"اقوالِ سلف" کا ایک متناقض اطلاق: نظام ڈیموکریسی اور احکام خلافت کے! حامد کمال الدین

کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر انداز کر دینا ہے۔ عرصہ سے ہم یہی کرتے آئے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ اسی پر کاربند۔ بس یہ چند کلمات ان صحیح الفکر احباب کی خاطر، جو یہاں کی ہر نئی اپج کو کچھ زیادہ سنجیدہ لے بیٹھتے اور اپنے اس طرزِ عمل سے اُس کی ایک بڑی ضرورت پوری کر آتے ہیں۔

یہ ایک نئی اُپج: یعنی پورا ایک سیٹ اپ تو ہوگا ’’ڈیموکریسی‘‘ کا، ’’ڈیموکریسی‘‘ جس کے سراسر اپنے اصولِ اجتماع ہیں، جبکہ اُن ڈیموکریٹک اصولِ اجتماع پر قائم اس سیٹ اپ کو احکام اور امتیازات دلائے جائیں گے ’’خلافت‘‘ کے! اس معنیٰ میں کہ اطاعت، وابستگی اور تابعداری پر مبنی جو فدویانہ ’’تعامل‘‘ مسلمان پر ’’خلافت‘‘ کے حق میں واجب چلا آیا ہے اور ’’خلافت‘‘ کےلیے وہ تابعداری اور وابستگی حکمران کے فسق و فجور کے باوجود مسلمان پر واجب رکھی گئی ہے، اور یقیناً رکھی جانی چاہیے، عین اُسی تعظیم، وابستگی اور تابعداری پر مبنی ’’تعامل‘‘ یہ حضرات سلف کی کتابوں سے اٹھا کر ’’ڈیموکریسی‘‘ کے اصولِ اجتماع پر قائم ایک سیٹ اپ کے ساتھ مسلمان پر فرض ٹھہرا دیں گے۔ اور اِس عجوبہ کا ایک نہایت قابلِ ذکر حصہ: ڈیموکریسی میں ’’اپوزیشن‘‘ اور ’’عوامی محاسبہ‘‘ کے عنصر کو مستقل طور پر ساقط ٹھہرا آنا! ایک ایسی حرکت جس کا اسلام روادار اور نہ ڈیموکریسی متحمل!

یعنی ایک پُرزہ کہیں سے نکالا اور کہیں اور جڑ آئے، خالص ’’سلف‘‘ کے نام پر! اور اب شامت ان لوگوں کی جو سلف کے ’’اِس‘‘ منہج سے انحراف کرتے دیکھے گئے اور ایک ڈیموکریٹک نظام کے اندر ڈیموکریٹک اصولوں پر وہاں کے انتظامی عہدہ داران پر کوئی تنقید کر بیٹھے! سب انحراف، بدعقیدگی اور خارجیت بس ڈیموکریسی کے ’’اِس‘‘ حصے پر عمل کر لینے میں! حالانکہ انحراف کوئی ہونا چاہیے تو وہ یہ کہ سلف پر ایک ایسی بات تھوپی جائے (خلافت کا – معاذ اللہ – ایک ’’سپیئر پارٹ‘‘ نکال ڈیموکریسی کی مشین میں فٹ کرتے پھرنا، بنامِ سلف) جس سے وہ (سلف) سراسر بری ہیں۔ یہ اتنا بڑا خلط اِن حضرات نے محض اس وجہ سے پیدا کر ڈالا کہ سلف کی کتب میں کہیں ان کو ’’حکمرانوں‘‘ کا لفظ لکھا نظر آ گیا! بس پھر کیا تھا، بغیر یہ دیکھے کہ اجتماعِ انسانی کی وہ ایک خاص ترکیب تھی جس کے اندر سلف کا ایک اطلاق وارد ہوا، ’’حکمرانوں‘‘ کا لفظ اُس پیراڈائم سے اٹھا اِس (ڈیموکریسی والے) پیراڈائم میں لا فِٹ کیا.. اور رہا وہی ’’منہجِ سلف‘‘ کا ’’منہجِ سلف‘‘!
بھائی ہر نظام اپنی ایک کُلیت رکھتا ہے اور اس کا تمام تر بیلینس اور صحت اپنی اُسی کُلیت کے ساتھ رہتی ہے۔ جیسے ہی آپ اس کی اِس کُلیت کو چھیڑتے ہیں، لطیفے سرزد کرتے ہیں۔ آپ کی خوش قسمتی کہ کوئی یہاں آپ کو سنجیدہ نہیں لے رہا۔ ورنہ آپ کا یہ تعامل والا ’’سپیئر پارٹ‘‘ ڈیموکریسی کی مشین میں اگر واقعی کسی دن فٹ کر لیا گیا تو – معاذ اللہ ثم معاذ اللہ – اسلام اور ’’منہجِ سلف‘‘ کے کھاتے میں ایسی ایسی تلچھٹ آئے گی کہ لوگ ان ’’حکمرانوں‘‘ کی برائی اور استعمار نوازی بھول کر سب مصیبت آپ کے اِسی ’’منہجِ سلف‘‘ کو اٹھوانے لگیں گے۔ کیا آپ یہ مہربانی کر سکتے ہیں کہ سلف کا ایک کلام جس سیاق کے اندر ہوا آپ اُسی میں اسے باقی رہنے دیں؟ یہ ان شاء اللہ آپ کی ’’سلف‘‘ کے ساتھ بھی ایک نیکی ہو گی اور اِس مصیبت کی ماری ’’ڈیموکریسی‘‘ کے ساتھ بھی۔

