سیاحت کا ترک ماڈل- جاوید چوہدری

ہم محبت کی وادی (لو ویلی) میں گم ہو گئے‘ سمیع اللہ خان راولپنڈی میں کپڑے کا بیوپاری ہے‘ یہ پہاڑی چوٹیوں‘ کھائیوں اور ٹیلوں کو پھلانگتا ہوا ہمارے پاس پہنچا اور ہمیں جنگل کے راستے واپس جانے کی ترغیب دینے لگا‘ ہم اس کے بااعتماد لہجے کا شکار ہو گئے اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے‘ ترک حکومت نے وادی کے گرد لوہے کا جنگلا لگا رکھا ہے‘ خان نے جنگلا پھلانگا اور ہمیں پھلانگنے کی دعوت دینے لگا‘ ہم چھ لوگ تھے۔

ہم نے بھی دائیں بائیں دیکھا اور جنگلا عبور کر کے سمیع اللہ کے پیچھے پیچھے چل پڑے اور پھر ہمارے ساتھ وہی ہوا جو اس وقت عمران خان کے پیچھے چلنے والی پوری قوم کے ساتھ ہو رہا ہے‘ ہم کھائیوں اور ٹیلوں میں پھنس کر رہ گئے‘ ہم ایک ایسی ویران جگہ پہنچ گئے جہاں بندہ تھا اور نہ بندے کی ذات‘ نیچے گہری کھائیاں تھیں‘ دائیں بائیں خشک سفید ٹیلے تھے‘ اوپر صاف نیلا آسمان تھا‘ سامنے جھاڑیاں اور جھاڑیوں میں چھوٹی سی ناہموار پگڈنڈی تھی اور مشرق سے تیزی سے دوڑتے بھاگتے بادل تھے‘ ہم قدرت کی ونڈر لینڈ میں بری طرح الجھ چکے تھے۔

آپ کو اگر وقت اور قدرت موقع دے تو آپ زندگی میں کم از کم ایک بار ترکی کے شہر کیپا ڈوشیا ضرور جائیں‘ یہ شہر صرف شہر نہیں قدرت کی ایک ایسی عظیم صناعی ہے جسے دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے’’ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے‘‘۔کیپا ڈوشیا نیچر کا عظیم کارخانہ ہے‘ یہ کارخانہ کائنات کی تخلیق کے دوران پیدا ہوا‘ ترکی کی مڈ لینڈ میں چونے کی وادی تھی‘ وادی میں آتش فشاں پھٹے‘ آتش فشانی کے دور کے آخر میں زمین میں گیسیں جمع ہوئیں‘ گیسیں اوپر اٹھیں‘ ان کے ساتھ چونے کے چھوٹے چھوٹے ٹیلے اوپر آئے‘ سرد موسم شروع ہوئے اور یہ ٹیلے جم گئے‘ ٹیلے صدیوں کی شکست وریخت کے دوران چمنیاں بن گئے۔
ہوائیں اور موسم ان چمنیوں کو تراشتے رہے یہاں تک کہ یہ مختلف شکلیں اختیار کر گئیں‘ یہ چمنیاں اندر سے کھوکھلی تھیں‘ گیسوں کے اخراج کی وجہ سے زمین کے اندر بڑے بڑے غار بن گئے‘ انسانوں پر غار کا دور آیا اور لوگوں نے ان چمنیوں اور زمینی غاروں کے اندر گھر بنا لیے‘لوگ غاروں کے اندر دور تک چلتے اور آباد ہوتے چلے گئے یوں کیپا ڈوشیا میں درجنوں زیر زمین شہر بن گئے۔

