سفر مدینہ ایک تصور محبت واطاعت کا نام ہے - عبدالباسط بلوچ

کچھ راز زندگی میں اس وقت کھلتے ہیں جب آپ کسی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ میری زندگی کا راز بھی مجھ پر تب عیاں ہوا جب میں اس کی مسجد کے صحن میں فروکش تھا۔ جہاں سب خاص ہوتے ہیں، جہاں سب مہمان اعزاز ہوتے ہیں، جہاں سب کو برابر کی محبت ملتی ہے، جہاں سب کو چاہت میسر آتی ہے۔ ہر کوئی فضا کے اپنے پن کو محسوس کر رہا ہوتا ہے۔

جب میں گنبد خضرا کو دیکھتا تو میری چیخیں نکل جاتی۔ یہ چیخیں اس کے رعب وجلال کی وجہ سے نہیں ہوتی تھیں۔ یہ اس کی الفت و پیار کی ہوتی تھیں۔ جب کوئی بہت ہی محبت کرنے والے سالوں بعد ملیں اور فرط محبت میں آنکھوں سے آنسوؤں کاسیل رواں ہوجائے۔ نہ آپ کو اپنے آنسوؤں پر اختیار ہوتا ہے نہ دل کی اس کیفیت پر۔ یہ سب کچھ اس کی چاہت و محبت کا ثمر ہے۔ جب میں نظر ملانے کی کوشش کرتا مجھ کو مجھ پر اختیار نہ رہتا۔ مجھے اپنے جدا ہونے کا غم لگ جاتا کہ جلد ہی یہ ملاقات ہجر میں بدلنے والی ہے۔ جب میں نماز میں ہوتا اور میرے آقا ﷺ میرے سامنے ہوتے اور میں تلاوت قرآن سن کر محسوس کرتا، انہی راہ داریوں اور انہی فضاؤں کو یہ سعادت حاصل ہے جب قرآن مجسم اپنی دلربا آواز سے قرآن مجید کوپڑھتے ہوں گےاور جبرئیل امین کبھی ہجرہ میں، کبھی ریاض الجنہ میں، کبھی باغ میں، کبھی قبیلے کی مسجد میں اور کبھی ان پاکیزہ گلیوں میں قرآن مجسم پر نزول فرماتے ہوں گے۔

کیا مبارک گلیاں، وادیاں اور پہاڑ نصیب ہوئے مدینہ تیری زمین کو، جن پر آسمانی روحانی فرشتے اترتے تھے، کبھی مدد کے لیے، کبھی دیدار کے لیے، کبھی سلام کے لیے، کبھی شریعیت کے لیے اور کبھی ملاقات کے لیے۔ اگر نبی کریمﷺ کی بستی میں بھی آپ کو چلتا پھرتا اٹھتا بیٹھتا، روتا رولاتا، ڈرتا ڈراتا محمدﷺ نظر نہ آیا تو پھر سمجھ لیں آپ کو سفر کی صعوبت تو میسر آ گئی لیکن سفر سعادت میسر نہیں آیا۔ میں کبھی کبھی جب ساڑھے چودہ سو سالہ پہلے کے مدینے کی سیر کی خواہش کرتا تو میں حضورﷺ کے روضہ انوار کے سامنے بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے ماضی کے مدینے اور آقاﷺ مدینے والے کی طرف نکل جاتا، پھر جب میں واپس لوٹتا تو میں اپنی ملاقات کا شرف پا چکا ہوتا۔ اس دوران نہ مجھے کوئی اپنے آپ پر اختیار ہوتا اور نہ مجھے وقت کا احساس۔

جب تک یہ کیفیت مدینہ میں نہ بنے اس وقت تک حضور کے شہر میں جانا اور رہنا دونوں ہی عبث ہیں۔ میں چشم تصور میں اپنے محبوب تک نہ پہنچوں، یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ مدینہ ایک کیفیت کا نام ہے جو طاری نہیں ہوتی تو آپ نے مدینہ دیکھا ہی نہیں۔ لیکن ایک بار پھر یاد رکھیں سب عقیدتیں میرے عقیدہ پر قربان ہوں۔ مجھے وہ بھی ملے جو سفید بالوں والے جو روضہ کے سامنے کھڑے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے، اور فون پر کہہ رہے تھے، میں نے تو سلام کہہ دیا سرکار کو، تم خود بھی کہہ لو۔ وہ کیا کیفیت ہے یہ وہ جانتا ہے جو اس وقت حاضر ہے یا حاضری کو تڑپ رہا ہے۔ جب جاؤ تو ایمان کی پوٹری لے کر جاؤ اور اس میں اضافہ کر کے لاؤ، یہی اصل میں سفر مدینہ ہے۔ عقیدتوں کو عقیدے کی مضبوط گرہ لگا کر رکھوں تاکہ میرا سفر سفر سعادت بھی بنے اور عبادت بھی۔
(یہ سفر سعادت جاری ہے)