ہائے! نمبر کم لینے والے یہ بچے - انس اسلام

آج کے بعد بہت سارے بچے انسان کی حیثیت و درجے سے نیچے گرا دیے جائیں گے۔ انھیں آج کے بعد ہمیشہ حقیر نظروں سے دیکھا جائے گا۔ ہر ہر جگہ انہیں ذلیل کیا جائے گا، تقریباً سارے راستے آج کے بعد اُن پر بند کردیے جائیں گے۔ ہائے یہ غیر فطری معیارات و پیمانے !

پاکستان میں اللہ کا دین بڑا سٹرونگ ہے وگرنہ دنیا کے بیشتر بڑے ممالک میں رزلٹ کے دن بچے خودکشیاں کر جاتے ہیں۔ یہ وہ ظلم ہے جو بڑے سے بڑے سیانے کو بھی ظلم نہیں لگتا۔ سب کہتے ہیں؛ جی کسی نے روکا تھا ؟ کرلیتا محنت؟ لے لیتا نمبر؟ دنیا میں چھبیس کے قریب تہذیبیں گزری ہیں ، بڑی پاپولر رہیں ، لیکن کسی تہذیب میں سکول سسٹم نہیں کھڑا کیا گیا۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ ماؤں نے بغیر سکول کے ایسے لاجواب افراد پیدا کیے جو علم کا پہاڑ اور علوم کا سمندر تھے۔ یہ واحد مغربی تہذیب ہے جو انسان کو بدترین اور محدود ترین خود ساختہ، پرتشدد معیارات پہ تولتی ہے، جس میں سے لکیروں کے فقیر اور لائینوں کے غلاموں کے سوا کچھ پیدا نہیں ہوتا۔ لکھ لکھ کر ہاتھ سوج جائیں مگر تھیسز قبول نہ ہو۔ سارا سال محنت کی ہو، لیکن امتحان کے قریب کوئی حادثہ یا ٹریجڈی یا کوئی مرض آجائے، بچہ امتحان ہال میں دماغ حاضر نہ کرسکے، عین پیپر کے دن کسی ٹینشن کی وجہ سے پیپر اچھا نہ ہو۔ کون دیکھتا ہے اس کی سال بھر کی محنت؟ پیپر پہ فیصلہ ہوتا ہے ۔ سبحان اللہ !

بلاشبہ دنیا کے بدترین جاہل تھے وہ جنھوں نے یہ ایحوکیشن سسٹم کھڑا کیا۔ آپ اندازہ کریں تعلیمی نظام ہی جاہلانہ ہے۔ باقی چیزوں کی بات کیا کرنی۔ بدترین جمود کا شکار نسل نکالی جارہی ہے۔ ٹیلنٹ بس نمبر لینا کہلاتا ہے، پریکٹیکلی خواہ کوئی بہت ہی لاجواب شے ہو، لیکن نمبر نہ ہونے کی وجہ سے دھتکار دیا جاتا ہے۔ کائنات میں ذہانت و صلاحیت کا ایسا گھٹیا اور جاہلانہ معیار آج تک نہیں رکھا گیا۔ ڈگری کا نام علم رکھ دیا جانا ہی کائنات کی سب سے بڑی جہالت ہے۔
پیارے بچو! ٹینشن نہیں لینی، تم جاہلوں کی دنیا میں رہتے ہو، یہ سب آپ کی دنیا و آخرت تباہ کرنے کا Unnatural نظام ہے۔ جس میں چھوٹے کو بڑا، اور بڑے کو چھوٹا قرار دیا گیا ہے۔ جدید معیارات کے بوجھ تلے مت رہو۔ کچھ ایسا کرو کہ پڑھائی میں وقت کا ضیاع کرنے کے بجائے ابھی سے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہوجاؤ۔ مرد تجارت کرتا اچھا لگتا ہے،
اللہ تعالٰی نے دس میں سے نو فیصد برکت صرف تجارت میں رکھی ہے۔ سوچ کو بڑا کرو ، جاب کی خواہشیں ترک کرکے آگے بڑھو، اللہ تعالی نے یہ کائنات تمھارے لیے مسخر کر رکھی ہے۔