میں مرسی سے حسد کرتا ہوں - مجاہد خٹک

غم ہو، دکھ ہو یا صدمہ ، مجھے ایک دم سے اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ معلوم نہیں کہ یہ ذہن کا دفاعی میکنزم ہے یا کچھ اور کہ دھیرے دھیرے، قطرہ بہ قطرہ دکھ اندر سرایت کرتا رہتا ہے۔۔ پھر جب ذات کا چشمہ پوری طرح بھر جاتا ہے تو آنکھوں کے رستے سے باہر بہنے لگتا ہے۔

جب یہ مرحلہ آن پہنچے تو دکھ پوری وحشت سے دل نازک کو کچھ اس طرح دبوچ لیتا ہے کہ اس سے بوند بوند لہو ٹپکنے لگتا ہے۔ اذیت کا باعث بننے والا سانحہ اپنی تمام تر سنگینی کے ساتھ نظروں کے سامنے عیاں ہو جاتا ہے۔۔ جیسے مطمئن فلم بین کے سامنے اسکرین سے پردہ سرکنے لگے اور پھر ایک دم سے کوئی دل دہلا دینے والا منظر نمودار ہو جائے۔
جب ایسی کیفیت رات کے ڈھائی بجے روح کا ریشم ادھیڑ نے لگے تو انسان کیا کرے؟ محمد مرسی جیسے مثالیت پسند جب تک زندہ رہتے ہیں خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو اذیت میں رکھتے ہیں اور جب جہان فانی سے رخصت ہوتے ہیں تو اپنی پرآسائش زندگی میں مست ہم ایسوں کا جینا بھی حرام کر دیتے ہیں۔
مگر کیا کریں کہ انسان اگر غاروں سے نکل کر خلا کی وسعتوں میں سفر کرنے کے قابل ہوا ہے تو انسانی نسل کے اس طویل سفر کے رجل عظیم یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذات کو بغیر شکوہ کیے صلیب پر گاڑ دیا تاکہ مجھے جیسے آرام پرست، تھڑدلے اور آسان راستوں کے شیدائیوں کے لیے یہ دنیا جینے لائق ہو سکے۔

میں دنیا کے سامنے مرسی کی تعریف کرتا ہوں لیکن دل ہی دل میں اس سے حسد کرتا ہوں کہ کردار کی جو بلندی اس نے دکھائی ہے اسے سر اونچا کر کے دیکھتے ہوئے اپنے چھوٹے قد کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اخوان المسلمین کو اپنی جدوجہد کے آغاز سے ہی اسقدر آزمائشوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ یہ اذیتیں ان کے من کو بھا گئیں۔ اور جب انہیں حکومت مل گئی تو اقتدار کا مخملیں تخت ان کے لیے کانٹوں کا بستر بن گیا اور قیدوبند میں رہنے اور تختہ دار پر جھولنے کی چاہ ان پر غالب آ گئی۔
دل ایک وسیع نگری ہے جس کی مختلف وادیوں کو دکھوں نے اپنا گھر بنایا ہوا ہے۔ مرسی جیسوں کی نگری میں دکھ شاہینوں اور ہرنوں کی طرح رہتے ہیں لیکن ہمارے دل کی وادیوں میں یہ گدھ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ آج سے ایسی ہی ایک وادی مرسی کے نام ۔ جب دکھوں کے گدھ دل کی بنجر دھرتی پر اپنی لمبی چونچیں ماریں گے تو بے ساختہ انکھوں سے آنسو بہہ نکلیں گے۔ ہم سے کمزور لوگ بس یہی نذرانہ عقیدت پیش کر سکتے ہیں سو مرتے دم تک پیش کرتے رہیں گے۔