…تو آبروئے امت مرحوم ہے- سجاد میر

اس سے خوبصورت بندوبست کبھی نہیں دیکھا۔ آج صبح ناشتے کی میز پر ان سے ملاقات ہوئی۔ عبدالقادر خاں مرے بچپن کے دوست ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر خاں جن کا تعارف میں نے ان کے طلبہ کے سامنے بھرے ہال میں یوں کرایا تھا کہ یہ اور میں ایک دوسرے کو تب سے جانتے ہیں جب ہم نیکریں پہنا کرتے تھے۔ شاید لنگوٹیے کا لفظ بھی کسی نے ایسے ہی ایجاد کیا ہو گا۔ یوں سمجھیے لاہور سے باہر بحریہ آرچرڈ میں ایک نئی دنیا ہے۔ انہوں نے یہاں یہ کہہ کر طلب کیا کہ وہ میری ایک شاندار جوڑے سے ملاقات کرائیں گے۔ ساتھ مرے سلمان غنی بھی تھے۔ یہاں میں زندگی کے ایک نہایت خوبصورت تجربے سے روشناس ہوا میں نے بہت سے لوگوں کو خلق خدا کی خدمت کرتے دیکھا ہے مگر یہ عجیب ہی بندوبست ہے۔ عجیب ہی تجربہ ہے۔ مقصد بھی لاجواب اور اس کے حصول کا ذریعہ بھی بے مثال۔ روبینہ شکیل اور ان کے شوہر شکیل صاحب مرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ اپنی زندگی کا ایک بہت شاندار تجربہ بیان کر رہے تھے۔ شکیل صاحب کیمیکل انجینئر ہیںشیشہ گری میں مہارت رکھتے ہیں۔ کوئی 45ممالک میں کام کر چکے ہیں۔ برسوں سعودی عرب میں بھی رہے‘ پاکستان واپس آئے تو بھی اپنے کام میں لگ گئے بلکہ جت گئے صبح سے لے کر شام تک کام اور صرف کام۔

اہلیہ نے ایک دن اجازت طلب کی کہ یہ جو گھر کے سامنے دوچار بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنے گیراج میں تعلیم دینے کا بندوبست کر لوں۔ میاں نے اجازت دے دی اور خود اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات میں مگن رہے۔ چند روز کے بعد اہلیہ نے کہا کہ آج ذرا بچوں کا امتحان ہے۔ آپ بھی رک جائیے۔ معلوم ہوا وہ 4بچے اب 45ہو گئے ہیں۔ ایک اور عزیز خاتون کی مدد سے انہوں نے گویا ایک مدرسہ آباد کر دیا تھا۔ کہانی کو آگے بڑھائیں تو اس وقت وہ کوئی 46سو طلبہ کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ان کے اپنے کئی کیمپس ہیں۔ بنیادی تصور یہ تھا کہ یہ جو گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں ہیں‘ ان کے بچے آوارہ پھرتے ہیں اور تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ گزشتہ صدی کے اختتام کی بات تھی۔ اب ان بیس برسوں میں سینکڑوں بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر چکے ہیں۔ وہ بچوں کو دوپہر کا کھانا بھی دیتے ہیں‘ انہیں یونیفارم ‘ کتابیں ہر قسم کی تعلیمی سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔ یہ کام پھیلا کیسے۔ اس کے لئے جہاں انہوں نے ماں باپ میں ترغیب پیدا کی‘ وہاں انہوں نے وسائل کی فراہمی کے لئے ایک انوکھا طریقہ تلاش کیا۔ سچ پوچھیے یہ وہ طریقہ کار ہے جس نے مجھے چونکا دیا انہوں نے علاقے کے لوگوں سے مدد نہیں مانگی۔ انہوں نے ان سے ان کے گھر کا کوڑا کباڑ مانگا۔ انہیں وہ ایک لفافہ فراہم کرتے اور کہتے اس میں اپنے گھر کا ضائع شدہ کاٹھ کباڑ ڈال دیجیے۔

خالی ڈبے‘ بوتلیں‘کاغذ‘اخبار جو کچھ بھی آپ کو پھینکنا ہے‘ اس میں ڈال دیجیے۔ ہمارا آدمی ہفتے میں ایک دن آئے گا اور آپ کا کاٹھ کباڑ اور ردی مال لے جائے گا۔ اندازہ یہ ہے کہ ایک گھر کے اس کاٹھ کباڑ سے مہینے میں اتنے پیسے بچتے ہیں جو ایک بچے کی کفالت کر سکتے ہیں۔ یہ نظام انہوں نے ایسے منظم کیا کہ اب ان کے اپنے ویئر ہائوسز ہیں جہاں ان کے لوگ ایک منظم طریقے سے کوڑا کرکٹ اکٹھے کر کے ان کی چھانٹی کرتے ہیں اور انہیں فروخت کرتے ہیں۔ آپ کے گھر کے ضائع شدہ اشیاء کا اس سے بہتر مصرف اور کیا ہو سکتا ہے۔ کوڑا بھی ٹھکانے لگ گیا اور ایک اعلیٰ مقصد کے لئے کام بھی آ گیا۔ انہوں نے اس تصور کو وسعت دی۔ مخیر حضرات آگے آ کر دست تعاون بڑھانے لگے۔ یہ کوئی پیشہ ور لوگ نہیں‘ اس لئے ذرا ذرا سی بات پر خوش ہو جاتے ہیں۔ حیران ہوتے ہیں کہ لوگ کیسے مدد کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اب ان کے ایک سے زیادہ کیمپس ہیں اور وہ یتیم بچوں کے لئے رہائشی منصوبہ بھی بنا رہے ہیں۔ اب ان میں گلی محلوں میں کام کرنے والی مائیوں اور ماسیوں ہی کے بچے نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کے بچے بھی ہیں جو محنت مزدوری کرنے نکل جاتے ہیں اور پیچھے ان کے بچوں کا والی وارث کوئی نہیں ہوتا۔ وہ بچے بھی ہیں جن کی نہ ماں ہے نہ باپ۔ وہ ذاتی طور پر ایک ایک بچے کی ضروریات کا جائزہ لیتے ہیں شروع شروع میں انہیں احساس ہوا کہ بچوں اور ان کے ماں باپ کے لئے اس بات ہی میں بڑی کشش ہے کہ یہاں انہیں مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کمزور بچوں کے لئے دودھ کا بھی انتظام کیا ہے اور انہیں اور ان کے خاندان کو طبی سہولتیں بھی فراہم کی ہیں۔

