اقتدار اور تکبر - اعزاز سید

میں نے اپنی صحافتی زندگی میں ایک بات سیکھی ہے کہ جو شخص طاقتور ہو کر جھکا، لوگوں کو عزت دی اور ان کی آسانیوں کا سبب بنا دلوں میں امر رہا۔ مگر جو شخص اقتدار میں آکر متکبر ہوا وقت آنے پر بے یار و مددگار اور ذلیل و رسوا ہوا۔ آپ لوگوں کو پیار سے جیت سکتے ہیں تکبر یا اختیار کی لاٹھی سے نہیں۔

کارزارِ صحافت میں آئے 20سال بیت گئے۔ نواز شریف کے 1999کے اقتدار کے آخری دن دیکھے۔ پرویز مشرف کا عروج دیکھا۔ ریفرنڈم اور جنرل مشرف کی چھتری تلے منعقد ہونے والے انتخابات کی کوریج کی۔ مسلم لیگ(ق) کا عروج و زوال دیکھا۔ فوجی ڈکٹیٹر مشرف کی رخصتی دیکھی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں کی اقتدار کے ایوانوں میں آمد اور پھر رخصتی کے مناظر دیکھے۔ ان سب ادوار کی رپورٹنگ کرتے اقتدار کے ایوانوں میں چاپلوسوں کی بادشاہت، سازشوں کا راج اور سب سے بڑھ کر اقتدار کا تکبر دیکھا۔

کچھ دن پہلے ہی پتا چلا کہ تکبر و غرور سے بھرے ایک معمر وزیر نے اپنی ایک ساتھی خاتون وزیر کے خلاف ایف آئی اے میں پہلے سے درج مقدمہ خارج کروانے کی کوشش کی۔ وزیر باتدبیر نے سائبر کرائم ونگ کے سربراہ کو بلایا اور حکم دیا کہ فلاں خاتون وزیر کے خلاف ایک خاتون ٹی وی اینکر کی طرف سے درج کیا گیا مقدمہ ختم کرو۔ متعلقہ آفیسر نے حیل و حجت کی تو وزیر صاحب آپے سے باہر ہو گئے، بولے مقدمہ ختم کر کے مجھے اطلاع کرو۔ مقدمہ توختم نہیں ہوا لیکن شاید متعلقہ خاتون وزیر کے خلاف ایف آئی اے اب کوئی کارروائی نہ کرسکے۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ برآمدگی کوئی نہیں ہے حالانکہ معاملہ برآمدگی کا نہیں ایک وڈیو بیان میں دیے گئے بیہودہ الزام کا ہے۔ جس روز یہ واقعہ رونما ہوا اس سے اگلے روز میں نے اس وزیر کی پی آر او سے واقعہ کی بابت پوچھا تو انہوں نے تصدیق کے لئے وقت مانگنے کے بجائے جھٹ سے واقعہ کے بارے میں یہ کہتے ہوئے ہی انکار کر دیا کہ وزیرصاحب کسی ایف آئی اے افسرسے ملے ہی نہیں۔

ابھی چند دن پہلے دی نیوز میں عمر چیمہ نے اسی وزیر کے بارے میں اطلاع دی کہ کیسے ائیرپورٹ پر مناسب پروٹوکول نہ ملنے پروہ آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے سول ایوی ایشن اور ایف آئی اے اہلکاروں کو دھمکیاں بھی دیں۔

یہ وزیر صاحب پہلی بار کسی اہم عہدے پر نہیں آئے۔ مشرف دور میں اہم ترین سرکاری عہدوں پر براجمان رہ چکے ہیں۔ اس بار پہلی مرتبہ ایم این اے اورپھر وزیر بنے ہیں۔ توقع تو تھی کہ اپنی عمر اور تجربے کا لحاظ رکھ کر اپنی وزارت پر توجہ دیں گے اور اداروں میں بہتری لائیں گے مگر انہیں بھی تکبر کھا گیا۔ جب اردگرد چاپلوس لوگ ہوں تو انسان ویسے بھی اندھا ہو جاتا ہے اقتدار ایسا مسحور کن حصار ہوتا ہے کہ اس سے باہر نکلنے دیکھنے اور محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ انسان ویسے بھی خوش رہنا چاہتا ہے۔ اقتدار میں پیسہ، اختیار، شہرت اور تعریفیں سب خوشی کا ہی سبب ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے خوشی کا یہ سامان کون چھوڑے؟