کُل سے ہٹ کر جُز پر نظر جا ٹكنا، دورِ آخر میں یہ مسلم عقل کا ایک بہت بڑا بحران رہا ہے۔ اس کے متعدد مظاہر ہمارے مضامین میں ذکر ہوئے۔ زیر نظر اُپج میں... اس چیز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ سلف کے کلام میں اصل چیز وہ ’’انسانی اجتماع‘‘ ہے جس کی تمام تر ترکیب کتاب اور سنت سے ماخوذ رہی ہے اور جو کہ (اسلامی) ’’اِمارت‘‘ (بلکہ زیادہ تر ’’جماعت‘‘) کے مبحث کے تحت ہی سلف کے کلام میں وارد ہوئی ہے... اور یہ کہ ’’حکمران‘‘ اس میں کسی مستقل ’’اصل‘‘ کے طور پر نہیں آئے بلکہ ایک ’’اصل‘‘ سے نکلتی ہوئی ’’فرع‘‘ کے طور پر آئے ہیں۔ یعنی ایک ’’اصل‘‘ (اجتماعِ انسانی کی اسلامی صورت) کے ساتھ مسلمان کی وابستگی اور فدویت کا ایسا ثابت و دائم و پختہ رہنا کہ ’’فرع‘‘ (اس ’’اجتماع‘‘ کے انتظامی حصے یعنی ’’حکمرانوں‘‘) میں فساد آ جانے کے باوجود ’’اصل‘‘ کے ساتھ مسلمان کی وابستگی جوں کی توں رہے اور اُس ’’اصل‘‘ سے وابستہ رہنے کے باعث {مَا أَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ ’’تاوقتیکہ وہ تم میں کتاب اللہ کو قائم کیے رکھے‘‘} شرح أصول اعتقاد أهل السنة، سياق ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في طاعة الأمراء ومنع الخروج عليهم، مسند أحمد صححه شعيب الأرنؤوط، {لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ. لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ ’’نہیں، تاوقتیکہ وہ تم میں نماز کو قائم کیے رکھیں۔ نہیں، تاوقتیکہ وہ تم میں نماز کو قائم کیے رکھیں‘‘}} صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ باب خیار الأئمۃ وشرارھم،، السُّنَّة لأبي بكر الخلال، ما يُبتَدَأ به من طاعة الإمام وترك الخروج عليه وغير ذلك، {يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللهِ ’’جو تم کو کتاب اللہ کے ساتھ چلائے‘‘} صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية، شرح أصول اعتقاد أهل السنة، سياق ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في طاعة الأمراء ومنع الخروج عليهم {مَا أَقَامُوا الدِّينَ ’’تاوقتیکہ وہ دین کو قائم کیے رکھیں‘‘} صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش، السُّنَّة لابن أبي عاصم باب ما ذُكِر عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الخلافة في قريش) ... غرض اس ’’اصل‘‘ (اسلام پر قائم انسانی اجتماع ’’جماعۃ المسلمین‘‘) سے وابستہ رہنے کے باعث ’’فرع‘‘ (’’ائمۃ المسلمین‘‘) کو بھی یہ چھوٹ ملی رہے کہ ان کا شخصی فسق و فجور مسلمان کے اس ’’اصل‘‘ سے وابستہ و پیوستہ رہنے میں مانع نہ ہونے دیا جائے۔ لیکن اِدھر جب عقلِ مسلم کے یہاں جزء کو کل بنا دیکھنے کا بحران پیش آیا تو وہ ’’اصل‘‘ (کتابِ آسمانی پر قائم انسانی اجتماع) تو ہو گیا سرے سے غائب البتہ جز (’’حکمرانوں‘‘ کا لفظ) ان کے ہاتھ میں رہ گیا جسے اب یہ کہیں بھی فٹ کر دیں گے اگرچہ وہ ایک جمہوری سیٹ اپ کیوں نہ ہو! پھر ستم یہ کہ ایسے عجیب و غریب جوڑ کو یہ اپنی رائے نہ کہیں گے (اتنا سا منکسر humble ہو لینا اس ’’اعجابُ ذي رأيٍ بِرأيِهٖ‘‘ منہج میں شاید ہی کہیں ہو)۔ چنانچہ ذاتی رائے نہیں بلکہ ’’ملۡء الفَم‘‘ اسے یہ ’’سلف کا منہج‘‘ قرار دیں گے، قطعی و حتمی! یہاں تک کہ اس سے سرتابی پر اچھےاچھے دینی طبقوں کے بدعتی اور خارجی ہو جانے کے سرٹیفکیٹ اجراء فرمائیں گے۔ (اسے یہ ’’رائے‘‘ کے طور پر پیش کرتے تو اپنی حد تک یہ ڈیموکریٹک حکومتوں کے ساتھ بےشک وہی ’’تعامل‘‘ رکھتے جسے یہ تجویز فر ما رہے ہیں جبکہ دوسروں کو اُن کی رائے پر چھوڑ دیتے۔ اس میں بھلا کیا حرج ہے؛ جتنا مرضی یہ حکمرانوں سے متعلق خاموش رہنا چاہیں رہ لیں۔ لیکن اس سے گزارہ کب ہوتا ہے، جب تک دوسری رائے پر چلنے والے مسلمانوں کو یہ اپنی زبانوں سے بھنبھوڑ نہ دیں!) نتیجہ یہ کہ: کوچہ ’’جمہوریت‘‘ کا جبکہ ’’تنقید‘‘، ’’اپوزیشن‘‘ اور ’’عوامی محاسبہ‘‘ پر یہاں پابندی! اور اس پر حوالہ: سلف!!! ایک ایسا بنیادی تناقض اٹھا کر ’’سلف‘‘ کو یہاں خدانخواستہ مذاق کا موضوع ٹھہرا دینے کا اس سے کاری نسخہ آپ کو کہاں دستیاب ہو گا ؟

یہ حضرات اگر چیز کو اس کی کُلیت کے ساتھ دیکھ سکتے تو جانتے کہ جہاں ’’کتاب اللہ پر قائم ایک انسانی اجتماع‘‘ خالص اطاعت اور فدویت کے دم سے قائم رہتا ہے، یعنی اطاعت، فِدوِیَّت اور جُندِیَّت soldiership اس (اسلامی) اجتماع کے قائم رہنے کے معاملہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس (اطاعت اور فدویت) کا گرنا دراصل اس اجتماع کا گر جانا... عین اسی طرح ’’جمہوریت پر قائم ایک انسانی اجتماع‘‘ گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر اپوزیشن اور جاندار عوامی محاسبہ کے دم سے قائم رہتا ہے، یعنی اپوزیشن اور عوامی محاسبہ (منجملہ دیگر اشیاء) اس اجتماع کے قائم رہنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس (اپوزیشن اور عوامی محاسبہ نامی اشیاء) کا ڈراپ ہونا دراصل اس اجتماع کا گر جانا۔

