مصر اور پاکستان- خورشید ندیم

موت سے کہیں درد ناک، محمد مرسی کی تدفین ہے۔
معلوم ہوتا ہے امام حسن البنا کو ایک بار پھر لحد میں اتارا گیا ہے۔ بظاہر بیٹیوں کے دوش پر رکھا وہ بے جان جسم، دراصل بندوق بردار طبقے کے کندھوں پر رکھی وہ لاش ہے جو عرصے سے اسی طرح رکھی ہے اور اُس دن تک رکھی رہے گی جب عالم کا پروردگار آسمان کی طنابیں کھینچ دے گا اور زمین کو ایک نئے فرش سے بدل دے گا۔ پھر صرف ایک آواز گونجے گی: 'آج اقتدار کس کا ہے‘؟ وہی آواز جواب بھی دے گی کہ اس کے سوا کسی کو بولنے کا یارا نہ ہو گا: 'اسی ایک کا جو قہار بھی ہے‘‘۔ اُس وقت اِس بے جان جسم کو قوتِ گویائی عطا ہو گی اور وہ سوال کرے گا؟ ''مجھے کس جرم میں مار ڈالا گیا‘‘؟ پھر یہ ایک جسم نہیں ہو گا، حسن البنا سے محمد مرسی تک ایک قطار ہو گی۔ وہ بھی اس صف میں شامل ہوں گے جن کا بوجھ ابھی قیامت سے بے خبر مسلمان حکمرانوں نے مزید اٹھانا ہے۔

امام حسن البنا کے جنازے اور تدفین میں کسی کو شریک نہ ہونے دیا گیا تھا۔ بیٹیوں نے جنازہ اٹھایا اور اللہ کی امانت کو زمین کے حوالے کر دیا۔ یہی کچھ محمد مرسی کے ساتھ ہوا۔ آدھی رات کے بعد تدفین اور اس طرح کہ گھر کے آٹھ افراد ہی شریک ہو پائے۔ بھٹو کی تدفین بھی اسی طرح ہوئی تھی۔ شب کی تاریکی میں اور عوام سے چھپ کر۔ موت سے پہلے انصاف ملا نہ موت کے بعد۔
مصر اور پاکستان میں یہ مماثلت کیسی ہے؟ ہم ایک جیسے کیوں ہیں؟ حسن البنا اور قائد اعظم۔ سید مودودی اور سید قطب۔ جمال عبدالناصر اور ذوالفقار علی بھٹو۔ حسنی مبارک اور ضیاالحق۔ جنرل سیسی اور... خیر چھوڑیے کہاں تک تقابل کریں۔ سب کچھ تو تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ سوال وہی ہے کہ یہ مماثلت کیا ہے اور کیوں ہے؟
مصر کی تاریخ بادشاہوں کی تاریخ ہے اور ہماری بھی۔ بادشاہ کا نام کچھ بھی ہو، ہوتا وہ فرعون ہی ہے۔ اس ایک لفظ میں بادشاہت کا تصور سمٹ آیا ہے۔ پاکستان لیکن جمہوری جدوجہد سے وجود میں آیا‘ اور قائد اعظم نے اسے دورِ جدید کی جمہوری قومی ریاست بنانا چاہا۔ جنہوں نے قائد اعظم کی تعبیر سے مختلف تعبیر کے ساتھ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی مہم چلائی، انہوں نے بھی جمہوری طریقے ہی کو اختیار کیا۔ گویا سب نے اُس تاریخ سے بزبانِ حال اعلانِ برات کیا، جو بادشاہت سے عبارت تھی۔ افسوس کہ ہماری گاڑی تا دیر اس پٹڑی پر نہیں چل سکی۔ آمریت نے کانٹا بدل دیا۔

مصر میں عوام کے حقِ اقتدار کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ بادشاہت سے صدر ناصر کے فاشزم اور پھر سیسی کی فوجی آمریت تک، مسلسل جبر کا اقتدار ہے جو قائم ہے۔ درمیان میں ایک بار جمہوریت کو موقع دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں محمد مرسی مصر کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس منتخب صدر کا انجام کم و بیش وہی ہوا جو ہمارے منتخب وزرائے اعظم کا ہوتا رہا: قید اور موت۔ لوگ سوال اٹھاتے ہیں: کیا مسلم معاشرے اپنی ساخت میں جمہوریت کے لیے سازگار نہیں؟
میرا احساس ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کیے بغیر مسلم معاشروں میں استحکام نہیں آ سکتا۔ جب تک ہم اس باب میں یک سو نہیں ہوں گے، ہمارے مقتدر طبقے کے کندھے پر ایک لاش دھری رہے گی۔ نام اس کا کچھ بھی ہو سکتا ہے: محمد مرسی یا ذوالفقار علی بھٹو۔ یہ بات ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں لاشیں ہوں، وہاں استحکام نہیں ہوتا۔ ہاں، خاموشی ہو سکتی ہے جو قبرستان میں ہوتی ہے۔ قبرستان کی خاموشی کو استحکام سمجھنے والوں کا انجام وہی ہوتا ہے جو ان کا ہو گا جن کا خیال ہے کہ مرنے والے ہمیشہ کے لیے مر گئے اور کبھی صور نہیں پھونکا جائے گا۔

