”ہڑتال شبرزیدی کے نام“ - احسان کوہاٹی

محی الدین ایڈووکیٹ صاحب نے سیلانی کو سمجھاتے ہوئے کہا: ”سیلانی صاحب ! اگر آئین کا آرٹیکل 35-A ختم کر دیا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے ایٹم بم چلانے کے لیے آپ کا ہاتھ بٹن پر آگیا ہو، اب صرف اسے دبانے کی دیر رہ جائے۔“

”افففف“ سیلانی چڑ گیا۔ وہ دس منٹ سے محی الدین صاحب سے کی تمہید تشبیہات سن رہا تھا۔ وہ آرٹیکل 35-A کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا اور ان کی تمہید ہی ختم نہ ہو رہی تھی۔ اس نے کشمیری دوستوں کی ایک محفل میں بار بار آرٹیکل 35-A اور اس پرسرینگر میں کسی کتاب کے اجراءکا ذکر سنا تھا، اسے قانونی موشگافیوں سے کبھی دلچسپی رہی نہ قانون دانوں سے، اس لیے وہ سمجھ نہیں سکا کہ یہ 35اے کیا بلا ہے۔ یہ جاننے کے لیے اس نے اگلے روز صبح محی الدین صاحب کو فون کیا تاکہ کچھ جان سکے اور وہ حسب سابق سب کچھ ہی بتا رہے تھے۔ بس اسی کے اظہار میں انھیں کوئی امر مانع تھا جسے پوچھنے کی سیلانی نے جسارت کی تھی۔

”سر! میں سمجھ گیا یہ کوئی بڑی ہی خوفناک قسم کی شے ہے لیکن ہے کیا؟“ سیلانی نے بات کاٹی۔ ”بہت خوب، پہلے آپ کا یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کتنی خطرناک ہے اور یہی بات میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ سمجھیں یہ سیدھا سیدھا ایٹمی جنگ میں اس خطے کو دھکیلنے کی کوشش ہے اور صرف کوشش ہی نہیں کامیاب کوشش ہے۔“ ”جی جی میں سمجھ گیا اب ارشاد فرمائیے گا کہ یہ۔۔۔“ ”وہی تو بتا رہا ہوں ذرا چھری کے نیچے دم تو لیجیے ۔۔۔“ ”سر! دم کیا لوں میرا تو دم نکلا جا رہا ہے کہ یہ کم بخت کون سا آرٹیکل ہے۔“
”بھئی یہ 35-A آرٹیکل0 37 کا حصہ ہے۔“ ”اور یہ 370کیا ہے ؟“ ”یہی تواصل بات ہے سمجھیں کہ ایک بندوق ہے اور دوسری اس کی گولی ۔۔۔“

محی الدین صاحب نے پھر تشبیہات استعارات باندھنے شروع کر دیے، ان سے بڑی مشکل سے سر کھپانے کے بعد پتہ چلا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ہی کشمیر خصوصی طور پر بھارت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، آئینی طور پر کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، آرٹیکل 35-Aکے مطابق کوئی شخص صرف اس صورت میں کشمیر کا حصہ ہوسکتا ہے، اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو، کسی بھی دوسری ریاست کا شہری کشمیر میں جائیداد خرید سکتا ہے نہ یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے۔ اب بھارت اس شق کو ختم کرنا چاہ رہا ہے۔ ایسا ہو ا تو یہاں بے جے پی ہندوؤں کی بستیوں کی بستیاں لابسائے گی اور مسلمان اقلیت میں بدل جائیں گے۔ پھر وہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری پر بھی راضی ہوجائے گا۔“

”اوہ ۔۔۔“ سیلانی کے ہونٹ سیٹی کے سے انداز میں سکڑ گئے اور تھوڑی دیر بعداسے پھر یونہی ہونٹ سکوڑنے پڑے جب وہ گھر سے باہر ناشتہ لینے نکلا، باہر خلاف معمول خاموشی اور دکانیں بند تھیں، یہاں تک کہ دکانوں کے سامنے تھڑے بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سیلانی سمجھا کہ آج سی ڈی والوں نے چھاپہ مارا ہے، یہاں اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی تجاوزات کے خلاف خاصی متحرک رہتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تجاوزات والے ان سے بھی زیادہ متحرک ہیں، وہ وہاں بازار میں داخل ہوتے ہیں اور یہ یہاں سامان اٹھاکر بھاگم بھاگ غائب ہوجاتے ہیں۔ جو جو سامان سی ڈی اے والوں کے ہاتھ لگتا ہے وہ ٹرک میں بھر کر لے جاتے ہیں۔ تھڑے والوں کو سامان لینے پر اچھا خاصا جرمانہ دینا پڑتا ہے، لیکن یہ باز آتے ہیں نہ سی ڈی اے چوکتی ہے۔ یہ چھپن چھپائی چلتی رہتی ہے لیکن آج تو دکانیں بھی بند تھیں۔ سیلانی بند دکانیں دیکھتا ہوا صالحہ فارمیسی آگیا جو اسے کھلی ملی۔ یہ کہنے کو تو فارمیسی ہے لیکن اس کے خوش اخلاق مالکان نے یہاں ادویات کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء بھی رکھی ہوئی ہیں ۔سیلانی نے صالحہ فارمیسی سے پاپے لیے اور گھر واپس آگیا۔