اسی چیز کو یہاں اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ’’ریاست‘‘ اور ’’حکومت‘‘ میں فرق کرایا جائے: اصل اتھارٹی یہاں ’’حکومت‘‘ نہیں بلکہ ’’ریاست‘‘ مانی جاتی ہے (راقمِ مضمون ’’ریاست‘‘ کے مفہوم اور اصطلاح سے متفق نہیں، کیونکہ یہ اس کے نزدیک احادیث میں وارد ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے مفہوم اور ترکیب کے ساتھ کثیر مقامات پر متعارض ہے، تاہم اس پر بات کسی اور وقت)۔ کسی سے پوچھ لیجیے، ’’ریاست‘‘ کے ساتھ وفاداری کا یہاں ایک باقاعدہ تقاضا ہے کہ اپوزیشن اور عوامی محاسبہ کو فعال رکھا جائے۔ یہاں؛ اپوزیشن اور عوامی محاسبہ کو من حیث الوجود گرانا دراصل ’’ریاست‘‘ ہی کو گرا دینا ہے؛ کیونکہ اپوزیشن کے بغیر اس (جدید) ریاست کا وجود ہی متصور نہیں ہے۔ اِس حوالہ سے؛ شاید یہ حضرات اپنے قول کے مضمرات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں کہ: جس چیز کو ’’حکومت‘‘ کی اطاعت کے تحت یہ حضرات بیان فرما رہے ہیں وہ دراصل ’’ریاست‘‘ کو گرانے اور ختم کرنے کے مترادف ہے!!! ’’حکمران‘‘ تو جدید ’’ریاست‘‘ میں حد سے زیادہ آنی جانی چیز ہے، کہیں پانچ سال تو کہیں تین سال تو کہیں اس سے بھی کم، اصل چیز ہے اس اجتماعِ جدید کے اندر ’’ریاست‘‘۔ ’’وفاداری‘‘ اور اطاعت کا تقاضا یہاں ’’فی المنشطِ والمکرہ‘‘ آپ سے ’’ریاست‘‘ کےلیے کیا جاتا ہے، ’’حکومت‘‘ پر تو کسی وقت اعتراضات کی بوچھاڑ کر دینا ہی ’’ریاست‘‘ کے ساتھ وفاداری گردانا جاتا ہے اور ایسا نہ کرنا ’’ریاست‘‘ کے ساتھ عدم وفاداری۔ اِس جدید سماجی واقعہ میں؛ اعتراض سے بالاتر اگر کوئی چیز ہے تو وہ دراصل ’’حکومت‘‘ نہیں بلکہ ’’ریاست‘‘ ہے، جس پر یہ نیک حضرات فی الحقیقت معترض ہیں!

زیادہ سادہ لفظوں میں اگر آپ سمجھنا چاہیں، تو ’’سلطان‘‘ یعنی اتھارٹی authority کا وہ لفظ جو کتبِ سنت و سلف کے اندر وارد ہوا (السلطانُ المسلمُ)، اور جس کی اطاعت ہمارے اُس پیراڈائم میں قدم قدم پر واجب ٹھہرائی گئی ہے... وہ ’’سلطان‘‘ یعنی اتھارٹی یہاں پر ’’حکومت‘‘ سے پہلے ’’ریاست‘‘ مانی جاتی ہے بلکہ ’’حکمران‘‘ کی تو کوئی بھی حیثیت اسے ’’ریاست‘‘ کے تابع subject to state constitution and regulations رکھ کر مانی جاتی ہے، اور جہاں وہ ریاست کے دستور و حدود سے تجاوز کرے وہاں اُس کا اقدام باقاعدہ ’’چیلنج‘‘ ہونا ریاست نہ صرف یہاں فرض ٹھہراتی ہے بلکہ اُس کے ’’چیلنج ہونے‘‘ ہی کو اپنے ساتھ وفاداری مانتی ہے۔ ’’حکومت‘‘ کےلیے تو سب سے زیادہ ٹیکنیکل لفظ اِس ریاست (سلطان) کے یہاں ’’انتظامیہ‘‘ ہے۔ تو حضرات ’’سلطان‘‘ سے وفاداری اگر ٹھہر گئی ہے اور سلف کے اقوال کو اس حالیہ فنامنا پر آپ نے لازماً منطبق کرنا ہے تو ’’سلطان‘‘ تو پھر آج یہی کہتا ہے کہ ’’سٹیٹ‘‘ مقدم ہے اور ’’حکمران‘‘ مؤخر: پہلے آپ کی وفاداری ’’سٹیٹ‘‘ سے اور اس کے ’’تمام اجزاء‘‘ سے اور اس کے بعد ’’حکمران‘‘ نامی اُس کے ایک جزء سے۔ اور جبکہ ’’اپوزیشن‘‘ اس سٹیٹ (سلطان) نامی چیز کے بنیادی ترین اجزاء میں سے باقاعدہ ایک جزء۔ ’’اپوزیشن‘‘ کو آپ اس ’’سٹیٹ‘‘ نامی چیز سے گرا دیجیے، ’’سٹیٹ‘‘ (اصل سلطان authority) یہاں خود بخود گر جاتی ہے۔ تو پھر یہ ’’خارجیت‘‘ کا قلادہ تو حضرات خود آپ کی گردن میں آ گیا! یعنی جس طرح ’’اُن‘‘ انتہاپسندوں کے بعض ’مذہبی نظریات‘ اُن کے ’’سٹیٹ‘‘ کی اطاعت کے اندر آنے میں مانع ہیں.. عین اسی طرح ’’آپ‘‘ انتہاپسندوں کے بعض ’مذہبی نظریات‘ آپ کے ’’سٹیٹ‘‘ کی اطاعت کے اندر آنے میں مانع ہیں... اور ’’سٹیٹ‘‘ کے ایک جزوِ لا ینفک ’’اپوزیشن‘‘ کو گرانے کا علم اٹھا کر، جس سے یہ ’’سٹیٹ‘‘ اپنی اس حالت سے ہی گر جاتی ہے، صاف صاف آپ ’’سٹیٹ‘‘ یعنی سلطان کے خلاف ایک علمی و دعوتی خروج فرما رہے ہیں۔ بعید نہیں آپ کا ’’اگلا‘‘ کوئی ورژن خود آپ ہی کو اِس پوائنٹ پر ’’خوارج‘‘ قرار دے جو وقت کی مسلم اتھارٹی ’’سٹیٹ‘‘ کے خلاف خروج کی ایک دعوت بنے ہوئے ہیں!

یہ بھی پڑھیں:   دل بیدار فاروقی - ام محمد عبداللہ

تو ’’اطاعت‘‘ پھر صحیح طرح کیجیے: سلطان یعنی ’’سٹیٹ‘‘ کے کسی امر {{بشمول اس کے ایک نہایت اہم حصے ’’اپوزیشن‘‘}} کو اگر آپ اپنے اسلامی اصولوں کی رُو سے غلط سمجھتے ہیں تو بھی اُس پر عوام اور سوشل میڈیا میں کھڑے ہو کر تنقید مت کیجیے؛ بس کبھی موقع ملے تو علیحدگی میں کوئی ایسا انکار على المنکر فرما لیجیے کہ اِس ’’اپوزیشن‘‘ نامی چیز کو یہ اپنے وجود سے منہا کر لے؛ موقع نہیں ملتا، یا سلطان آپ کی اس بات کو در خورِ اعتناء نہیں جانتا، تو لا یکلف اللہ نفسًا إلا وسعھا! لیکن ’’منہجِ سلف‘‘ سے خروج مت کیجیے اور ’’سلطان‘‘ یعنی ریاست کے ایک اہم حصے ’’اپوزیشن‘‘ کو گرانے کی بر سر عام دعوت مت دیجیے! کسی سے پوچھ لیجیے: ’’اپوزیشن‘‘ کا گرنا یہاں ’’سٹیٹ‘‘ کا گرنا ہے اور ’’اپوزیشن‘‘ کا انکار خود اِس ’’سٹیٹ‘‘ کا انکار۔ اور یہ تو آپ جانتے ہیں، ’’حکومت کو گرانے‘‘ سے کہیں زیادہ شنیع بات یہاں ’’ریاست‘‘ کو گرانے کی دعوت دینا ہے، جو آپ صبح شام دے رہے ہیں!