شہر کے بعض ہسپتال ان سے تعاون کرتے ہیں۔ یہ ان غریب خاندانوں کے اہل و عیال کے بائی پاس آپریشن تک بھی کروا چکے ہیں۔ گویا یہ بچوں ہی نہیں‘ ان کے خاندانوں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے بارہویں جماعت تک درس گاہیں کھول رکھی ہیں جہاں تعلیم کا بڑا سخت اورعمدہ نظام ہے۔ غریب اور یتیم بچوں کی مدد کرنے والے اور بھی بہت سے ادارے اور ماڈل ہیں مگر یہ ماڈل بالکل اچھوتا ہے۔ کسی کو خیال آیا کہ یہ گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کے بچے سکول کیسے جاتے ہوں گے ایک چھوٹا سا کام۔ پھر اس کو کرنے کا بڑا ہی فقیرانہ طریقہ‘ اپنے گھر کاٹھ کباڑ اور ضائع شدہ مال دے دو۔ نیت اچھی ہو تو اللہ کیسی برکت ڈالتا ہے۔ پھر اس میں وسعت یہ کہ اسے مختلف بستیوں تک پھیلا دیا اور دست شفقت صرف بچوں تک نہیں رکھا ان کے خاندانوں پر بھی بچوں کو تعلیمی سہولتیں ہی مفت نہیں دیں۔ بلکہ ضرورت کے تحت دودھ وغیرہ بھی فراہم کیا اور اس کا بھی اپنا انتظام کیا۔ خالص اور سستا دودھ فراہم کرنے کے لئے اپنے جانور پالے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سترمائوں کی رحمت کے برابر ہے۔ تو یہ کم از کم ان گھرانوں کے لئے ایک ماں کا سا پیار لے کر آتے ہیں۔ پھر انہوں نے اس کا نام بھی بڑا خوبصورت رکھا ہوا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ سب کچھ دوسروں کی عزت و آبرو کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے۔ اس ادارے کا نام بھی اس خیال سے انہوں نے آبرو رکھ دیا ہے۔ ہاں یہاں میں ایک اور ادارے کا ذکر کرتا چلوں اس کا تعارف بھی مجھ سے پہلے پہل عبدالقادر ہی نے کر ایا۔ اخلاق صاحب آن لائن دونوں لازم و ملزوم ہیں یہ بھی خاموش کام کرنے کرنے کا ایک بے مثال ادارہ ہے۔ ابتدا میں اس ادارے نے بھی آبرو کو پائوں پر کھڑے ہونے میں بڑی مدد کی۔ اللہ انہیں بھی توفیق دے۔ یہ اللہ کے بڑے خاموش مجاہد ہیں۔ شاید انہی لوگوں سے یہ دنیا قائم اور آباد ہے میں سال میں ایک آدھ بار ان اداروں کا ذکر کرتا رہتا ہوں جو دکھی انسانوں کی خدمت کرتے ہیں الخدمت‘ اخوت‘ الغزالی جانے کتنے ادارے ہیں جو صحت اور تعلیم ہی نہیں ہر انسانی مشکل میں دکھوں کا مداوا بنتے ہیں۔ ایک نہیں بے شمار ادارے ہیں۔ مجھے ڈاکٹر آصف جاہ بھی یاد آ رہے ہیں جو سرکاری ملازمت کرتے ہوئے بھی اس کارخیر کے لئے وقت نکالتے ہیں اور وسائل اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ‘ مگر ان میاں بیوی کی یہ کہانی تو مرے لئے حیران کن تھی کس طرح بیوی نے اپنا خالی وقت کو ایک بڑے کام کے لئے وقف کیا اور اس کے لئے کس فقیرانہ انداز سے وسائل فراہم کئے اور اب یہ ایک جاندار ادارہ بن چکا ہے۔ مقصد بھی اچھوتا‘ وسائل کے حصول کا طریقہ بھی بے مثال۔ اورنتیجہ تو پھر نکلنا ہی تھا۔ پھر اللہ راستے کھولتا جاتا ہے۔