سٹیو کول کی گواہی - محمد عامر خاکوانی

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیا گیا امریکی آپریشن پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ امریکیوں نے جس طرح پاکستانی سکیورٹی کو مفلوج کر کے یہ آپریشن کیا، اسامہ کو قتل کیا اور اس کی لاش اٹھا کر ساتھ لے گئے، اس سے پوری قوم ششدر رہ گئی۔ کسی کوایسی غیر متوقع جارحیت کا اندازہ نہیں تھا۔

اس پر عوامی ردعمل بڑا شدید تھا ۔ امریکی صحافی، ریسرچر اور ادیب سٹیو کول نے اپنی کتاب ''ڈائریکٹوریٹ ایس'' میں اس واقعے کے حوالے سے دلچسپ تفصیلات رقم کی ہیں۔
سٹیو کول نے لمبی چوڑی تفصیل اس آپریشن کی بتائی جس میں اسامہ بن لادن کے ساتھ رہنے والے الکویتی کو ٹریس کیا گیا اور پھر مختلف طریقوں سے اسامہ اور ان کے خاندان کی وہاں موجودگی یقینی بنائی گئی۔یہ سب کچھ بہت بار اخبارات میں چھپ چکا ہے، اسے دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں، اسامہ بن لادن کے قتل کے لئے امریکی سیل ٹیم کے کئے گئے آپریشن کی روداد بھی کئی بار آ چکی ہے۔ سٹیو کول نے اس میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں کیا۔ اس نے یہ بات البتہ کئی بار لکھی کہ صدر اوباما اور ان کی ٹاپ ٹیم نے اس آپریشن کو کئی بار بڑی احتیاط سے کیلکولیٹ کیا ۔ اس کے تمام تر پہلوﺅں، آفٹر شاکس کا اچھی طرح اندازہ لگانے کے بعد یہ بڑا فیصلہ کیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور قید کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ سی آئی اے کو خدشہ تھا کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کی اسیری کے دوران یہ آپریشن ہوا تو ردعمل میں ڈیوس کو مار دیا جائے گا۔ اس لئے پہلے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی یقینی بنائی گئی۔

پہلے بھی یہ بات لکھ چکا ہوں کہ ''ڈائریکٹوریٹ ایس'' خاصی ضخیم کتاب ہے، پونے آٹھ سو کے قریب صفحات پر مشتمل اس کتاب میں بے شمار واقعات اور معاملات تفصیل سے بیان کیے گئے۔ ایک دو کالموں میں ان کا خلاصہ آنا ممکن نہیں۔ اس لئے اختصار کے ساتھ صرف چند جھلکیوں پر اکتفا کرر ہا ہوں۔ اسامہ بن لادن کے آپریشن کے حوالے سے دوتین باتیں دلچسپ لگیں۔ایک تو امریکی گواہی کہ پاکستانی اداروں کا اسامہ بن لادن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔امریکی ٹیم اسامہ کی لاش کے ساتھ اس کے کمپیوٹرز، یوایس بیز اور تقریبا سب ڈیٹا ساتھ لے گئے۔ سی آئی اے کے ماہرین نے مہینوں ان سب کا بڑی باریک بینی کے ساتھ معائنہ کیا۔ اسامہ بن لادن کے بے شمار خطوط جن کا ریکارڈ کمپیوٹرز میں موجود تھا، وہ سب لفظ بہ لفظ پڑھے ۔سٹیوکول کے مطابق کوئی دستاویز، خط یا ایسا شواہد ایسے نہیں ملا، جس سے آئی ایس آئی اور اسامہ بن لادن کے درمیان کسی قسم کا تعلق ثابت ہوتا ہو۔ سی آئی اے کا خیا ل تھا کہ کسی پیچیدہ رابطہ در رابطہ کی صورت میں اِن ڈائریکٹ کنکشن شاید نکل آئے۔ایسا کچھ نہ ملا۔ اسامہ نے اپنے اکثر خطوط میں القاعدہ کی لیڈرشپ کو پولیس اور پاکستانی اداروں سے خبردار رہنے کی ہدایت کی۔ القاعدہ چیف خوفزدہ تھا کہ پاکستان نے شیخ خالد محمد، ابوزبیدہ اور دیگر اہم القاعدہ رہنماؤں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے، اس لیے ان سے ہوشیار اور دور رہا جائے۔

