باز خاں اور عمران خاں-عبدالخالق بٹ

اک یہی جرم میں ہر بار کرتا ہوں

آدمی ہوں آدمی سے پیارکرتا ہوں

یہ شعر کس کا ہے؟ نہیں پتہ۔ شعر میں موجود ’آدمی‘ کو اگر ’عورت‘ کانقیض (ضد) مانا جائے تو شاعر کا شوق،اس کے عزائم اور آبائی علاقہ اپنا پتہ آپ بتادیتے ہیں۔یہ وہی مرض ہے جس کی دوا میرتقی میرؔ ’عطارکے لڑکے‘ سے لیتے رہے اوربصد حسرت کہتے رہے:

کیفیتیں عطار کے لونڈے میں بہت تھیں

اس نسخے کی کوئی نہ رہی حیف دوا یاد

اس تمہید کا تعلق ایک معروف ہفت روزے سے جڑا ہے،جس میں عمران خان کے 22 سال پرانے انٹرویو کی بازگشت ہے۔ انٹرویو کے تعارفی پیراگراف میں پرانی باتوں کو دہراتے رہنے کی ترغیب ان الفاظ میں دلائی گئی ہے:
’گاہے گاہے باز خاں ایں قصۂ پارینہ را‘

چونکہ جملے کو خاں صاحب سے نسبت ہے، اس لیے تشویش تو بنتی ہے۔ہمارے فہم فارسی نے اس جملے میں: ’باز خاں‘ کو’خان صاحب‘ کا ممدوح پایا۔اور دونوں کے بیچ جو تعلقِ خاص سمجھ آیا اس کے لیے عام فہم لفظ ’لٹھ باز ی‘ کا ہم ریشہ نکلا۔حیرت اس وقت بڑھی جب اس ’پرانےقصے‘ کو کبھی کبھی ’دُہرانے‘ کا مشورہ بھی دیا گیا‘۔

حالانکہ ایسی حرکتوں کو دہراتے نہیں،توبہ کرتے ہیں۔ خیر سے اس ’تعلق خاص‘ کے لیے ایک لفظ مشتاق احمد یوسفی کے یہاں بھی موجود ہے۔ اقتباس پڑھیں،’شائد کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات: ‘

’ اور ہاں! مجھے حیرت ہے کہ ایک جگہ آپ نے لوطی لکھا ہے ذلتِ قلم ہی کہوں گا۔ معاف کیجیے! یہ لفظ آپ کے قلم کو زیب نہیں دیتا۔‘

پوچھا تو پھر آپ کے ہاں لوطی کو کیا کہتے ہیں؟
فرمایا ’کچھ نہیں کہتے‘……میں زور سے ہنس دیا تو چونکے‘۔
کہتے تو وطن عزیز میں بھی کچھ نہیں ہیں،بلکہ آج کل تو فیشن میں داخل ہے۔مگر ’بازخاں‘ کے معاملے میں اطمینان نہیں ہوا۔ تحقیق مزید کا نتیجہ درج ذیل صورت میں نکلا:

گاہے گاہے باز خواں ایں دفتر پارینہ را

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

(اگر سینے کے زخموں کو ہرا رکھنا چاہتے ہو تو کبھی کبھی پرانے ’اوراق‘ پڑھا لیا کرو)

شعر پڑھ کے قرار آیا اورجو بات سمجھ آئی اس کے مطابق ’بازخاں‘ کا ’خان صاحب‘سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔92 کے ورلڈ کپ اور منصبِ جلیلہ دونوں کی لاج رہ گئی۔ شعر کے مطابق درست فقرہ ’باز خاں‘ نہیں بلکہ ’بازخواں‘ ہے۔ تاہم اس کا تلفظ ’بازخاں‘ ہی ہے اور مطلب ’دوبارہ پڑھنا‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ابنِ صفی آج بھی اسی شان سے زندہ ہیں - ظفر عمران

فارسی کی رعایت سے اردو قواعد میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر حرف ’خ‘ کے بعد ’واؤ‘ ساکن ہو اور اس کے بعد ’الف‘ آجائے تو ’واؤ‘ کی آوازخاموش (silent) ہوجاتی ہے۔لفظ ’خواہش۔ خواب۔ خواں۔خواندہ۔خواہ۔خواجہ‘……بالترتیب ’خاہش۔ خاب۔خاں۔ خاندہ۔خاہ۔خاجہ‘ پڑھے جائیں گے۔اس باب میں صرف لفظ ’خواتین‘ کو دو وجہ سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اول یہ کہ’خواتین کا’واؤ‘ بالفتحہ (زبر) ہونے کی وجہ سے خاموش نہیں رہ سکتا۔دوم یہ کہ خواتین کو خاموش کروانا انسانی مساعی سے ماوریٰ ہے: ’ ایں سعادت بزور بازو نیست‘۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ ترکی لفظ ’خاتون‘ کی جمع ’خواتین‘ اہل فارس نے عربی زبان کے اصول پر ازخود بنالی ہے۔ایسے ہی ایک اور ترکی لفظ’تلاش‘ سے’متلاشی‘ وضع کرلیا گیا ہے۔

زیر بحث فارسی جملے میں ’قصۂ پارینہ‘لکھا گیا ہے۔جبکہ مصرعے کے مطابق درست ’دفترپارینہ‘ ہے۔جس کے سادہ معنی ’پرانی بیاض‘ سمجھ لیں۔