آج مسلمان ممالک میںبادشاہت ہے جیسے عرب ریاستیں یا بظاہر ایک جمہوری نظام ہے جیسے پاکستان۔ میں نے بظاہر اس لیے لکھا ہے کہ وہاں ان اقدار کا احترام موجود نہیں جو جمہوریت کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے۔ ان ممالک میں اختلاف کے حق کی نفی کی جاتی ہے اور لوگوں کو آزادیٔ رائے میسر نہیں۔ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اپوزیشن اور حکومت کے ناقد میڈیا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔
ہمارے ہاںایک رجحان یہ ہے کہ جو عوام کے ووٹ سے آتا ہے، وہ بھی مطلق العنان بننا چاہتا ہے۔ اس کے تحت الشعور میں یہ شامل ہے کہ جمہوریت ایک راستہ ہے، منزل نہیں ہے۔ جمہوریت سے اقتدار کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے مگر برسرِ اقتدار آنے کے بعد آپ امیرالمومنین بن جاتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب آپ کے اختیارات پر کوئی قدغن نہیں لگ سکتی۔ اگر کوئی ہے تو اسے ختم ہو جانا چاہیے۔ ملائیشیا میں مہاتیر محمد کا عہد دیکھیں یا ترکی میں طیب اردوان کا سیاسی ارتقا، ایک ہی رجحان کی جلوہ آرائی ہے۔ محمد مرسی کا مختصر عہدِ صدارت بھی، بد قسمتی سے اسی اندازِ نظر کا ترجمان رہا۔
یہ مو لانا مودودی اور سیدقطب کے افکار سے پھوٹا ہوا 'اسلامی ریاست‘ کا تصور ہے‘ جس کے تحت جدید تہذیب، دراصل قدیم جاہلیت کا نیا ایڈیشن ہے۔ جس طرح صدرِ اوّل میں اسلام اور جاہلیت ایک ساتھ نہیں چل سکے، اسی طرح آج بھی اسلام اور جاہلیتِ جدیدہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اسلام کا جو تصور پیش کرتے ہیں، اس کے علاوہ ہر تصور جاہلیت کی علامت ہے۔ ان کے نزدیک سیکولرازم، آج اس کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ماضی میں اشتراکیت تھا۔

سرد جنگ کے دنوں میں سوشلزم کفر تھا‘ اور آج سیکولرازم۔ اُس وقت جب کچھ لوگ اسلامی سوشل ازم کی بات کرتے تھے تو اس تصور کو اس بنیاد پر رد کر دیا جاتا تھا کہ اسلام اور سوشلزم میں کوئی مطابقت نہیں ہو سکتی۔ آج سیکولرازم کو اسی بنیاد پر مکمل طور پر رد کیا جا رہا ہے کہ دونوں میں کوئی قدر مشترک تلاش نہیں کی جا سکتی۔ نتیجتاً جمہوری طریقے سے برسرِ اقتدار آنے والے اسلام پسندوں کے پاس حکومت کا کوئی ایسا ماڈل موجود نہیں ہے جو ایک مختلف الخیال یا متنوع رجحانات رکھنے والے معاشرے کے لئے قابلِ قبول ہو۔
آج ہماری صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ ایک طرف روایتی مقتدر طبقہ ہے جو جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا۔ اگر وہ عالمی دباؤ یا کسی داخلی وجہ سے جمہوری عمل کو روا بھی رکھتا ہے تو کانٹ چھانٹ کر اس کی ایسی صورت اپناتا ہے جو اس کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔ بظاہر الیکشن ہوتے ہیں مگر اس طرح کہ جیتے والوں کی فہرست پہلے ہی مرتب ہو جاتی ہے۔ اس سے اس طبقے کا جمہوری قوتوں سے تصادم ہوتا ہے جو فطری ہے۔
دوسری طرف مسلمان حکمرانوں کی سوچ ہے۔ ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مطلق العنانی کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ حسینہ واجد اور طیب اردوان نظریاتی اختلاف کے باوجود، ایک ہی طرز کے اسلوبِ اقتدار پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسا اقتدار جس میں اختلاف کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ آج بد قسمتی سے پاکستان بھی اسی راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ ہے وہ پس منظر جس میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا جمہوریت مسلمان معاشروں کے لیے سازگار نہیں؟ میرا خیال ہے کہ اس پر نتیجہ خیز فکری و سماجی پیش رفت کے بغیر مسلمان معاشرے اضطراب سے نہیں نکل سکتے۔ اگر آج مسلم دنیا میں کوئی اس بات کو پوری طرح سمجھ پایا ہے تو وہ تیونیسیا کے راشد الغنوشی ہیں۔ انڈونیشیا کے بعض اہلِ علم کے ہاں بھی اس کے مظاہر موجود ہیں۔
آج مقتدر طبقات کو سمجھنا ہو گا کہ جمہوریت ہی واحد راستہ ہے‘ جس سے مسلم معاشروں کو استحکام نصیب ہو سکتا ہے۔ اس سے مراد خود ساختہ نہیں، وہ جمہوریت ہے جو انسان کے صدیوں کے تعامل اور فکری ارتقا کا حاصل ہے۔ اس کا پہلا ناگزیر مطالبہ اختلافِ رائے کا احترام ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کا احترام ہے۔ اگر مسلمان معاشرے اس کا اہتمام نہیں کریں گے‘ تو مقتدر طبقے کے کندھوں پر کسی مرسی کی لاش ہمیشہ دھری رہے گی۔ جہاں لاشیں ہوں، وہاں استحکام نہیں ہوتا۔ مرسی جیسے مظلوموں کی لاش تا دیر نہیں اٹھائی جا سکتی۔