ایسا نہیں کہ موجودہ حکمران ہی متکبر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بھی متکبر وزیروں کی کمی نہ تھی۔ اس وقت کی کابینہ کے ایک طاقتور ترین وزیر اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام بھی نہیں تھا لیکن جب سرکاری افسران سامنے آتے وہ ان پر ایسے حملہ آور ہوتے کہ جیسے شیرکسی بکری پر۔ سرکاری افسران بھی بیچارے سنتے رہتے۔ وہ اپوزیشن پر بھی خوب گرجا برسا کرتے تھے اور کبھی کبھار تو اپنی ہی جماعت کے ساتھیوں کی توہین سے بھی باز نہ آتے۔ ان کی ذات میں بڑی خوبیاں تھیں مگر انہیں چاپلوس لوگوں میں رہنا پسند تھا۔ تکبر ان کو کھا گیا۔ آج وہ کہاں ہیں کسی کو کچھ پتا نہیں؟ سنا ہے اپنے گھر سے بھی نہیں نکلتے۔

پیپلزپارٹی کے دور میں اس وقت کے وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک مجھ سے بڑے تنگ تھے، ایک بارتو مجھ پر وزارت داخلہ میں داخلے کے دروازے بھی بند کر دیے گئے۔ رحمان ملک کی ایک خوبی تھی کہ جب بھی ملتے تو بہت پیار سے کبھی کوئی شکایت نہ کرتے۔ میرے گھر پر حملہ ہوا تو رحمان ملک مجھے سیکورٹی دلوانے کے لئے کوشاں ہو گئے۔ ان پر میری تنقید جاری رہی مگر انہوں نے کبھی رنجش اور تکبر کا مظاہرہ نہ کیا۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے متکبر نہ ہونے کی خوبی قابل تحسین ہے۔

پرویز مشرف کے دورحکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ بھی تکبرسے بے نیاز دیکھے۔ ان پر چارسدہ میں حملہ ہوا تو کسی نے کہا کہ آپ کا بیٹا بھی زخمی ہوا ہے وہاں موقع پر موجود عام لوگوں کو دیکھتے ہوئے بولے کہ یہ بھی میرے بیٹے ہیں۔ شیر پاؤ کو بھی اپنے اسٹاف اور عام لوگوں سے بہتر انداز میں بات کرتے دیکھا۔

اقتدار کے ایوانوں میں جس شخص نے ہمیشہ تمام لوگوں کے لئے بلاتفریق اپنا دروازہ کھولے رکھا اور ہمیشہ لوگوں کو عزت دی وہ شخص بھی پرویز مشرف دور کا وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی تھا۔ جب بھی ان کے دفتر جاتا لوگوں کا ایک رش دیکھتا۔ وہ لوگوں سے مسئلہ پوچھتے فون کرتے اور عزت کے ساتھ پیش آتے۔ لوگ آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔بطور صحافی میں نے دیکھا ہے لوگوں کو عزت اور پیار دینے والے لوگ اقتدار سے چلے بھی جائیں تو لوگ ان کی خوشبو گم نہیں ہونے دیتے اور جہاں تکبر والے لوگ بااختیار ہوں تو ان کی بدبو بھی پھیل جاتی ہے۔ یہ اقتدار اور اختیار والوں کے ہی ہاتھ میں ہے کہ لوگوں کو عزت دے کر اپنی خوشبو امر کر دیں یا تکبر کے ذریعے اپنی شخصیت کو بدبودار بنا کر ہر سو پھیلا دیں۔ انسان بہرحال ہروقت سیکھنے اورسمجھنے کے عمل سے گزرتا ہے۔ آپ جو آج ہیں کل نہیں تھے اور جوکل ہونگے وہ آج نہیں ہیں۔