امریکی ماہرین تاہم یہ سوال اٹھاتے رہے کہ آخر کاکول ملٹری اکیڈمی جیسی ہائی پروفائل جگہ سے ڈیڑھ دو کلومیٹر دور اسامہ بن لادن کیسے اتنے سال پوشیدہ رہ سکتا ہے؟ سٹیوکول کے مطابق جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے اس کا مدلل جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اپنے اردگرد کے علاقوں میں لوگوں کو تنگ نہیں کرتی۔ خاص کر جہاں خطرہ موجود نہ ہو، وہاں تو سرچ آپریشن نہیں کیے جاتے۔ ایبٹ آباد بھی ایسی ہی جگہ تھی، جہاں کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا، اسامہ بن لادن کا گھر کاکول اکیڈمی سے نظر بھی نہیں آتا تھا۔ جنرل پاشا نے امریکیوں کو بتایا کہ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا، جس سے خاصا جانی نقصان ہوا۔ وہ پنڈی ہی میں گھر لے کر رہ رہے تھے۔ اسی طرح پریڈ لین مسجد پر جن دہشت گردوں نے حملہ کر کے کئی فوجی افسر اور نوجوان شہید کر دیے، وہ بھی پنڈی ہی میں کرایہ کا گھر لے کر مقیم تھے۔ یہ دہشت گرد بھی سرچ آپریشنز سے محفوظ رہے، گنجان شہری علاقوں میں ایسا ممکن ہوجاتا ہے۔ سٹیوکول کے بقول پاکستانی عسکری قیادت نے اس زمانے میں کھل کر امریکیوں سے اعتراف کیا کہ ٹھیک ہے افغان طالبان کے ساتھ تعلق کے بارے میں ہم نے غلط کہا، مگر ایسا کرنا ہمارے قومی مفاد میںتھا، القاعدہ کے حوالے سے ہم نے پہلے بھی درست کہا، آج بھی سچ کہہ رہے ہیں ، کیونکہ وہ ہمارے (پاکستان کے) بھی دشمن ہیں۔سٹیوکول کی کتاب سے یہ گواہی بار بار ملتی ہے کہ پاکستانی اداروں نے اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے افغان طالبان کی سپورٹ جاری رکھی اوراس حوالے سے تمام تر امریکی دباﺅ کو کسی نہ کسی طرح ہینڈل کیے رکھا۔ جنرل مشرف سے جنرل کیانی اور ان کے بعد والوں سب نے ایسا ہی کیا۔

سٹیوکول نے ہنٹ اسامہ آپریشن کے بعد پاکستانی عسکری قیادت کے شدید ردعمل کے بارے میں لکھا۔ کتاب کے مطابق امریکی اداروں نے کیانی اور پاشا کی باہمی گفتگوؤں تک خفیہ رسائی حاصل کی اور انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستانی ادارے امریکہ کے ساتھ ہر قسم کا تعلق توڑنے کی آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ پاکستانی اس پر باقاعدہ کام کرتے رہے کہ چین یا کسی اور سورس سے مالی مدد لی جائے، اور امریکہ پر انحصار مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ ایسا ہونا مگر ممکن نہیں تھا، چینی معیشت اس وقت اس قسم کی مدد دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس لیے اس انتہائی آپشن پر عمل نہ کیا جا سکا۔ سٹیو کول نے اس پر امریکیوں کا یہ تبصرہ لکھا ہے کہ پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال کا حل معیشت کو بہتر کرنا اور مقامی سطح پر ٹیکس جمع کرنا ہے تاکہ مدد کے لئے باہر نہ دیکھنا پڑے۔ایک اور جگہ صدر اوبامہ اور ان کی ٹاپ ٹیم کی میٹنگ میں پاکستانی ممکنہ ردعمل پر غور کیا گیا تو یہ بات نوٹ کی گئی کہ پاکستان اپنے کمزور ٹیکس سسٹم، کرپٹ حکمرانوں اور بیڈ گورننس کی وجہ سے اتنا مضبوط نہیں کہ مقابلے میں کھڑا ہوسکے ۔ ( یہ دونوں تبصرے پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ آج پاکستان میں جس روڈ میپ پر عمل ہو رہا ہے اور عمران خان کے ساتھ عسکری قیادت متحد ہو کرسٹرکچرل ریفارم اور ٹیکس ریکوری سسٹم ٹھیک کرنا چاہ رہی ہے، کہیں اس کے پیچھے اس ناگوار واقعے کی منفی یاداشت تو کارفرما نہیں۔)

