چار دیواری اور عقیدۂ پراگریس - انس اسلام

چار دیواری؟ کمسنی ہی سے صبح صبح اٹھ کر اسکول جاتی ہے اور واپسی پر اکیڈمی۔ شام گئے تک گھر نہیں لوٹتی۔ پھر کالج، پھر یونیورسٹی، پھر جاب، چل سو چل، صبح جانا شام تک نہ لوٹنا۔

چھٹیاں بھی آئیں تو سمر کیمپس، یہ کیپمس، وہ کیمپس، ٹوؤرز و ٹرپس، شوز وغیرہ کے لیے باہر! کرکٹر بننا ہے، پائلٹ بننا ہے، ہوسٹس بننا ہے، قوم کے لیے، ملکی ترقی و نام کے لیے اسے یہ بننا ہے، اسے وہ بننا ہے۔ اس نے ناچنے والی اور گانے والی تک بننا ہے۔

معاشی مسائل کی ماری، ابنارمل اور نفسیاتی مریض، ڈپریشن کی شکار قوم کو انٹرٹین کرنے واسطے بیہودہ تھیٹر چلانے ہیں، چار دیواری اور فیملی یونٹ کی دشمن فلم انڈسٹری کو عروج دینا ہے!

کمر توڑ مشکلات اور غربت و مسائلِ زندگی سے تنگ معاشروں میں فیشن انڈسٹری کھڑی کرنی ہے! ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے واسطے؛ اسے انڈیا ایسے دشمنوں کے ملکوں میں بھی جانا ہے۔

کون سی چار دیواری بھائی؟ آدھی سے زیادہ زندگی تو گھر سے باہر نکلتی ہے۔ بے چاری کے پاس اتنا وقت خاوند و بچوں کے لیے، ماں باپ کے لیے نہیں ہوتا، جتنا ٹائم یہ لامتناہی مادّی خواہشات کی تکمیل کے لیے، سرمائے کے حصول اور اس میں مسلسل اضافے واسطے؛ اداروں، کمپنیوں اور حرام رشتوں کے لیے صرف کرتی ہے۔ باہر آنے کا نتیجہ ہے کہ؛ ترقی یافتہ معاشروں کی عورت شادی کرنا اور بچوں کو جنم دینا چھوڑ چکی ہے۔ بوڑھوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

زبان سے چار دیواری کو برا کہا تو غلط، ''عملی زندگی'' بھلے ساری چار دیواری سے باہر گزرے؟ اچھے خاصے مذہبیوں نے بھی اپنی بچیوں کو مارکیٹ کی زینت بنا دیا ہے۔ ''بالفعل'' عقیدۂ پراگریس اور سیکولر و لبرل اسٹیٹ نے چار دیواری چھین لی، کسی نے چار دیواری کو داغ دار کرنے اور خاندانی نظام کا گلہ گھونٹ دینے والی ڈیموکریٹک سرمایہ دارانہ جدید ریاست کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ بلکہ ہمارے تو علماء نے ہی خود اِس فحش ادارتی صف بندی و پیراڈائم کے استحکام و قیام کو اسلامائز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نقاب ہٹاؤ چہروں سے! - سائرہ نعیم

بس زبان سے کوئی چار دیواری کو گالی نہ دے، اسلامی شعائر کی توہین ہوتی رہے تو وہ کوئی مسئلہ نہیں۔ جدید و اعلی تعلیم یافتہ بچیاں خاندانی نظام کے لیے ٹوٹل فلاپ ہوتی جا رہی ہیں۔ معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ امورخانہ داری انجام دینے کےلیے گھریلو لڑکیاں خال خال ہوتی جا رہی ہیں۔ اعلی تعلیم اور ترقی کی آڑ میں اسی طرح ابھارا جاتا رہا تو آئندہ آٹھ دس سال تک پاکستان کا فیملی یونٹ بڑی حد تک نابود ہوچکا ہوگا۔

