کیا قومی کرکٹ ٹیم میں گروپنگ موجود ہے - محمد عامر خاکوانی

مجھے حیرت ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں گروپنگ کی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ٹیم میں گروپنگ ہو سکتی ہے، بہت بار ایسا ہوا، حتیٰ کہ جب پاکستان ورلڈ کپ جیتا، اس وقت بھی ٹیم میں دو حلقے موجود تھے، جاوید میانداد اور عمران خان دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے، بلکہ بہت لوگوں کو یاد ہوگا کہ میانداد کو ورلڈ کپ کی ٹیم کے ساتھ نہیں لے جایا گیا تھا، میڈیا کے دباؤ پر بعد میں میانداد گئے تھے اور ان کے کنٹری بیوشن کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا محال تھا۔ ہم نے اپنے اخبار میں کھلاڑیوں کی بائیوگرافیز کا سلسلہ شروع کیا تو کئی آسٹریلوی، ویسٹ انڈینز، برطانوی کھلاڑیوں کی بائیوگرافیز سے علم ہوا کہ وہاں بھی ٹیموں میں گروپنگ رہی۔ شین وارن کو سٹیو وا سے شکوے تھے، انہیں نائب کپتان بنا کر ہٹا دیا گیا، کلارک اور پونٹنگ کے آپس میں مسائل تھے۔ گیل نے لکھا کہ میں جب ٹرپل سنچری کر رہا تھا تو کپتان لارا سپورٹ کرنے کے بجائے بےچین تھا کہ یہ میرا ریکارڈ نہ توڑ ڈالے۔ کیون پیٹرسن نے انگلش کپتان اور ٹیم کے کھلاڑیوں پر بہت سے الزامات لگائے۔ بھارت میں بھی بہت کچھ ہوتا رہا ہے۔ گواسکر، کیپل دیوگروپنگ مشہور تھی، ٹنڈولکر کے خلاف بھی گروپ رہے، گنگولی ڈریوڈ مسائل رہے۔ خود دھونی کو بھی کوہلی کی وجہ سے کپتانی سے ہٹنا پڑا، حالانکہ اس نے بھارت کو ورلڈ کپ جتوایا۔ چھوٹے موٹے اختلافات چلتے رہتے ہیں، اس کے باوجود ٹیمیں ملک کی خاطر مل کر کھیلتی اور جیت جاتی ہیں۔

اس تمہید کے بعد میرا خیال ہے کہ گروپنگ کی یہ خبریں صرف سرفراز کو بچانے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ سرفراز خود بھی اپنی کپتانی اور کیرئیر بچانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ ڈریسنگ روم کی خبریں یوں باہر نہیں آتیں، انھیں لیک کیا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں شاہد آفریدی ایسا کیا کرتے تھے۔ شعیب اختر اور محمد آصف کے جھگڑے کی خبر مبینہ طور پر آفریدی ہی نے اپنے ایک سپورٹس جرنلسٹ دوست کو دی تھی۔ شعیب اختر کو اس کے بعد واپس بلا لیا گیا۔ یونس خان بھی ایسا کرتے رہے بلکہ انھوں نے آسٹریلیا کے ایک دورے کے بعد باؤلنگ کوچ عاقب جاوید اور دیگر کی رپورٹوں پر مبنی پوری ویڈیو لیک کر دی تھی۔ بورڈ کے چیئرمین اس وقت اعجاز بٹ تھے، انہوں نے اسی لیے یونس خان پربطور سزا کئی ماہ تک قومی ٹیم کے دروازے بند رکھے۔ سرفراز کے ڈریسنگ روم میں تقریر کرنے کی خبر لیک ہوئی ہے اور گمان غالب ہے کہ یہ سرفراز ہی نے کرائی۔ سرفراز کے حامی سپورٹس جرنلسٹ بھی متحرک ہوئے ہیں۔