یہ شہر چار پانچ منزلہ ہوتے تھے‘ کیپا ڈوشیا کے لوگ زمین کی سطح کے برابر مویشی باندھتے تھے اور خود زیرزمین چلے جاتے تھے‘ یہ دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لیے غاروں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ بناتے تھے اور ان سوراخوں میں لیٹ کر اندر داخل ہو تے تھے‘ یہ شہر آج بھی کیپا ڈوشیا میں موجود ہیں‘ لوگ چمنیوں میں بھی آباد ہیں‘ یہودیت کے دور میں جب بیرونی حملہ آور بیت المقدس پر یلغار کرتے تھے تو یہودی بھاگ کر کیپا ڈوشیا آ جاتے تھے اور بیت المقدس میں امن ہونے تک ان غاروں میں پناہ گزین رہتے تھے۔

عیسائیت آئی اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑکے پیرو کاروں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا توعیسائی پہلی صدی عیسوی میں اسرائیل اور اٹلی سے جان بچا کر کیپا ڈوشیا آ گئے یوںیہ وادی دنیا میں عیسائیوں کی پہلی بستی بن گئی‘ یہ لوگ دو سو سال تک یہاں مقیم رہے‘ یہ بعد ازاں آرمینیا پہنچے اور وہاں پہلی عیسائی ریاست کی بنیاد رکھی‘ ترک زبان میں کیپا ڈوشیا کا مطلب ’’بہترین گھوڑوں کی سرزمین‘‘ ہوتا ہے۔

غالب امکان ہے انسان نے شاید دنیا کے اس حصے میں گھوڑے سدھانے کا سلسلہ شروع کیا ہو‘ ترکی میں سو سال پہلے سیاحت کا سلسلہ شروع ہوا تو عثمانی حکومت نے مقامی لوگوں کو غاروں اور چمنیوں میں ہوٹل بنانے کی اجازت دے دی‘ سیاح آئے‘ کیپا ڈوشیا دیکھا اور مبہوت ہو کر رہ گئے‘ حکومتیں اور دور تبدیل ہوتے گئے اور یہ شہر دنیا کے بڑے سیاحتی مراکز میں شامل ہوتا گیا‘ طیب اردگان نے اسے نقطہ کمال تک پہنچا دیا‘ شہر کو مرکزی شاہراہوں سے جوڑا‘ غاروں اور چمنیوں میں سیکڑوں ہوٹل بنوائے‘ سیاحوں کو جدید سیاحتی سہولتیں دیں اور یہ شہر دنیا بھر کے سیاحوں کی ’’بکٹ لسٹ‘‘ میں شامل ہو گیا۔

حکومت نے یہاں ’’ہاٹ ائیر بیلون‘‘ کی اجازت بھی دے دی‘ کیپا ڈوشیا میں صبح فجر کے وقت گرم ہوا کے رنگین غبارے اڑتے ہیں‘ غباروں کے نیچے ٹوکریاں ہوتی ہیں اور ٹوکریوں میں لوگ بیٹھے ہوتے ہیں‘ غبارے پوری وادی کا چکر لگا کر سات بجے زمین پر واپس آ جاتے ہیں‘ غبارے میں بیٹھ کر گرے رنگ کی وادی اور وادی میں بکھری سیکڑوں چمنیاں دیکھنا اور چمنیوں کی کھڑکیوں سے جھانکتی خواتین اور بچوں کے ہلتے ہاتھ دیکھنا اور وادی میں دور دور تک پھیلے انگوروں‘ خوبانیوں اور چیری کے باغ دیکھنا اور آخر میں کیپا ڈوشیا کا ہزاروں سال پرانا بازار دیکھنا یہ انسان کو چند لمحوں میں ’’فیری ٹیل‘‘ میں لے جاتا ہے۔

اچھے سے اچھے اور سمجھ دار ترین لوگ بھی خود کو سینڈریلا کی ایج میں محسوس کرنے لگتے ہیں‘ لو ویلی (محبت کی وادی) سرخ دریا کے ساتھ قدرت کی ایک زندہ پینٹنگ ہے اور ہم اس زندہ پینٹنگ میں گم ہو چکے تھے‘ ہم واپس جا سکتے تھے اور نہ آگے بڑھ سکتے تھے‘ ہماری گائیڈ نور بھی ہمارے ساتھ تھی اور وہ بھی ہماری حماقت کا نقصان اٹھا رہی تھی۔