غور فرمائیے تو ہم مسلمانوں کے سو سال بعض اسلامی طبقوں کے ہاں پائی جانے والی اُس نام نہاد اپروچ نے برباد کیے جو مغرب کی اشیاء (مانند ڈیموکریسی اور ہیومن ازم کی دیگر مصنوعات بالخصوص سوشل سائنسز وغیرہ) کو تھوڑی تھوڑی گرد جھاڑ کر اپنے یہاں ’’درآمد‘‘ کرتی چلی آ رہی تھی۔ مگر اب ’’سلف‘‘ کے نام سے یہ (نئی) اپروچ (یعنی ایک ڈیموکریٹک سیٹ اپ کو ’’خلافت‘‘ کے کچھ باقاعدہ احکام و امتیازات سے شادکام کرنا) اگر مقبول ہونے لگتی ہے، جس کا ویسے ان شاء اللہ بہت کم امکان ہے، تو یہ اپنی اسلامی اشیاء کو ’’برآمد‘‘ کرنے کی ایک خوفناک راہ کھول دینے والی ہے۔ میرے خیال میں، وہ سو سال پرانا ’’امپورٹ‘‘ کا منہج اپنی افتاد میں اتنا خطرناک نہ تھا جتنا شاید یہ نیا ’’ایکسپورٹ‘‘ کا منہج! اُس منہج سے، ہماری کچھ اصیل اسلامی اشیاء لتھڑیں اور خراب ہوئیں تاہم ہمارے پاس بچی ضرور رہ گئیں۔ البتہ یہ ’’ایکسپورٹ‘‘ کا منہج شاید ہماری کوئی چیز ہمارے پاس نہ رہنے دے۔ اِس سے خبردار رہنا پس میری ناقص رائے میں اُس پرانے منہج کی نسبت کہیں زیادہ ضروری ہے۔

ویسے اگر یہ حضرات غور فرمائیں تو نہ صرف ’’مسلم حکمران‘‘ بلکہ ’’کسی بھی مسلمان‘‘ کے عیوب سرعام نشر کرنا اسلام میں حد درجہ مذموم ہے۔ (ہاں اس باب سے آج کی مسلمان حکومتیں اور اپوزیشنیں بھی اِس عمومی احتیاط کا ایک درست محل تصور ہوں گی، مگر دینی شخصیات اور جماعتوں کا حق آپ کے اس کے متعلق زبان سنبھال کر بات کرنے کے حوالہ سے، یہاں ہر دوسرے طبقے پر مقدم ہے)۔ چنانچہ ’’السلطانُ المسلم‘‘ کی بابت وہ خصوصی تاکید بجا، جس کی وجہ ہم بیان کر چکے کہ یہ ’’روئےزمین پر مسلم اجتماع‘‘ کے ساتھ آپ کی وابستگی کا ایک خصوصی مظہر ہے، تاہم ہر مسلمان ہی کی آبرو کا غائبانہ تحفظ (یعنی اس کی غیر موجودگی میں اس کا عیب بیان کرنے سے آپ کا گریزاں اور اس کے متعلق اچھی ہی بات کہنے کا روادار ہونا) یہاں تک کہ وہ آپ کے رُو برُو بھی ہو تو اُسے برسرِ مجلس ذلیل کرنے سے احتراز، اور اگر کوئی اصلاح کی بات ہو تو علیحدگی میں اس کے گوش گزار کرنا، یہ تو ہر مسلمان ہی کا آپ پر حق ہے، حضرات، ہر وقت اور ہمیشہ! بلکہ یہ مسلمان کے ’’بنیادی حقوق‘‘ میں آتا ہے۔ چنانچہ خطبۂ حجۃ الوداع میں نبیﷺ نے جہاں ایک مسلمان کے مال اور جان کی حرمت ذکر فرمائی وہاں اس کی عِرض یعنی آبرو کی حرمت بھی اس کے ساتھ ہی باقاعدہ ذکر فرمائی۔ (فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، لِيُبَلِّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ’’تو جان لو، تمہاری جانیں اور تمہارے اموال اور تمہاری آبروئیں تمہارے آپس میں حرام ہوئیں، جیسی حرمت تمہارے اِس دن (یوم الحج الأکبر) کی ہے، تمہارے اس (حرام) مہینے (ذوالحجۃ) کے اندر اور تمہارے اِس شہر (بلدِ حرام) کے اندر۔ چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ اس کو (یہ بات) پہنچا دے جو (اِس وقت) غائب ہے‘‘ صحیح البخاری)۔ پس یہاں تو ہر مسلم فرد یا جماعت ہی کے خون، مال اور آبرو کی حرمت رسول اللہﷺ کے اس فرمان کی رُو سے یکساں حرام ہے، جسے حلال کرنے کا حق اب کسی شخص یا کسی ’’منہج‘‘ کو نہیں۔ تو پھر جان لیجیے: ’’خارجیت‘‘ جس کا آج بہت چرچا ہے صرف مسلمانوں کا ’’خون‘‘ مباح کرنا نہیں، بلکہ مسلم افراد اور جماعتوں کی ’’آبرو‘‘ مباح کرنا اور ان کی بھد اڑانا بھی اسی ’’خارجیت‘‘ کا ایک شعبہ قرار پائے گا، خصوصاً جب آپ کو خود اپنی پارسائی اور حق پرستی کا ایک غیر معمولی گمان ہو۔ اب آپ خود دیکھ لیجیے یہاں کے بہت سے نیک حلقوں کا یہ کیسا دل پسند مشغلہ ہے۔ اور سوشل میڈیا تو گویا ہے ہی اسی سہولت کی خاطر! بنا بریں، مسلم افراد اور جماعتوں کے عیب سر عام نشر کرنا اور ان کا تمسخر اڑانا بھی از روئے نصوص اور از روئے منہج سلف ایک نہایت مذموم اور نہایت قبیح خصلت ماننی پڑے گی اور ہر مسلمان ہی کے متعلق زبان روک رکھنا شریعتِ اسلام کا ایک لازمی اقتضاء۔ {الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ "لِسَانِه" وَيَدِه} پس یہ مسئلہ ’’ائمۃ المسلمین‘‘ تک محدود بہرحال نہیں ہے، گو ان کے معاملہ میں اِس حکم کی ایک خصوصی اہمیت ضرور ہے، البتہ اپنے اصل میں یہ مسئلہ تمام مسلمانوں ہی کے حق میں ثابت و معلوم ہے۔ جس جس شخص کا مسلمان ہونا ثابت اُس اُس کی دین میں آبرو ثابت، بحکمِ رسول اللہﷺ۔ چنانچہ ہر مسلمان فرد اور گروہ ہی کے حق میں زبان کو آخری حد تک قابو رکھنا اور اس معاملہ میں خدا سے شدید حد تک ڈرنا (كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا) اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کسی دینی طبقے کے خاکے نہ اڑاتے پھرنا، ان شاء اللہ یہ بھی منہجِ سلف ہی ہے۔