گروپنگ آخر کون کرے گا؟ شعیب ملک؟ وہ تو خود اعلان کر چکا ہے کہ ورلڈ کپ اس کا آخری ٹورنامنٹ ہے، وہ ون ڈے سے ریٹائر ہوجائے گا۔ ریٹائر ہونے والا ملک کس لیے گروپ بنائے گا؟ پھر اس کی اپنی پرفارمنس ہی بری ہے، ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ گروپ وہ بناتا ہے جس کی اپنی جگہ پکی ہو۔ عماد وسیم کی بھی ٹیم میں جگہ کچی پکی ہے، وکٹیں اسے ملتی نہیں، ون ڈے ٹیم کی وہ ضرورت نہیں بنتا، ٹی ٹوئنٹی میں البتہ گزارہ ہے۔ عماد کیسے گروپ بنا سکتا ہے؟ شاداب خان اہم کھلاڑی ہے، مگر وہ ابھی مہلک بیماری سے اٹھا ہے، اس کی اپنی کارکردگی بھی ٹورنامنٹ میں خاص نہیں۔ میرا خیال ہے گروپنگ کے بجائے البتہ یہ ہوا ہوگا کہ کپتان کی بری کارکردگی کی وجہ سے اس پر کسی نے تنقید کر دی ہو یا منفی جملہ کس دیا ہو۔ ہمیں باہر بیٹھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ سرفراز ٹیم پر بوجھ ہے، ٹیم کے کھلاڑیوں کو علم نہمیں ہوگا؟ جب کوئی کپتان خود رنز نہ کر پا رہا ہو، ٹیم کو ہروا رہا ہو، وہ اگر کھلاڑیوں پر چیخے چلائے گا، گالیاں نکالے گا تو ردعمل لازمی چیز ہے۔ کسی نے مڑ کر اسے کہہ دیا کہ تم سے خود تو رنز بنتے نہیں، دوسروں پر کیوں چلا رہے ہو؟ اسی طرح کا کوئی واقعہ ہوگا ، یہ قرین قیاس ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض کھلاڑی اس پر نالاں ہوئے ہوں کہ ایسے کپتان کی قیادت میں ہارنا ہی ہے۔ اس طرح کا کوئی مسئلہ ممکن ہے ہوا ہو، ہر ناکام، ناکارہ کپتان کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خبریں لیک کرانے کے بجائے اس کا جواب پرفارمنس ہے۔ کپتان کو فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے، جب کوئی کپتان خود کھیلنے کے بجائے دوسروں کو بھیج دے تو برا تاثر بنتا ہے۔ یا میدان میں جائے اور اس کا شاٹ باؤنڈری تک نہ پہنچ پائے تو مذاق بن جاتا ہے۔ مجھے تو اس انداز کی گروپنگ لگ رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم کے ہارنے کی کئی وجوہات ہیں، ان پر کالم بھی لکھ چکا ہوں۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے کسی نے سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی، انضمام الحق کی یہ ناکامی ہے۔ شروع ہی سے اندازہ تھا کہ ٹیم میں یہ خامیاں ہیں اور یہ ہروائیں گی۔ ہم لوگ فیس بک پرلکھ لکھ کر مضطرب تھے، مگر ان بدبختوں کو جنھوں نے فیصلے کرنے ہیں، انہیں یہ نظر نہیں آیا۔ شعیب ملک کو دیکھ لیں، اس کی انگلینڈ میں شرمناک ایوریج ہے، پندرہ سے کم اوسط۔ دنیا کا ایک بھی ایسا مین بلے باز نہیں جس کی ایسی اوسط ہو۔ ایسے ناکام کھلاڑی کو انگلینڈ آخر لے کر گئے کیوں؟ اس کی فارم بھی اچھی نہیں تھی، باؤلنگ اس سے اب ہوتی نہیں۔ چھکے وہ مار نہیں سکتا۔ پھر کیوں لے گئے؟ یاد رہے کہ خود کپتان سرفراز احمد اور ڈفر کوچ مکی آرتھر شیعب ملک کے قصیدے پڑھتے رہے کہ اسے تجربہ ہے اور بھارت کے خلاف جتوائے گا۔ بھائی بھارت کے خلاف سلو پچز پر رنز کرنا اور بات ہے، انگلینڈ میں کھیلنا الگ بات۔ اتنی سادہ بات انہیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟

