھڑا ہوگیا اور ان سے فرش پر کھڑی سوئی کا نشانہ لینا شروع کیا، اس نے اس طرح کئی سوئیاں پھینکی اور سب کی سب فرش پر کھڑی سوئی کے ناکے میں داخل ہوکر پار ہوگئیں۔ اس منظر نے خلیفہ سمیت تما م دربار والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اس کو دس دینار انعام دینے اور ساتھ ہی دس کوڑے مارنے کا حکم دیا، حاضرین نے وجہ پوچھی تو کہا کہ دس دینار انعام تو اس کی ذہانت اور تجربے کی وجہ سے ہے اور دس کوڑے اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے وقت اور صلاحیت کو ایسے کام میں ضائع کیا جس میں دین و دنیا کسی کا فائدہ نہیں ہے۔

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا مستقبل ہوا کرتی ہے اس لیے ان کا وقت صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے اہم ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے اوقات کو ضائع کرتی ہے تو یہ پوری قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل اس وقت اپنے قیمتی اوقات کو بے دریغ ضائع کرنے میں مصروف ہے جو ہمارا المیہ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک تعلق جو ادھورا رہا تھا - راحت نسیم روحی

غرض یہ کہ ہمیں من حیث القوم ضیاع وقت کی اس بیماری پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب سے پہلے اپنے اوقات کی قدرو قیمت اپنے ذہن میں بٹھائیں اور پھر ان اوقات کا درست استعمال کرکے ان کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ ترقی وہی قوم کرتی ہے جو اپنے اوقات کی حفاظت کرتی ہے اور ان کا درست استعما ل کرتی ہے۔ جو قوم اپنے اوقات کو ضائع کرتی ہے ترقی کبھی اس کا مقدر نہیں ہوتی ہے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ”وقت کی مثال تلوار کی ہے، اگر اس کا صحیح استعما ل کیا تو ٹھیک ہے ورنہ وہ تمہیں کاٹ دے گی“۔ ہمیں وقت کی اس کاٹ سے اپنی حفاظت کرنی ہے۔