فارسی میں لفظ’دفتر‘بیاض۔جریدہ۔رسالہ۔صحیفہ۔گوشوارہ۔کاغذ کے دستے اور اُس جگہ کے لیے بولا جاتا ہے جہاں بیٹھ کر منشی خط کتابت کرتے ہیں۔ مجازاً کام کا کمرہ بھی دفتر کہلاتا ہے۔ اردو میں رجسٹر اور بہی کھاتوں کی رعایت سے آفس (office)کو مجازاً نہیں حقیقتاً دفتر کہتے ہیں۔ ان معنوں میں یہ خاص اردو کا لفظ بن گیا ہے۔ تاہم اردو میں محاورہ ’داخل دفتر کرنا‘ اپنے اصل معنی میں برتا جاتا ہے۔جس کا مطلب فہرست بنانا،قلم بند کرنا، اندارج کرنا وغیرہ ہیں۔ پر یہ بات بھی کتنے لوگ سمجھتے ہیں یہ فیصلہ داخل دفتر کر تے اور آگے بڑھتے ہیں۔

فارسی میں آفس کو’دفتر‘ کے علاوہ ’ادارہ‘ بھی کہتے ہیں۔ جس کا سربراہ ’مدیر‘ کہلاتا ہے۔ اس کے برخلاف اردو میں ’مدیر‘ کامفہوم اخبار کے ’ادارتی امور‘ کے نگرانِ اعلیٰ تک محددوہے۔

اردو میں رائج الفاظ ’ادارہ ۔دائر۔دائرہ۔دور۔دورہ۔مدوّر۔مدیر ۔مدار اور مداری‘ سب ایک ہی ’دائرے‘میں گھوم رہے ہیں۔ان سب الفاظ کا مشترک مفہوم چلنا،گھومنا اورگردش کرنا ہے۔ذرا’دعویٰ یا مقدمہ‘ کے ساتھ لفظ ’دائر‘ پرغورکریں مفہوم خود ظاہرہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ابنِ صفی آج بھی اسی شان سے زندہ ہیں - ظفر عمران

گلی گلی گھوم کر کھیل تماشا دکھانے والا ’مداری‘ کہلاتا ہے۔وہ اس لیے کہ تماشے کا سارا’مدار‘ اس پر ہوتاہے۔ ’مداری‘ اب گلیوں میں نہیں آتے۔’ٹاک شو‘میں آتے ہیں۔’ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے‘۔

مداری کو ’بھان متی‘ بھی کہتے ہیں۔ محاورہ ہے:’بھان متی نے کنبہ جوڑا،کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا‘۔ محاورہ حقیقت کا ترجمان ہے۔ بھان متی کے کنبے میں ریچھ،بندر،سانپ اور بکری جیسے بے جوڑ اور مختلف المزاج جانور ہوتے ہیں،جومداری کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ جدید اصطلاح میں بھان متی کے کنبے کو’ کنگ پارٹی‘ کہتےہیں۔ خود ’بھان متی‘ کو کچھ نہیں کہتے کہ کہنے پرپابندی ہے۔

زیربحث الفاظ میں ایک ’دائرہ‘ بھی ہے۔یہ ’دائر‘ کا مؤنث ہے مگر اردو میں مذکر شمار ہوتا ہے۔ کچھ کرم فرما ایسے بھی ہیں جو ’گول دائرہ‘ کہے بغیر قرار نہیں پاتے۔گمان ہے کہ ایسے ماہرین کے ہاں دائرہ مثلث،مربع اور مخمس شکلوں میں بھی پایا جاتا ہے، یوں کسی الجھن سے بچنے کے لیے ’گول دائرہ‘ لکھتے ہیں۔

دائرے کے متعلق ابن انشاء کی ’تحقیق‘ ہے کہ :
’دائرے چھوٹے بڑے ہر قسم کے ہوتے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ قریب قریب سبھی گول ہوتے۔ ایک اور عجیب بات ہے کہ ان میں قطر کی لمبائی ہمیشہ نصف قطر سے دگنی ہوتی ہے۔ جیومیٹری میں اس کی کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔جو کسی نے پرانے زمانے میں فیصلہ کردیا،اب تک چلا آرہا ہے۔ایک دائرہ اسلام کا دائرہ کہلاتا ہے۔پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا کرتے تھے،آج کل داخلہ منع ہے صرف خارج کرتے ہیں‘۔

’دائرے‘ کا ہم قبیلہ ایک لفظ ’مُدَوَّر‘ بھی ہے۔ اس کے معنی میں’ گول۔دائرہ نما۔ ایک محور کے گرد گھومنے والا۔چکر کاٹنے والا شامل ہیں۔ جب کہ مجازی معنی میں تراشیدہ۔ سڈول۔پروقار کے ساتھ ساتھ لڑھکنے والا۔آگے بڑھنے والا اور متحرک بھی ’مدور‘ کہلاتا ہے ۔

کسی گول چیز کو ’مدور‘ بولیں تو سننے والے پر رعب پڑتا ہے۔ جیسے لفظ ’زکوٰۃ‘ کے آخر میں آنے والے حرف ’ۃ‘ کو ’تائے مدور‘ بول کر دیکھیں، مخاطب ایک ہی ہلے میں آپ کی علمیت۔مولویت اور کٹ حجیت کا قائل نہ ہوجائے تو کہنا۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