خدا کرے اس پورے ’’منہج‘‘ ہی کی یہاں پابندی ہونے لگے اور دوسرے طبقوں کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کو بھی بخش دیا جانے لگے۔ یہاں ایک برسرِ عام گفتگو میں، کسی کےلیے اصلاح کی بات کہنا ضروری ہی ہو گیا ہو، تو وہی طریقہ جو ہمیں سنت میں سکھایا گیا: ’’ما بالُ أقوامٍ‘‘ ’’کچھ لوگ یہ (کیسی بات یا کیسا کام کرنے) لگے‘‘، بغیر ان کا نام لیے اور بغیر ان کے القابات نشر کیے۔

(ان ’’پارساؤں‘‘ کے ساتھ انگیج ہونے کی البتہ ہمیں نہ آج ضرورت ہے اور نہ کل، جو یہاں کی بہت سی دینی شخصیات اور جماعتوں کی آبرو ’’بحقِ منہجِ سلف‘‘ ساقط ٹھہرانے کےلیے – عین اپنے بھائیوں ’’داعش‘‘ کی طرح – خود اپنے آپ کو مسندِ قضاء و افتاء پر فائز کرتے ہوئے اور دوسروں کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لیتے یا خاص ’’اپنے بڑوں‘‘ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے – ان سُنِّی دینی جماعتوں کو جھٹ سے جہمیہ، سبئیہ، قرامطہ اور اخوان الصفا ایسے ’’کھلے فتنوں‘‘ کا درجہ دے ڈالیں گے اور اس ’دلیل‘ سے یہاں کے بہت سے محبِ اسلام و متبع سنت طبقوں کی عزتوں اور آبروؤں کو، نری رائے کے اختلاف کے باعث، اپنے لیے حلال اور مباح کر لیں گے؛ اور پھر ان مسلمانوں کے زندہ گوشت پر ہی ان کے سب ناشتے، ظہرانے اور عشائیے؛ اور اِسی کو اپنی دینی صحت اور فربگی کا ذریعہ بنانا! اپنی اصل میں یہ بھی خارجیت ہی کا مظہر ہے:

مسلمانوں کا خون مباح نہ کر سکے تو آبرو مباح کر لی اور اس پر شرمساری و گناہگاری کی بجائے پارسائی اور دلیل پرستی کا ایک باقاعدہ زعم، یعنی خوارج کی ایک اخص الخاص صفت: مسلم جانوں، مالوں اور آبروؤں کی بابت دل کا سخت اور نفس کا بےرحم ہونا اور انہیں دُکھ پہنچانے کو اپنے حق میں دین کی ترقی اور تقربِ خداوندی کا ذریعہ جاننا۔ جبکہ اہل سنت کے نمایاں ترین امتیازات میں یہ آتا ہے کہ آدمی مسلمانوں کے جان، مال اور آبرو سے متعلق ہر لحظہ خدا سے ڈرنے والا ہو)۔
*****

ذرا غیر اہم سا ایک سوال یہاں اور بھی ہے: ’’حکمرانوں‘‘ کا لفظ تو زیادہ تر ایک ’’اخوانی‘‘ قسم کی کونوٹیشن connotation رکھتا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب تو شاید افضل ہی ہو! احادیث اور ’’کتبِ سلف‘‘ میں اس کےلیے بکثرت استعمال ہونے والا ایک لفظ البتہ ہے ’’ائمہ‘‘ اور ’’امام‘‘۔ کتبِ فقہ میں بھی جا بجا ’’امام‘‘ ہی بولا گیا۔ ہمارے علمی تراث میں شاید اس سے زیادہ کوئی اور لفظ اس کےلیے مستعمل نہ رہا ہو۔ تو پھر اقوالِ سلف اور منہجِ سلف کو یہاں ہُو بہُو لاگو کر دینا اگر ٹھہر ہی گیا ہے تو کیا حضراتِ آصف زرداری و پرویز مشرف و نواز شریف و عمران خان اور اس سے پیشتر بےنظیر و ذوالفقار علی بھٹو وغیرھم ہستیوں کےلیے آپ ’’امام‘‘ اور ’’ائمۃ المسلمین‘‘ ایسے القاب اور تصورات کا اجراء پسند فرمائیں گے؟ کام ہو تو پورا ہو! ’’منہجِ سلف‘‘ آدھا ہی کیوں؟ مجھے یقین ہے ایک طبعی اسلامی حِس میرے اِس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں دینے سے ایک بار ہچکچائے گی ضرور اور بےنظیر و ذوالفقار علی و آصف علی وغیرھم کو اپنا ’’امام‘‘ کہتے ہوئے ایک بار جھجھکے گی ضرور۔ اس جھجھک اور ہچکچاہٹ کے پیچھے، جسے آپ دبانا چاہیں تو بےشک دبا جائیں، شاید وہ طبعی اور بدیہی فرق ہو جو ہماری اُن اصیل اسلامی اشیاء اور اِس درآمد شدہ ملغوبے کے حوالے سے مسلمان کی گھٹی کے اندر بٹھا رکھا گیا ہے۔ خدا را اس فرق کو باقی رہنے دیجیے، یہ ہماری آخری امید ہے اگرچہ ’’دلائل‘‘ کی بحث میں کوئی اسے بہت زیادہ واضح نہ بھی کر سکے۔ غرض ان دو چیزوں کا فرق ہمارے اسلامی بدیہیات میں آتا ہے؛ بدیہیات یعنی وہ اشیاء جن کےلیے دلائل نہیں دیے جاتے اور جو مسلم حِس میں آپ سے آپ بولتی ہیں (اور حق یہ ہے کہ اللہ کے فضل سے وہ آج بھی بول رہی ہیں؛ ’ذرا نم ہو‘ تو ان شاء اللہ یہ مٹی بڑی ہی زرخیز ہے، بإذن اللہ وبفضلہٖ تعالیٰ)۔ اس سے بڑا ستم ایک دور کے حق میں کیا ہو گا جہاں ہمیں ’’بدیہیات‘‘ کےلیے ’’دلائل‘‘ دینا پڑ رہے ہوں؛ عام آدمی کےلیے نہیں، کیونکہ اس کا گزارہ تو اللہ کے فضل سے ابھی ہو رہا ہے، بلکہ ’’بدیہیات‘‘ پر ’’دلائل‘‘ لانے کی یہ غیر معمولی مشقت ہمیں اسلام اور منہج سلف کے بعض داعیوں کےلیے کرنا پڑ رہی ہو کہ حضرات ’’اِس‘‘ نووارد اور ہماری ’’اُس‘‘ اصیل چیز میں اتنا ہی بڑا فرق ہے جتنا رات اور دن کا؛ ایسے بڑے فرق کو خدا را حسِ مسلم کے اندر خلط اور دھندلا مت کیجیے!
*****