میرے چند سیاح دوستوں نے دو سال قبل جاوید چوہدری فائونڈیشن بنائی‘ یہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر سیاحت کے پروموشن کی واحد فائونڈیشن ہے‘ فائونڈیشن کے ساڑھے چار ہزار ممبرز ہیں‘ یہ نسبتاً خوش حال‘ سیلف میڈ اور کامیاب لوگ ہیں‘ ہم لوگ گروپ بنا کر سات دن کے لیے مختلف ملکوں میں جاتے ہیں‘ یہ ’’سیلف فنانس پروگرام‘‘ ہوتا ہے‘ تمام لوگ اپنے اخراجات خود اٹھاتے ہیں‘ ہم ائیر لائینز‘ ہوٹلوں اور سیاحتی کمپنیوں سے سستے فائیو اسٹار پیکیج لے لیتے ہیں‘ سفارت خانے اور مقامی حکومتیں ہمیں جائز سپورٹ دے دیتی ہیں اور یوں ہم اپنی سیاحتی پیاس بجھا کر واپس آ جاتے ہیں۔

ہم لوگ دوسرے ملکوں میں پاکستان کو متعارف بھی کرا رہے ہیں‘ ہمارا گروپ بہت جلد باہر سے بھی ہم خیال لوگوں کو پاکستان لائے گا‘ ہم دوستوں نے دنیا دیکھی اور ہم اب اپنے لوگوں کو دنیا اور دنیا کو پاکستان دکھا رہے ہیں‘یہ سیکھنے اور سکھانے کا ایک شاندار مشن ہے‘لوگ ہمارے ساتھ جڑتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ اپنے بچوں کو بھی ہمارے ساتھ بھجوا دیتے ہیں‘ ہم 13 جون سے 19 جون تک ترکی رہے‘ اس گروپ میں بچے بھی شامل تھے اور والدین نے یہ بچے ہمارے ساتھ اکیلے بھیجے تھے‘ ترکی کے نوجوان سفیر احسان مصطفی یرداکل نے ہمارے ساتھ بے تحاشا تعاون کیا۔

یہ تعاون ثابت کرتا ہے ترکی سیاحت اور پاکستان دونوں کو کتنا سیریس لیتا ہے‘ ہمارے گروپ کو جو ریسپانس ترک سفیر نے دیا‘ اس نے ہمارے دل موہ لیے‘ ہم پاکستان میں بجلی یا سوئی گیس کا بل جمع کرانے جائیں تو ہمیں دھکے پڑتے ہیں لیکن ترکی نے ہمارے گروپ کے بچوں کو بھی تحقیق کے بغیر ویزے جاری کیے اور بزرگوں کو بھی‘ ہمیں استنبول ائیر پورٹ پر بھی کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ ہمارے گروپ میں برطانیہ‘ یورپ اور عرب ملکوں میں مقیم پاکستانی بھی شامل تھے‘ یہ ڈائریکٹ استنبول پہنچے تھے۔

ہم تین دن استنبول رہے‘ ایک رات قونیہ میں مولانا رومؒ کی قربت میں گزاری‘ ہم دن کے وقت مولانا کے دربار میں حاضر ہوئے‘ فاتحہ پڑھی‘ احاطے میں موجود علامہ اقبالؒ کی علامتی قبر پر حاضری دی اور رات کے وقت رقص درویش دیکھا ‘ہم پھر کیپاڈوشیا آ گئے‘ ہم نے دو راتیں اس وادی میں بسر کیں‘ یہ ترکی میں ہمارے گروپ کا دوسرا وزٹ تھا۔