واپسی پر بھی اسے یہی کچھ دیکھنے کو ملا۔گھر میں اس نے شیث خان اور منیب الرحمان کو جگایا اور ڈانٹنے لگا ”یہ کون سا طریقہ ہے تم لوگوں کا، دس بج رہے ہیں اور ابھی تک سو رہے ہو، چلو اٹھو۔“ بابا کی ڈانٹ پر دونوں اٹھے۔ سیلانی نے انہیں جگا کر ٹیلی وژن آن کر لیا۔ اتفاق سے سامنے اسکرین پر بھی ویسا ہی منظر تھا جو سیلانی دیکھ کر آرہا تھا۔ پتہ چلا کہ ملک بھر کے تاجروں نے تند مزاج شبر زیدی کے خلاف ہڑتال کر ڈالی ہے۔ ٹیکس وصولیوں کے ذمہ لینے والے شبر زیدی نے کراچی میں مونچھوں پر ہاتھ پھیر کر تاجروں سے کہا تھا کہ جو کرنا ہے کر لو اور تاجروں نے وہ کیا جو شبر زیدی کے گمان میں بھی نہ تھا۔ ایسی پکی ہڑتال تو لندن والے ”بھائی“ کے کہنے پر ہوتی تھی۔ وہ بھی کراچی میں، کراچی اور آدھے حیدرآباد سے باہر بھائی کی وہی وقعت تھی جو آجکل ہر جگہ ہے۔ لیکن یہاں اسلام آباد میں ایسی دھماکے دار ہڑتال حیران کن تھی۔

سیلانی ٹیلی وژں پر خبریں سنتا رہا کراچی کی تقریبا تمام بڑی مارکیٹیں بندتھیں، حالاں کہ اس ہڑتال کو رکوانے کے لیے عمران خان صاحب نے پنجاب کے صوبائی وزیر صنعت کی سربراہی میں دس رکنی کمیٹی بھی بنائی تھی جو کپتان کی منشاء کے مطابق تاجروں کو رام نہ کر سکی۔ سیلانی نے خبریں سننے کے بعدآل کراچی تاجر اتحادکے چیئرمین عتیق میر صاحب کو فون کر ڈالا۔ میر صاحب کا فون حسب توقع مصروف تھا۔ یقینا میڈیا کے کامرس رپورٹروں نے انہیں مصروف کر رکھا ہوگا۔ سیلانی نے انہیں ایس ایم ایس کر دیا اور تھوڑی ہی دیر میں میرصاحب کی کال آگئی۔

”السلام علیکم میر صاحب! پورا پاکستان ہی بند کروا دیا آپ نے۔“ ”وعلیکم السلام سیلانی صاحب ہم تو ایسا کبھی بھی نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کریں حکومت کچھ سننے سمجھنے کو تیار نہیں۔“ ”مسئلہ کیا ہے کیا آپ لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے ؟“ ”ایسا بالکل بھی نہیں ہے بس ہمارا یہ کہنا ہے کہ جو طریقہ کار ہے یہ ہمارے لیے درد سر ہوگا اور یہ جو جنرل سیلز ٹیکس ریٹیلریعنی عام دکانداروں کے گلے میں ڈال دیا ہے، یہ واپس لیا جائے۔ یہ ہول سیلر سے وصول کر لیا جائے۔ یہ ایک عام دکاندارکو کن کھاتوں میں الجھا رہے ہیں۔ بھئی ایک کمپنی پنکھے بناتی ہے، اس نے اپنے ہول سیلر کو پانچ سو پنکھے دیے، تویہ جی ایس ٹی وہیں لے لیا جائے، یہ تو ہمارے گلے ڈال رہے ہیں۔ پھر شناختی کارڈ کی شرط بڑی عجیب ہے، جو بھی پچاس ہزار سے زائد کی خریداری کرے گا، اس کے شناختی کارڈ کی فوٹوکاپی رکھی جائے اور وہ انہیں دے دی جائے تاکہ یہ اس کی قوت خرید چیک کرتے رہیں۔ یہ کام تو انکم ٹیکس کی وصولی پر ہی ہوجاتا ہے، اسے ہمارے لیے کیوں رکھا جا رہا ہے ؟

