گھر کی ملکہ - شاذیہ عبدالقادر

خبردار پاکستان کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا بولا۔ اچانک میری بچپن کی سہیلی فاخرہ نے مجھے پاکستان کی لوڈ شیڈنگ کی دہائیوں پر ٹوکا تو میں فون پر بات کرتی کرتی رک گئی۔ اور کچھ گفت و شنید کے بعد فون بند کیا تو میں اس کے بیرون ملک بیاہ کر جانے کے بعد اس انداز بدلنے کی وجوہات پہ سوچنے لگی۔

پاکستان میں رہنے والی خواتین واقعی اس نعمت سے واقف نہیں ہیں جو ان کو جھولی میں ڈال دی گئی ہے۔ ایک بچی گزشتہ دنوں اس بات پر اپنی سہلیوں اور کزنز میں مظلومیت کی تصویر بنی ہوئی تھی کہ اس کے والدنے اس کے پسندیدہ کالج میں ایڈمیشن نہ کروا کر اس کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے، کیونکہ اس کے اسکول کا سارا گروپ اس کالج میں جا رہا تھا مگر فاصلے کی طوالت کی وجہ سے والد نے اس کی خواہش پوری نہ کی۔ کالج بھی بہت اچھا تھا۔" اب میرا تو پڑھائی میں دل ہی نہیں لگتا، مجھے لگتا میری اس گھر میں کوئی اہمیت ہی نہیں، بچپن سے اب تک بھائی کی ہر بات مانی جاتی ہے، بس ایک میرا ہی کوئی خیال نہیں، میری کوئی مرضی نہیں۔

آہ اس کو کیا پتہ کہ مغرب کی لڑکی کو 18 سال کی ہوتے ہی والدین (اگر قسمت سے دونوں ہوں تو) سامان پکڑاتے ہیں اور کہتے ہیں بی بی اب تمھارے خرچ کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ اور روانہ کر کے خالی کمرے کی ڈیکوریشن کرتے ہیں کہ اب گھر کچھ کھلا ہو جائے گا۔ جبکہ یہاں کالج کی بھاری بھرکم فیسیں اور ٹرانسپورٹ کا خرچ باپ کی جیب سے جاتا ہے۔ بھائی پہ گھر سے باہر کے کام، لانے لےجانے کی ڈیوٹی، روزانہ سوتے وقت ماں کو ناشتے کی فکر،گھر آؤ تو ماں کھانا پکا کر انتظار کر رہی ہوتی، کپڑے دھلے استری کیے ملتے ہیں۔ کچن کے کام اس لیے نہیں کہ پڑھتی ہے بچی سارا دن۔۔ کبھی پاکستان سے باہر جا کر دیکھیں۔ ترقی کے گھوڑوں پہ سوار مغرب میں یہ نعمتیں کس کو نصیب؟ اور رونا کس بات پہ ہے کہ پسندیدہ کالج میں داخلہ نہیں ملا۔ میری دوست جس کا شروع میں تذکرہ تھا، اس کی شادی بیرون ملک طے ہوئی تو سب نے مشورہ دیا کہ ڈرائیونگ سیکھ لو، لائسنس لے لو۔اس نے کہا کوئی نہیں جا کر سارے باہر کے بھی کام کرنا پڑیں گے، حالانکہ اس کوکچھ نہ کچھ ڈرائیونگ آتی تھی۔ مگر کیا ہوا جب وہاں گئیں تو لائیسنس لینا ناگزیر ہوگیا۔ اب صحت کے جن بھی مراحل میں ہو،گروسری سے لے کراسکول بریک میں بچوں کو لنچ کروانے جانا، ان کو پک اینڈ ڈراپ، الغرض تمام باہر کے کام نپٹانے ہوتے ہیں کیونکہ میاں جاب سے ان کاموں کے لیے گھر نہیں آسکتے، نہ ہی کوئی کام والی ہے جو یہ کام کرے۔ صفائی سے لیکر کپڑے دھلائی کچن کے امور سب خود کرنے ہیں۔ ہمسائے اگر مسلمان نصیب بھی ہوجائیں تو ہر ایک کے اپنے اتنے مسئلے کہ بس۔ اگرچہ دیار غیر بے چارے سب تعاون کرتے تو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کو چاردیواری سے نکالنے کی مہم - حنظلہ عماد

اس کے مقابلے میں سوچ لیں کہ پاکستانی خاتون کے کتنے عیش ہیں۔ ایک بہن نے بتایا میرے میاں نے شادی کے بعد بولا کہ آپ گلی سے سبزی نہ لیجیے گا، مجھے پسند نہیں۔ اس وقت تو بڑی عجیب بات لگی مگر آنے والے دنوں میں بڑی نعمت لگی۔ اب سبزی لادیں تو پک جاتی ہے ورنہ دو دو دن دال یا فریزر سے کچھ نکال کر پک جاتا ہے۔ اگر پوچھتے ہیں کہ کل بھی یہی کھایا تو بتا دیتی ہوں کہ آپ نے سبزی لا کر نہیں دی سو جو ملا پکا لیا۔

غرض یہ ایک دو پہلو ہی ہیں۔ ان پر جتنا سوچیں یقین کیجیے پاکستان کم سے کم عورتوں کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ صحیح معنوں میں پاکستانی عورت اپنے گھر کی ملکہ ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • صحیح معنوں میں پاکستان کی قدروقیمت کی عکاسی کی گئی ہے۔واقعی جس طرح آج خواتین یہاں عیش کر رہی ہیں ،اس کا نظارا کسی بھی مال میں ، یا بازار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خاتون آگے آگے اور شعہر پیچھے بچے یا شاپنگ بیگ پکڑ کر چل رہا ہوتا ہے۔۔۔ ۔۔۔اللہ پاکستان کو سلامت رکھے۔