اس زیر نظر اُپج پر ہماری بات ختم ہوئی (جو ایک عوامی سطح پر نائن الیون کے بعد ہی سامنے آئی ہے، اور جس کے داعیوں کو مسلم خطوں میں فی الوقت مختلف نام دیے جا رہے ہیں، مگر میں کسی مسلم طبقے کےلیے القاب نشر کرنے سے حتی الوسع گریز ہی کرنا ضروری جانتا ہوں)۔ تاہم کسی کی مجمَل بات کو اپنی اپنی مرضی کا مفصل معنیٰ پہنانے کی رِیت چونکہ یہاں عام ہے، لہٰذا کچھ وضاحتیں حفظِ ما تقدم کے تحت میں یہیں کر دوں۔ (جن لوگوں کو مضمون کے عنوان ہی سے سروکار ہے وہ میرا مضمون یہیں پر ختم سمجھیں):

خلافت کا لفظ گو اپنے بہت زیادہ استعمال میں ’’خلافتِ راشدہ‘‘ یعنی خلفائے اربعہ کے دور پر ہی بولا گیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ ’’دار الاسلام‘‘ پر گزرنے والی بعد کی بہت صدیوں پر بھی اسی طرح بولا جاتا ہے جس طرح کہ نبوت سے متصل اُس تیس سالہ عہدِ زریں پر۔ خود صحیحین کی ایک حدیث میں، بروایت ابو ہریرہؓ، بنی اسرائیل کی (صدیوں پر محیط) تاریخ کے ساتھ ایک باقاعدہ تقابل کے سیاق میں، کہ جہاں ایک نبی کے اٹھ جانے کے بعد ایک دوسرا نبی ہی بنی اسرائیل کی سیاست انجام دیتا، نبیﷺ نے اب اپنے بعد ختمِ نبوت کے اعلان سے متصل، اپنی امت کے بارے میں ’’بہت زیادہ خلفاء‘‘ ہونے کی ایک نہایت امید افزا پیش گوئی فرمائی۔ بخاری کے الفاظ میں ’’وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ‘‘ اور مسلم کے الفاظ میں ’’وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ‘‘۔ جس سے استدلال کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ تاریخِ اسلام میں خلفاء کو چار کے اندر محدود جاننا اور صرف تیس سال بعد اس خلافت نامی چیز کو ختم ماننا صحیحین کی اس حدیث میں وارد ’’خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے‘‘ کو بےمعنیٰ کر دیتا ہے۔ لہٰذا بعد کے امراء پر بھی ’’خلفاء‘‘ کا اطلاق ہونا نہایت درست ہے۔ (خصوصاً جبکہ تقابل اس حدیث کے اندر بنی اسرائیل کے کئی سو سالہ دور کے ساتھ ہو)۔

یہ بھی پڑھیں:   برطانیہ کی منقسم جمہوریت - جہاں تاب حسین

اس لحاظ سے؛ اسلامی تاریخ کے اموی و عباسی وغیرہ ادوار ہمارے نزدیک خلافت ہی کے ادوار ہیں۔ کتبِ سلف سب اُنہی ادوار کی تالیف ہیں۔ ان کتب میں ’’امام‘‘ یا ’’امیر‘‘ یا ’’السلطان المسلم‘‘ کا مدلول یا تو وقت کا خلیفہ ہے یا پھر خلیفہ کے قائم مقام کوئی علاقائی امیر یا والی۔ (یہ سمجھ میں آنا کچھ مشکل نہیں کہ سلف اپنی کتب میں اپنے دور کے اندر معروف ریفرنسز ہی کے ساتھ بات کرتے تھے نہ کہ کچھ فرضی اطلاقات)۔ مقصد: خلفاء یا ان کے قائم مقام سلاطین جو عالم اسلام کے چہار اطراف پائے جاتے رہے۔ (یہ ایک واقعہ ہے کہ ہمارے مسلم ہند تک کے کئی سلاطین مانند شمس الدین التمش و مابعد امراء بغداد کے دارِ خلافت سے اپنے لیے نیابت کا پروانہ لیتے رہے۔ پیش ازیں محمود غزنوی اور اس کے جانشینوں کو خلافت کی جانب سے یہی سٹیٹس حاصل رہا)۔ نیز ’’مسلم اجتماع‘‘ کی یہ شکل پورے دارالاسلام میں جہاں کہیں تھی وہ اُسی صحابہ کے عہد کا ایک تسلسل تھی جس کے تمام تر اجزائے ترکیبی اسلام کے تصورِ اجتماع سے ہی ماخوذ رہے، اور کہیں اس کی جڑوں میں تھامس ہابز، جان لاک، اور جان سٹوارٹ مل اور جین جیک روسو وغیرہ ایسے سماجی نظریات دانوں کا دیا ہوا تصورِ اجتماع نہ بولتا تھا جسے تھوڑا بہت جھاڑ کر کہیں پر ’اسلامی‘ کر لیا گیا ہو اور جس کی تعلیم پولیٹکیل سائنس کی کتابوں میں آج تک ہُوبہُو دی جاتی اور طالبعلموں کا اس میں باقاعدہ امتحان کیا جاتا ہو۔ ہمارے اُس گردوں میں اگر ایک وقت میں مسلمانوں کی کئی کئی حکومتیں بھی پائی گئیں، یہاں تک کہ کسی وقت وہ باہم برسر جنگ بھی ہوئیں، تو وہ نری ایک انتظامی پھوٹ تھی۔ بلحاظِ ہیئت پورا دار الاسلام ایک ہی حقیقت کی تصویر تھا: سلطنت اگر کہیں حاصل ہے تو اس پر اسلام و اہل اسلام کے سوا کسی ملت کا حق نہ ہونا قطع نظر اس سے کہ مسلمان بلحاظِ تعداد کہیں پر کم ہیں یا زیادہ (’’اجتماعِ انسانی‘‘ کا کوئی ایسا معنیٰ موجود نہ ہونا جہاں کے ’’پیپل‘‘ people اور ’’ہیومنز‘‘ humans خاص اپنے ’’پیپل‘‘ اور ’’ہیومن‘‘ ہونے کے ناطے، بلا تفریقِ مذہب و ملت، مل کر اپنے وجود سے وہاں کے ’قوم‘ اور ’’اجتماع‘‘ کی تشکیل کیا کریں اور اس لحاظ سے ’ریاست‘ کی اونرشپ ownership میں برابر کا سانجھ equal partnership رکھیں؛ اور اگر کسی کو کچھ فوقیت اس کے اندر ہو تو وہ بلحاظِ تعداد numbers و آبادی population! ۔