عتیق میر صاحب کا کہنا تھا کہ نئے قواعد کے تحت تاجروں کو تین طرح کے گوشوارے جمع کراناہوں گے، سالانہ بنیادوں پر انکم ٹیکس، ششماہی بنیادوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی ریٹرن اور ہر مہینے سیلز ٹیکس۔اب مجھے بتائیں اس کام کے لئے تو ہمیں منشی اور اکاؤنٹنٹ رکھنا پڑیں گے اور پھر ٹیکس جمع کرانے کے لئے وکیل کرنا پڑیں گے۔ یہ سب خرچے کہاں سے پورے ہوں گے؟ وہاں تو ہونے یہ جارہا ہے کہ کوئی غلطی کوتاہی ہوئی نہیں اور ادھر جج نے جرمانہ لگایا نہیں ایک سال قید کی سزا تک ہوسکتی ہے ۔۔۔۔ سیلانی صاحب ! آپ سمجھتے ہیں کہ رنچھوڑ لین یا بلدیہ ٹاؤن کا کوئی دکاندار پچیس تیس ہزار پر کسی اکاؤنٹنٹ کو ان حالات میں رکھ سکتا ہے؟

تاجروں کی ہڑتال کے ساتھ سیلانی کو یاد آیا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز میں بھی جولائی کے آغاز سے ہڑتال چل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایکسپورٹ پر ایک دم سے سترہ فیصد ٹیکس تھوپ کر ہماری کمر توڑ دی ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن کے صدرسید علی احسان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے ایک فیصد ٹیکس ریفنڈ کے کئی سالوں سے ڈیڑھ سو سے دو سو ارب روپے کے واجبات حکومت کے ذمہ ہیں، حکومت وہی نہیں دے پا رہی تو اس سترہ فیصد کا ٹیکس ریفنڈ کہاں سے دے گی؟

سیلانی عتیق میر صاحب سے بات چیت کرتا ہوا گھر کے باہر آگیا۔ باہر وہی منظر تھا بلکہ اب تو صالحہ فارمیسی اور کھلی ہوئی اکا دکا دکانیں بھی بند ہو چکی تھیں۔ سیلانی نے عتیق میر صاحب سے کہا ”سو باتوں کی ایک بات یہ ہے میر صاحب! خزانہ سچ میں خالی ہے، صورتحال بہت ہی خراب ہے، ورنہ آرمی چیف اسلام آباد میں اقتصادی صورتحال پر سمینار میں بات نہ کرتے ،حکومت کو ہر حال میں پیسہ چاہیے جوبھی ہاتھ لگے گا، یہ اس سے پیسہ لیں گے اس وقت مجبوری ہے۔“

”تو پھر سیلانی صاحب ! عمران خان صاحب کو چاہیے کہ قوم سے خطاب کریں، پاکستانیوں سے مدد مانگیں کہ ہم نادہندہ ہونے کو ہیں، بیرون ملک ہماری جائیدادیں قرق ہوجائیں گی، اثاثے ضبط ہوجائیں گے۔ مجھے امید ہے ایس او ایس کے اس سگنل پر اوور سیز پاکستانی ضرور مددکو پہنچیں گے۔ ہم سے بھی جو ہوا وہ کریں گے لیکن اس کے لیے عمران خان صاحب کو اپنا اخلاص بھی تو دکھانا ہوگا۔ انھیں بنی گالہ والا محل بیچ کرملک بچاؤ فنڈ میں پہلا چندہ دیناہوگا۔ وہ مثال تو بنیں تو پیچھے قطار نہ بندھی ہو تو کہیے گا۔“

اور یہی بات سیلانی کہتا ہے بھوکے پیٹ سرکارﷺ خندق کھود رہے تھے، صحابہ کرام ؓ بھی بھوک سے بے حال تھے، حال یہ تھا کہ پیٹ پتھر باندھ رکھے تھے، ایک صحابی ؓ نے اپنا پیٹ سے بندھا پتھر دکھایا تو سرکارﷺ نے بھی قمیض اٹھا دی، وہاں ایک پتھر تھا تو یہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم مثال بنیں قوم بھی مثال قائم کردے گی۔ شبر زیدی صاحب شہ کا مصاحب بن کر اترانے کے بجائے قوم کو گنا سمجھ کر ایف بی آر کی مشین میں بیلنے کے لیے مت ڈالیں، زمینی حقائق سامنے رکھیں، بات وہ کریں جو قابل عمل ہو۔ پیچ ٹھوکے نہیں جاتے کسے جاتے ہیں، تب ہی جوڑ جاندار طریقے سے جڑتا ہے۔ سیلانی یہ سوچتا ہوا گھر کے سامنے بند دکانیں دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.