حقیقی مظلوم عورتیں فریادی ہیں، ان کی مدد کیجیے - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ہندوستان کی مودی حکومت نے اپنے دوسرے ٹرم کا آغاز کرتے ہی تین طلاق بل لانا ضروری سمجھا۔ اس سے پہلے یہ بل دو مرتبہ لوک سبھا میں منظور ہوجانے کے بعد راجیہ سبھا میں نا منظور کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود حکومت بہ ضد ہے کہ مسلم خواتین بہت زیادہ مظلوم اور اپنے حقوق سے محروم ہیں، وہ انھیں ان کا حق اور ظلم سے نجات دلا کر رہے گی۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ وہ حکومت، جو اپنی مسلم دشمنی میں مشہور ہے، جو مسلمانوں پر ہونے والے ہجومی تشدّد کی یلغار پر نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، بلکہ درپردہ انھیں تحریک فراہم کررہی ہے، وہ مسلم خواتین کے لیے اتنی ہمدرد کیسے ہوگئی؟

جس بِل کو قانون کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اس پر بہت زیادہ بحث ہوچکی ہے اور اس میں بہت سی خامیاں اجاگر کی جا چکی ہیں، لیکن حکومت نے ان پر توجہ نہیں کی اور وہ خامیوں سمیت اسے منظور کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ مثلاً طلاق کا نظام اور طریقہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔ اسے مذہب سے الگ کرکے خالص سماجی معاملہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مسلمانوں کے نزدیک تین طلاق ایک ساتھ دینا بدعت اور ناپسندیدہ ہے، لیکن ان کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی یہ طریقہ اختیار کرتا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ بس اتنا اختلاف ہے کہ تین طلاق ہوگی یا ایک، اب اگر بل میں یہ شق شامل کی جائے کہ تین طلاق ایک ساتھ دینے سے طلاق واقع ہی نہیں ہوگی تو یہ مسلمانوں کے عائلی معاملات میں کھلی مداخلت ہے، جس کی ملک کا دستور قطعی اجازت نہیں دیتا۔ بل میں ایک شق یہ شامل کی گئی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے والے کو تین برس قید کی سزا دی جائے گی۔ بار بار مطالبہ کے باوجود حکومت کی طرف سے اس سوال کا اب تک جواب نہیں دیا گیا ہے کہ اگر طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تو سزا کس بات پر؟ یہ قانون مسلم خواتین کی ہمدردی کے نام پر بنایا جا رہا ہے، لیکن یہ اس سوال کا جواب دینے سے بھی خاموش ہے کہ جب مسلم شوہر تین برس جیل میں رہے گا تو اس عرصے میں بیوی اور بچوں کی کفالت کیسے ہوگی؟ اور ان کی روزمرّہ کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

حیرت ہے کہ مسلم خواتین کی ہم دردی کا دم بھرنے والوں کو سماج میں ہر طرف پائی جانے والی وہ مظلوم و مقہور عورتیں نظر نہیں آتیں جو دیگر مذاہب اور خاص طور سے ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ملک کا ایک انتہائی گمبھیر مسئلہ رحمِ مادر میں مادہ قتلِ جنین (Female foeticide) کا ہے۔ ہر برس 10 لاکھ سے زائد بچیاں پیدا ہونے سے قبل رحمِ مادر ہی میں قتل کردی جاتی ہیں۔ جو بچ جاتی ہیں ان میں سے لاکھوں جہیز کی گھناؤنی رسم کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ رشتوں کے انتظار میں ان کی عمریں نکل جاتی ہیں۔ منہ مانگا جہیز ساتھ نہ لانے کی وجہ سے شادی کے بعد ان کی زندگیاں اجیرن بن جاتی ہیں، یہاں تک کہ نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ چنانچہ ملک میں ہر 10 برس کے بعد سرکاری طور پر فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی طلاق یافتہ خواتین کا تناسب مسلم مطلّقہ خواتین سے زیادہ ہے۔

طلاق کے بغیر علیحدہ زندگی گزارنے والی خواتین ان کے علاوہ ہیں، جن کی غالب اکثریت دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہے۔ بیوہ ہوجانے والی ہندو خواتین سماج میں کتنی بے سہارا اور بے وقعت ہوجاتی ہیں، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض رپورٹوں کے مطابق برنداون (متھرا) اور بنارس کے مقدس مذہبی مقامات ایسی تقریباً ایک لاکھ خواتین سے آباد ہیں، جہاں ان کے اپنے در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے انھیں چھوڑ جاتے ہیں۔ 'دیوداسی' کی رسم دھرم کے نام پر ہندو سماج کی بدنما تصویر پیش کرتی ہے۔ اسے اگرچہ اب قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے، لیکن نیشنل ہیومن رائٹس کی 2013ء کی رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں دیوداسیوں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار ہے۔ صرف آندھرا و تلنگانہ میں ان کی تعداد تقریباً 80 ہزار ہے _ قحبہ گری ہندوستان جیسے متمدّن ملک کے لیے ایک کلنک ہے۔ یہاں کا شاید ہی کوئی بڑا شہر ایسا ہو جہاں عصمت فروشی کے بازار اور اڈّے موجود نہ ہو۔ ان میں مجبوری کے ہاتھوں اپنی عزّت نیلام کرنے والی عورتوں کو بسانے کی تدابیر سوچنے کے بجائے ان کے لیے 'سیکس ورکرز' کا خوب صورت نام تجویز کرلیا گیا ہے اور ان کے گندے پیشے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں ہزاروں 'بار' قائم ہیں ، جہاں لاکھوں لڑکیاں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنے خوب صورت جسموں کی نمائش کرتی ہیں۔ شراب پر پابندی عائد کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، اس لیے کہ اس سے حکومتوں کو خطیر منافع حاصل ہوتا ہے، جبکہ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ملک میں سالانہ 30 لاکھ افراد شراب نوشی سے جاں بحق ہوتے ہیں، جن میں سے 8 لاکھ خواتین ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

رحمِ مادر میں قتلِ جنین، جہیزی اموات، حالتِ بیوگی میں کس مَپُرسی کی زندگی، دیوداسی پرتھا، قحبہ گری، بارگرلس کا کاروبار اور شراب نوشی وغیرہ اصلاً غیر مسلم سماج کے مسائل ہیں۔ مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے خواتین ان کا براہ راست شکار ہیں، یا ان کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔

اگر ملک کے اربابِ حلّ و عقد ان مسائل سے اپنی آنکھیں موندے ہوئے ہیں اور ان میں مبتلا خواتین کو ان کے گرداب سے نکالنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ان سے ہمدردی کے دو بول بھی ان کی زبان پر نہیں آتے، بلکہ وہ صرف مسلم خواتین کی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں اور خود کو ان کا نجات دہندہ اور مسیحا دکھانے کے لیے غیر دانش مندانہ قانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا مقصد کچھ اور ہے۔ ان کے آنسو حقیقی نہیں، بلکہ گھڑیال کے آنسو ہیں، جن کا مقصد مکر و فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.