کیا رنجیت سنگھ پنجاب دھرتی کا ہیرو تھا؟ ابوبکر قدوسی

خرابی احساس کمتری کی ہے۔ ہر قبیلے اور قوم میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ اپنے نسب پر شرمندہ ہوتے ہیں۔ سو جو ہمارے دوست رنجیت سنگھ کو دھرتی پنجاب کا سپوت اور فخر قرار دے رہے ہیں، وہ محض احساس کمتری کا شکار ہیں یعنی اپنے نسب پر شرمندہ شرمندہ۔ اور تاریخ ایسے نہیں ہوتی کہ جو آپ کو پسند ہو اختیار کیجیے اور جو ناپسند ہو وہاں عقیدت کا سہارا لیجیے۔

بلاشبہ رنجیت سنگھ ہیرو ہے، لیکن وہ ہیرو ہے سکھوں کا، سکھ قوم اگر راجہ سے محبت کرتی ہے تو ان کا حق ہے، بلکہ مذہبی حق، کیونکہ راجہ سے ان کی محبت کی بنیاد ہی مذہب ہے نہ کہ دھرتی ماں پنجاب۔

میں خود بہت پکا پنجابی ہوں، مجھے پنجابی زبان اور یہاں کی زمین سے عشق ہے، لیکن میں ایسے شخص کو کیوں کر ہیرو قرار دوں کہ جسی کی تلوار اغیار کے بجائے بیشتر وقت اپنے پنجابی، بلکہ سوہنے پنجابی جوانوں کے خون سے تربتر رہی، جس نے پورے پنجاب کو لہو رلا دیا، جس نے لاہور شہر کے ہر ہر گھر میں بیوگی کی چادر اتار دی، جس نے میرے سوہنے پنجاب کی لاکھوں سہاگنوں کے سہاگ اجاڑ دیے۔

تاریخ سے نابلد "فیس بکی مہاشے" یہ سمجھتے ہیں کہ راجہ نے جیسے پنجاب کو کسی غیر ملکی طاقت سے واگزار کروایا تھا، حالانکہ ایسی کوئی صورت نہیں تھی، بلکہ جب راجہ پیدا ہوا تھا، اس سے کئی عشرے پہلے ہی دلی کی سلطنت سکڑ چکی تھی، پنجاب طوائف الملوکی کا شکار تھا، بہت سی ریاستیں تشکیل پا چکی تھیں، ان میں کچھ ریاستیں سکھ تھیں جبکہ بہت سی مسلمان۔ 1792ء میں راجہ نے اقتدار سنبھالا اور جلد ہی آس پاس کی سکھ ریاستوں پر تلوار کے زور سے قبضہ کر لیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ قبضہ اس نی مٹھائی کی ٹوکریاں بھیج کر کیا ہوگا؟

نہیں حضور! اس نے یہ سب تلوار کے زور پر کیا، اور بے شمار لہو بہایا۔ پھر 1799ء میں جب اٹھارویں صدی ختم ہو رہی تھی تو وہ لاہور پر قابض ہوا۔ اس وقت لاہور بھی ایک سکھ ریاست تھا اور یہاں چیت سنگھ کی حکومت تھی، اور یہ قبضہ بھی خون ریز تھا۔ تماشا یہ ہوا کہ لاہور میں موجود افغانوں یعنی پشتونوں نے راجہ کو بادشاہ کا خطاب دے دیا۔ اس سے راجہ کے من میں فتوحات کی جوت جاگی، اور اس نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   پنجابی واقعی کوفی ہیں !محمد عرفان ندیم