یہاں کہیں پر مٹھی بھر مسلمانوں کا حاکم ہونا بھی کسی ’’تناسب‘‘ کے چکر میں پڑے بغیر اس قطعۂ ارضی کو ’’دارالاسلام‘‘ کا حتمی و قطعی سٹیٹس دلواتا تھا؛ خدا کے ہاں قبول ملت ’’اسلام‘‘ کےلیے مسلمان کی ایسی ہی سنجیدگی تھی اور ’’اتباعِ اسلام‘‘ کا اُس کے ہاں واحد یہی مطلب۔ مسلمان اپنے اسلام کے ساتھ دنیا میں ’’غالب‘‘ تھا یا پھر ’’مغلوب‘؛ ’’غیرموجود‘‘ بہرحال نہ تھا۔ (’’اجتماع‘‘ کی کوئی ایسی صورت جہانِ انسانی کے اندر نہ تھی جہاں مسلمان اپنے مسلمان ہونے کی حیثیت میں ’’غیر موجود‘‘ اور خاص اپنی ’انسانی‘ حیثیت میں ’’برابر کا شریک‘‘ ہو یا ’’اکثریتی حقوق‘‘ کا دعویدار؛ جوکہ سب ہیومنسٹ پیراڈائم کا شاخسانہ ہے)۔

غرض یہ ’’اجتماعِ انسانی‘‘ کی ایک ترکیب ہی سراسر اور تھی (نہ کہ ’نیشن سٹیٹ‘ والی ترکیب جہاں اسلام کے ایک حکم کی الزامی binding حیثیت اپنے وجود کو وہاں آبادی کی ’’تعداد‘‘ اور ’’مرضی‘‘ کے اندر تلاش کرنے کی پابند ہوتی ہے!)۔ نتیجتاً اس دارالاسلام کا طبعی و بے ساختہ دستور اور یہاں کا by default آئین (نہ کہ کسی ’’مقننہ‘‘ کے سند دینے سے آئین ٹھہرنے اور اس کے سند دیے رکھنے تک آئین رہنے والی چیز) یہاں کتاب و سنت یا پھر فقہاء کے بولے اور لکھے ہوئے وثیقے تھے، جس سے کچھ انحراف ہوا بھی تو نہایت بعد کے ادوار میں جا کر اور وہ بھی حیاتِ انسانی کے بہت تھوڑے اجزاء میں جو شریعت اسلام کے مقابلے پر غالب (مھیمن) ہرگز نہ تھا، سوائے کچھ تاتاری و مغل خانوادوں کے اندر، جس پر ائمۂ سنت کے ہاں شدید سے شدید کلام موجود ہے۔ وہ نووارد پیکیج جس نے ہمارے اسلامی اصولِ اجتماع کو یہاں پر یکلخت زائل replace کروایا اور ہمارے اجتماع میں مغرب کی روح جاری و ساری کی، بلکہ ہمارے اجتماع کے جسم تک کو مغرب کا من و عن چربہ رکھا، وہ پیکیج ہمارے یہاں البتہ صرف ڈیڑھ دو صدی پہلے فروکش ہوا۔ قبل ازیں ہم پورا عالم اسلام کسی ایسی آفت سے آشنا نہ تھا۔ اسی کو ہمارے اسلامی عرف و استعمال میں ایک بڑی سطح پر ’’خلافت کے سقوط‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے (مقصد: اُس اسلامی پیراڈائم کا گرا دیا جانا، اگرچہ کسی مسلم خطے میں پیش ازیں خلافت نہ بھی ہو)؛ اور یہ عالم اسلام میں ایک سراسر نئے (بدیسی) تہذیبی واقعہ کا قیام تھا۔

ہمارے اس ’’سقوط‘‘ کے ماقبل و مابعد کا فرق ختم کروانا یہاں مسلم زندگی اور مسلم اجتماعیت کے حق میں بالکل ایسا ہے جیسا دن اور رات کا فرق ختم کروانا نیز یہاں پر احیائے اسلام کے عمل کو دن دہاڑے موت کے گھاٹ اتارنا۔ بےشک کوئی اپنے دلائل دینے میں کتنا ہی مخلص ہو، مگر یہ فرق ختم ٹھہرانا اور ان دونوں کو بلحاظِ حکم وتعامل ایک کرنا ہے اپنی افتاد میں احیائے اسلام کا ایک سیدھا سیدھا قتل۔

’’ڈیموکریسی‘‘ کے متعلق میری اس ساری گفتگو کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی مسلم ملک یا حتیٰ کہ امریکہ یا انگلستان ایسے کسی کافر ملک کے اندر ایک مسلمان فرد یا مسلمان گروہ کے حق میں اس (ڈیموکریسی سمیت کسی بھی ’’غیر اسلامی نظام‘‘) کے دیے ہوئے سیاسی مواقع لینا، اور اس مقصد کےلیے وہاں پر موجود انسانوں کے ساتھ خیرخواہانہ شرکت کر آنا غلط ہے۔ یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے تحت، بحوالہ ابن تیمیہؒ، میں اس پر بار ہا عرض کر چکا ہوں کہ مسلمان کے حق میں کسی بھی غیر اسلامی سے غیر اسلامی ’نظام‘ کے دیے ہوئے مواقع کو لینا سراسر اس فعل میں پائے جانے والے مصالح اور مفاسد کے موازنہ پر انحصار کرتا ہے؛ اور اِس موازنہ کا پلڑا کسی ایک صورتحال میں مصالح کی طرف جھک سکتا ہے (یعنی مسلمان اس میں شرکت کر آئے) تو کسی دوسری صورتحال میں مفاسد کی طرف (یعنی مسلمان اس میں شرکت سے احتراز کرے)۔