اسی طرح درمیانی اوورز میں وکٹیں لینے والے بائولر ہی ہمارے پاس نہیں۔ عماد وسیم وکٹ نہیں لے سکتا۔ شاداب اب اتنا مؤثر نہیں رہا، اس کی گگلی بلے باز جانچ لیتے ہیں، نئی ورائٹیز پر وہ کام نہیں کر رہا۔ پی ایس ایل میں ایک لڑکا عمر فاروق آیا، ناتجربہ کار ہے، مگر اس نے وکٹیں لیں۔ اسے ہی چانس دے دیتے، سرپرائز پیکیج ہوتا۔ بہتر تو یہی ہوتا کہ انضمام سال ڈیڑھ پہلے سے کوئی اچھا لیگ سپنر، لیفٹ آرم سپنر ڈھونڈتا جو درمیانی اوورز میں بھارت کے کلدیب یادو کی طرح وکٹیں لے سکتا۔ ایسا نہیں کیا گیا۔ ڈیتھ اوورز میں یارکر سپیشلسٹ بائولرز نہیں جو پٹائی روک سکیں۔ یہ تو وہاب ریاض اور عامر نہ ہوتے تو ہرمیچ میں چار سو رنز بنتے۔ سب سے بڑھ کر ٹیم میں نمبر پانچ، چھ پر لمبی ہٹیں مارنے والا، چھکے والا بلے باز نہیں۔ انگلینڈ کے مورگن، آسٹریلیا کے میکسویل کی طرح۔ سرفراز کا نمبر پانچ اور ملک کا نمبر چھ پر آنا تو مذاق ہے۔ جن کی شاٹ باؤنڈری لائن تک نہیں پہنچتی، وہ ان نمبرز پر کیا کریں گے۔ قومی ون ڈے ٹورنامنٹ میں خوشدل شاہ آیا جس نے دس گیارہ چھکے ایک میچ میں مار دیے۔ اس میں ٹیلنٹ دکھائی دیا۔ کوئی بولڈ سلیکٹر تو اسے ہی چانس دے دیتا۔ ہم نے آصف کوموقع دیا۔ وہ ایک میچ میں رنز کر لیتا ہے، چار میں نہیں کرتا اور جب کرے تب بھی تیس چالیس رنز تک رہتا ہے۔ ایسا نہیں کہ مورگن کی طرح سنچری بنا دے۔ سرفراز اگر اوپننگ کر سکے یا ون ڈاؤن کھیلے تو بات بن سکتی ہے، مطلب کہ وہی اہلیت پیدا کرے ٹاپ آرڈر میں کھیلنے والی، رنز بھی کرے اور وکٹ بھی تھرو نہ کرے۔ ورنہ وہ ٹیم پر بوجھ ہے۔ اس سے بہتر وکٹ کیپر اور تین گنا زیادہ بہتر بلے باز رضوان موجود ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف اس نے دو سنچریان بنا ڈالیں، مگر صرف سرفراز کے کپتان ہونے کی وجہ سے اسے ٹیم کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔

انھی غلطیون اور خامیوں کی وجہ سے ٹیم ہاری۔ کوئی میچ جیت بھی سکتی ہے، کسی ایک یا دو کھلاڑیوں کی غیر معمولی کارکردگی کی وجہ سے میچ جیتے جا سکتے ہیں جیسے چیمپئنز ٹرافی میں ہوا، مگر کسی بڑے میچ یا پھنسے ہوئے میچ میں یہ خامیاں بوجھ بن جائیں گی جیسا کہ بن رہی ہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.