تیسرے ہی برس اس نے امرتسر پر قبضہ کیا یعنی 1802ء میں۔ وہاں تب گردیت سنگھ تارن حاکم تھا جو اس غاصبانہ قبضے سے جان بچا کے بھاگ نکلا۔ اسی طرح ایک ریاست رام گھڑھیا مثال تھی، وہاں کا حاکم بھی سکھ تھا، حسبا سنگھ وہ فوت ہو گیا تو اس کے ولی عہد نے ڈرتے ہوئے اطاعت قبول کر لی۔ 1806ء میں ایک اور سکھ ریاست پٹیالہ پر چڑھ دوڑا، لدھیانہ میں جنگ ہوئی، ہزاروں پنجابی دونوں طرف سے مارے گئے، اور پٹیالہ ریاست بھی رنجیت سنگھ کے قبضے میں آ گئی۔ اگلے برس اس نے نکائی مثال کی ریاست پر قبضہ کیا۔ ریاست فرید کوٹ بھی سکھوں کی ریاست تھی، یہ وہی فرید کوٹ ہے جہاں ہمارے اسحاق بھٹی صاحب رہتے تھے، اس پر بھی قبضہ کیا۔ اگلے برس نشان والیا مثال پر قابض ہوا، اب سارا پنجاب اس کے قبضے میں تھا۔

یہاں آ کر انگریز اس کے آڑے آئے۔ بہادری کی خبر تو اب ہونی تھی۔ اگر دھرتی ماں کا پتر ہوتا تو طاقت جمع کرتا، بدیشی قابضوں کو نکالنے کے لیے، لیکن انگریزوں نے اسے "حکم" دیا کہ بس اب بس، ستلج سے آگے نہیں بڑھنا تو راجہ کی بارات بمع رنگیلی رات واپس ہو گئی، بلکہ ہمارے اس دھرتی کے سپوت نے انگریزوں کو پیشکش کی کہ وہ اگر کابل پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں تو پنجاب سے گزر سکتے ہیں۔ وقت کے پرویز مشرف نے پنجاب کا سر ذلت و رسوائی سے نیچا کر دیا۔

جب ستلج کی طرف اس کو آگے بڑھنے کی اجازت نہ ملی تو ملتان کی طرف نکل گیا۔ 1818ء میں اس نے ملتان کا محاصرہ کیا اور قبضہ کر لیا۔ اگلے ہی برس اس نے کشمیر کو جبار خان سے چھین لیا جو وہاں کا حکمران تھا۔ ملتان سے سری نگر اور اٹک سے امرتسر تک اپنوں کے لہو سے ندیاں دریا سیراب کر کے اگر کوئی ہیرو ہوتا ہے تو وہ آپ کو مبارک۔ ہیرو تب مانا جاتا جب بدیشی سامراج انگریز کے خلاف کوئی ایک قدم ہی اٹھاتا - محض اپنے علاقے، اپنی دھرتی، اپنا پنجاب اپنے ہی بھائیوں سے چھین کے ہیرو کیونکر کہا جا سکتا ہے؟ کم از کم تاریخ اسے ہیرو نہیں سمجھ سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   اسموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

وہ علاقے فتح کر کے مفتوحین کی تذلیل ہی نہیں کرتا تھا، اس کے فوجی عصمتوں کے بھی قاتل تھے۔ لاہور کی فتح کے بعد اس نے یہاں کی بادشاہی مسجد کو بارود خانہ بنا دیا اور صحن میں گھوڑے باندھنے شروع کر دیے۔ اگر پنجاب کی بات کی جائے گی تو یہ کیسا دھرتی ماں پنجاب کا سپوت تھا کہ ایک عظیم اکثریت کے مذہبی جذبات کو پاؤں تلے روندتا رہا۔ اگر پنجاب کی محبت اس کے دل میں ہوتی تو ہر پنجابی کا وہ محافظ ہوتا نہ کہ جذبات اور مذہبی عقیدتوں کا قاتل۔

جہاں تک سکھوں کی عقیدت کا تعلق ہے، وہ اس کے سکھوں پر مظالم کے باوجود حق بجانب ہیں کہ بہرحال وہ ادھورا سکھ ہونے کے باوجود تھا سکھ ہی، اور اس کی ریاست سکھوں کی تاریخ کی پہلی وسیع ریاست قرار پائی اور آخری بھی۔ آخری یوں کہ ظلم کی سیاہ رات اس کے ساتھ ہی ختم ہو گئی اور اس کے خاندان کا اقتدار اس کی پہلی نسل تک بھی نہ چل سکا اور سلطنت طوائف الملوکی کا شکار ہو گئی۔ جی ہاں اس کی وفات کے چار برس میں چار حکمران بدلے اور تخت کا تختہ ہو گیا۔