غرض ڈیموکریسی پر قائم ایک صورتحال میں ایک مسلمان کا شرکت کرنا یا نہ کرنا ایک اجتہادی امر ہے بشرطیکہ وہ عقیدۂ اسلام سے آگاہ و آراستہ ہو۔ اس لحاظ سے بطور ایک مسلم فرد یا ایک مسلم گروہ، اور بشرطِ رجحانِ مصلحت، میں کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک کے ڈیموکریٹک نظام میں شرکت بےشک کر لوں گا اور اس میں ایک فعال کردار ادا کرنا بھی ضروری جانوں گا۔ لیکن اس بات کا کوئی تعلق اس امر سے نہ ہو گا کہ خود اس ’’ڈیموکریسی‘‘ ہی کو میں اسلام کی کوئی سند دینے چل دوں یا اسلام کی کچھ مصطلحات سے اس کی زلفِ گرہ گیر سلجھاتا پھروں۔ وہ شرکت کی بات ایسے کسی نظام کے اندر اپنی جگہ ایک درست مبحث ہے اور اسے اسلام کی سند نہ دینے کی بات اپنی جگہ ایک اصول۔

اگرچہ یہ ڈیموکریٹک سسٹم ’’تنقید‘‘، ’’اپوزیشن‘‘ اور ’’عوامی محاسبہ‘‘ ایسی اشیاء کی باقاعدہ سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتا، اسے اپنا باقاعدہ حصہ گردانتا اور اپنی تاریخ اور اپنے روزمرہ مظاہر میں اس (تنقید اور اپوزیشن) کی نہایت قبیح صورتیں پیش کرتا چلا آیا ہے۔ اس کے باوجود ہم مسلمان اس تنقید یا اپوزیشن کے عمل میں بھی، جہاں یہ ناگزیر ہو، اپنے اسلامی اخلاق سے پیچھے نہ ہٹیں گے؛ اور اس باب میں کچھ نئے معیار قائم کر دکھانا ضروری جانیں گے۔ (یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی ’نظام‘ میں کسی مؤثر پوزیشن پر تشریف لے گئے تو اپنے اسلامی اخلاق اور معیارات کو ہی قائم رکھا؛ اور یہی بات آپؑ کے وہاں غیر معمولی اثرانداز ہونے اور دلوں میں جا اترنے کا ذریعہ بنا)۔ پس ہم بیک وقت کسی ملک میں ’’ریاست‘‘ کے ہر دو ستون ’’حکومت‘‘ اور ’’اپوزیشن‘‘ میں اسلام کے دوستوں اور ہمدردوں کی تلاش یا پھر وہاں اسلام دوستوں اور ہمدردوں کو پیدا کرنے کی سعی ہی کریں گے؛ اور اس کےلیے اعلیٰ اسلامی اخلاق اور ایک متبعِ انبیاء کے لائق زبان و بیان کو ہی اپنا مستقل ذریعہ بنائیں گے۔ ہر دو جانب (حکومت و اپوزیشن) اسلام کے بدترین دشمن کے ساتھ بھی ہم ’’ادۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ھِیَ أحۡسَنُ‘‘ کا اسلوب اختیار کرنا واجب جانیں گے؛ جوکہ خود قرآن ہی کا ہم کو حکم ہے اور ’’إلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا‘‘ کو فی الواقع استثناء جانیں گے۔ یعنی اس معاملہ میں مسلمان تو مسلمان ایک کافر ملک میں کافر ’’حکمران‘‘ کے ساتھ بھی اچھا ہی پیش آئیں گے۔ فرعون ایسے ایک طاغوت کی بابت قرآن نے اگر موسی علیہ السلام ایسی اجلّ ہستی کو ’’قولا له قولاً لیِّنًا‘‘ کا حکم دیا ہے تو یہاں کے کسی بھی صاحب اقتدار کے ساتھ نری محاذ آرائی کا اسلوب ہم گناہگاروں کے حق میں پھر کیونکر درست ہو سکتا ہے؟

(اس لحاظ سے؛ ہمیں یہاں کے سیاسی عمل میں شریک اِس وقت کی بہت سی دینی جماعتوں کے اسلوب سے واضح واضح اختلاف ہے جن کے تصادم آمیز اسلوب نے وقت کی مقتدرہ قوتوں کے ساتھ محاذ آرائی کو ایک درجہ انگیخت دی۔ اس کی تفصیل کا گو یہ مقام نہیں، بس یہ نوٹ کر لیا جائے کہ ہم کسی دھواں دھار تنقید یا ’حکمران کے پھٹے اکھیڑنے‘ ایسے منہج کو ہرگز مستحسن نہیں جانتے۔ نہ ہمارے نزدیک یہ اسلام کی خدمت کا کوئی طریقہ ہے)۔ بلاشبہ، ایک دھیما اور دانشمندانہ اسلوب اختیار کر کے یہاں کی حکومتوں اور اپوزیشنوں کے اندر اسلام کے حق میں بہت سی جگہ اور گنجائش پیدا کرائی جا سکتی ہے، اور یہ دھیما اور دانشمندانہ اسلوب اور ’’مواقع کی تلاش‘‘ کی یہ دُوررَس اپروچ بلاشبہ یہاں کے اسلامی سیاسی حلقوں میں بہت کم اختیار کی گئی ہے۔ اس کی وضاحت بھی ان شاء اللہ کسی اور وقت۔

ائمۃ المسلمین کے ساتھ تعامل سے متعلق یہاں سلف کی نسبت سے اگر کچھ تقریرات آئیں، تو وہ مجمل اور سرسری ہی آئی ہیں۔ تفصیل اس کی یقیناً وسیع ہے۔ کسی خاص صورتحال میں امیر کے ساتھ کھلا اختلاف کر لینے تک کا جواز ’’منہجِ سلف‘‘ میں اپنی جگہ موجود ضرور ہے۔ مگر چونکہ اصل موضوع یہ نہ تھا، لہٰذا اس پورے موضوع کی تفصیل میں ہم نہیں گئے؛ اور نہ اندریں حالات شاید اس کی ضرورت ہے۔ یہاں فی الوقت ایک ڈیموکریٹک سسٹم ہے؛ جہاں تنقید، اپوزیشن اور محاسبہ کے عمل کو خود اس کے ڈیموکریٹک پیراڈائم میں رہ کر دیکھا جانا ہے؛ اور خود اس کا گزارہ ’’کتبِ سلف‘‘ کے حوالوں کے بغیر بھی ہوتا ہے۔
اللہ اعلم۔