کیونکہ حضرات! یہ نظام صرف اور صرف غیر فطری و مادّی اسٹرکچر کو چلانے والی نسل تخلیق و تیار کرتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیادہ سے زیادہ Slaves۔ اعلی تعلیم یافتہ اور قابل ہونے کا مطلب ہی ایک ہے، مرد ہو یا عورت، چار دیواری کا بھگوڑا، آزاد و جعلی، مادّہ پرست ؛ حیوان نما انسان۔

اسلام نے تو مرد کو بھی زیادہ یا بلاوجہ باہر نکلنے سے روکا ہے ۔ اسلامی نظام کا تیار کردہ فرد؛ مارکیٹ و بازار کے بجائے چاردیواری اور مسجد میں زندگی جیتا ہے۔ وہاں معیارِ زندگی بلند نہیں ہوتا کہ ساری عمر باہر دھکے کھا کھا کر بسر کی جائے۔ وہاں پراگریس کا عقیدہ نہیں پایا جاتا کہ خواتین و بچیوں کو بھی باہر کی تند و مخالف دنیا میں کھڑا ہونا پڑے۔ اور غیر محرموں کی جی حضوری میں زندگی و آخرت برباد کردینی پڑے۔

لامتناہی خودکار، نقلی و غیر فطری و کھوکھلی ضروریات کے لیے صبح سے شام تک، دن رات بس کام اور کام، کیا مرد، کیا عورت، کیا بچے، سب چار دیواری سے باہر۔ مصروف اتنے کہ رکنِ اسلام؛ فرض نماز کے لیے بھی وقت نہیں۔ نماز؛ جس کی بابت روزِ آخرت سب سے پہلے پوچھا جائے گا۔ جو نماز کے حساب میں کامیاب، وہ باقی سارے حساب میں کامیاب، جو نماز میں ناکام، وہ بقیہ سارے حساب میں نامراد و ناکام۔ (الحدیث)

یہ بھی پڑھیں:   حجاب عورت کا محافظ ہے - نگہت فرمان

اشتہار بازی کے خلاف بولتے ہو، بھائی سائنسی و صنعتی انقلاب، اور عقیدۂ پراگریس کے خلاف کیوں نہیں کچھ کہتے؟ آخر عورت ایسے ہی باہر نکل آئی ہے؟ اٹھارویں صدی سے قبل یہ کیوں نہیں نکلی؟ تب تو یہ باہر کی دنیا کو داغ کہا کرتی تھی، اور چار دیواری میں رہنے کو اپنا بنیادی و اصل، جینوئن و حقیقی حق سمجھا کرتی تھی۔ اب یہ چار دیواری کو کیوں داغ بول رہی ہے؟ یہ چینج ایسے ہی آگیا کیا؟ آپ کے خیال میں کوئی بیج نہیں بویا گیا جسے آپ آج کاٹ رہے ہیں؟ وہ بیج جس کے خلاف آپ خود کچھ جاننا سننا ہی نہیں چاہتے، اُس کے ثمر اور نتائج سے کیوں گھبراتے ہیں آپ بھئی؟ اور ابھی تو بہت کچھ باقی ہے۔

ہمارا کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں دین و ایمان و غیرت و حیا و عزت و عصمت و پاکیزگی و خاندانی نظام و طہارت و نفاست بھی چاہیے اور ترقی بھی۔ ہم مغرب و یورپ کی طرح پراگریس تو چاہتے ہیں لیکن مغرب کی طرح آسمانی اقدار کی قربانی دینے کو تیار نہیں۔ ایسے نہیں چلے گا بھائی! اشتہار بازی کے خلاف ہونا اور نظامِ سرمایہ داری کے قیام و استحکام و ترقی کے لیے زندگیاں قربان کردینا، دو متضاد رویے ہیں۔ یہ منافقت ہے۔

منصف مزاج اور حقیقت پسند بنیں، عقیدۂ پراگریس کا ابطال و ردّ و انکار کریں۔ مسائل کی جڑ پکڑیں، ٹامک ٹوئیاں نہ ماریں۔