اسامہ بن لادن نے ایبٹ آباد میں اپنے دن نہایت سادگی سے گزارے ۔ سی آئی اے کی فائنڈنگز کے مطابق وہ ایبٹ آباد اپنے ساتھ کپڑوں کے صرف نو جوڑے لے کر آیا، ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر خبریں دیکھتا ۔امریکی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ فوٹوز کی وجہ سے اسامہ بن لادن بہت محتاط تھا، وہ باہر سے دیکھے جانے سے گریز کرتا، کبھی واک کرنی پڑتی تو کاﺅبوائے ہیٹ پہن کر چلتا۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کا زیادہ تر وقت طویل خطوط لکھنے میں صرف ہوتا۔ القاعدہ رہنماؤں کو مختلف ایشوز پر وہ نہایت تفصیلی خط لکھتا۔ کوئٹہ میں مقیم القاعدہ کے اہم رہنما عطیہ عبدالرحمن کو زیادہ تر خطوط لکھے گئے۔ وہ القاعدہ رہنماؤں کو ہدایت کرتا کہ افغانستان سے اغوا برائے تاوان کی مد میں آنے والی رقم کو سونے، یورو، کویتی دینار اور چینی کرنسی کی شکل میں محفوظ رکھا جائے۔ صومالیہ اور شمالی افریقہ میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو اسامہ نے مشورہ دیا کہ ڈرون حملوں اور سیٹلائٹ کیمروں سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت اگائیں۔ اسامہ بن لادن ایران کو مشتبہ سمجھتا تھا۔ اس بارے میں وہ انتہائی وہمی تھا۔ اس کی بیویوں اور بچوں نے ایران میں کچھ عرصہ پناہ لی ، مگر اسامہ کو ہمیشہ خدشہ تھا کہ ایرانی ڈاکٹر طبی امداد دینے کے بہانے ٹریکنگ چپ نہ جسم میں ڈال دیں۔ ایک خط میں اسامہ نے اس کی تفصیل بتائی کہ وہ سرنج عام سرنجوں سے کچھ طویل ہوگی اور چِپ گندم کے دانے کے برابر ہوسکتی ہے۔

سی آئی اے کو اسامہ کی دستاویزات سے اندازہ ہوا کہ طالبان رہنما طیب آغا 2010ءمیں اسامہ بن لادن کے پاس ملا عمر کا پیغام لے کر آیا کہ اگر ہم افغانستان میں دوبارہ برسراقتدار ہوئے تو القاعدہ کے راستے ہم سے جدا ہوں گے اور اگر آپ ساتھ رہنا چاہتے ہو تو نہایت لو پروفائل رہنا پڑے گا۔ اس سے امریکیوں کو بعد میں حوصلہ ملا کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں کہ ان کے مستقبل کے پلان میں القاعدہ شامل نہیں۔ سٹیوکول کے مطابق القاعدہ کے عطیہ عبدالرحمن نے کئی بار پاکستانی اداروں کو مختلف ذرائع سے پیش کش کی کہ آپ ہمیں کچھ نہ کہیں، ہم آپ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ تاہم کول کے مطابق یہ ڈیل نہ ہوسکی۔ سٹیو کول کی بات اس لئے بھی درست ہے کہ بعد میں خود موصوف عطیہ عبدالرحمن بھی پکڑے گئے تھے۔

پاکستان ، امریکہ تعلقات کے حوالے سے سٹیوکول نے جنرل پاشا کا ایک دلچسپ مکالمہ نقل کیا، اس وقت امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے پوچھنے پر پاشا نے کہا، ہمار ا ملک چھوٹا ہے، امریکہ بڑی قوت ہے، مگر ہمیں اپنا اپنا اعتماد، تفاخر (Pride) برقرار رکھنا چاہیے۔ ہمیں انہیں ہوشیاری سے مات دینا (Outmaneuver them) ہوگی۔ اس کے لیے سمارٹ ہونے کی ضرورت ہے۔