ترک حکومت نے کمال کر دیا‘سیاحت اگر واقعی انڈسٹری ہے تو پھر اس انڈسٹری سے ترکی دل کھول کر فائدہ اٹھا رہا ہے‘پوراترکی سیاحتی مقام بن چکا ہے‘ ملک کے گرد چار سمندر ہیں‘مرمرا‘ ایجین‘ میڈٹیرین اور بلیک سی ‘ چاروں سمندروں کی فضا مختلف ہے‘ بلیک سی ٹھنڈا ہے چنانچہ اس کے ارد گرد موجود شہر سوئٹزر لینڈ جیسے ہیں‘ حکومت نے یہ شہر گرم علاقوں کے سیاحوں کا مرکز بنا دیے‘ آپ ترابزن جا کر دیکھیں آپ سوئٹزر لینڈ اور نیوزی لینڈ کو بھول جائیں گے‘ مرمرا اور ایجین سی کے شہر گرم ہیں‘ یہ یورپی سیاحوں کا قبلہ بن چکے ہیں‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی ازمیر شہر میں گرمیوں میں ہر دو منٹ میں ایک فلائیٹ اترتی ہے اور آپ کو پورے علاقے میں تاحد نظر یورپی سیاح نظر آتے ہیں‘ یہ بیچ ایریاز ہیں‘ سمندر کے کنارے میلوں تک بیچز آباد ہیں۔

سیاح جو چاہیں کریں حکومت کو کوئی سروکار نہیں ہوتا اورمیڈٹیرین سی سیاحتی جہازوں اور فیریز کا گڑھ ہے‘ آپ کو تاحد نظر بحری جہاز اور فیریز نظر آتی ہیں اور ہر فیری میں سیاح ناچ کود رہے ہوتے ہیں‘ ترکی دنیا کے ان چند ملکوں میں شمار ہوتا ہے جن میں تاریخ بھی ہے‘ جغرافیہ بھی‘ قدرتی مناظر بھی اور ماحول بھی‘ حکومت نے قدرت کے ان تمام انعامات کو فیکٹری بنا دیا اور یہ فیکٹری دھڑا دھڑ نوٹ چھاپ رہی ہے‘ ترکی سیاحت سے50بلین ڈالر کماتا ہے‘ عمران خان پاکستان کو بھی سیاحتی منزل بنانا چاہتے ہیں‘ یہ بہت اچھا منصوبہ ہے‘ میری ان سے درخواست ہے یہ سیاحت میں صرف اور صرف ترکی کو کاپی کر لیں‘ ہم صدیوں کا فاصلہ مہینوں میں طے کر لیں گے‘ ہمارا ملک بھی سیاحت کے لیے کھل جائے گا۔

ہم محبت کی وادی میں گم ہو چکے تھے‘ ہمارے سامنے چمنیاں تھیں اور ان چمنیوں کے او پر ہزاروں سال پرانی چٹانیں ٹوپی‘ ہیٹ اور دستارکی طرح ایستادہ تھیں‘ پوری وادی میں کھمبیوں جیسی چٹانیں تھیں اور ہر چٹان قدرت کی صناعی کا عظیم پیکر بھی محسوس ہوتی تھی اور ہم قدرت کی اس صناعی میں گواچ چکے تھے‘ ہمارے قدموں میں سیکڑوں فٹ کھائیاں تھیں بس ایک ٹھوکر‘ ایک ٹھڈا لگنے کی دیر تھی اور ہماری داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں‘ ہماری ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہو رہی تھی لیکن سمیع اللہ خان پہاڑی ہرن کی طرح چٹانوں پر کلانچیں بھر رہا تھا اور ڈاکٹر رفیق اسے اونچی آواز میں کہہ رہے تھے‘ رک جا‘ اوئے رک جا‘ مرنا ہے کیا؟ اور ہم کبھی سمیع اللہ خان کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پائوں میں بچھی کھائیوں کی طرف۔