ہو جِس سے اختلاف، اُسے مار ڈالیے - عالم خان

آنکھ کھلتے ہی دیکھا کہ چہرے پہ سنت رسول [ص] سجائے ہوئے لمبے بالوں والا خوبصورت نوجوان جو ابھی جوانی کی دہلیز پہ تھا زبان وقلم سے سوشل میڈیا پہ اپنا نام ومقام پیدا کرچکا تھا محمد بلال خان کے نام سے کئی محاذوں پہ ایکٹیو تھا چند دن پہلے ناموس صحابہ [رض] کے لیے جاندار آواز کی شکل میں ابھرا تھا کل رات اس کی زبان ہمیشہ کے لیے خاموش کردی گئی۔

آپ کے جاننے والوں نے شہادت پہ افسوس کے ساتھ ساتھ لکھا ہے کہ محمد بلال خان جذباتی تھا، متشدد تھا حکمت سے لڑنے کا قائل نہیں تھا قلم کو تیز دھار تلوار کی طرح چلاتا تھا میں کہتا ہوں جو بھی تھا ہمارا تھا یا پرایا تھا موافق تھا یا مخالفت تھا لیکن کسی کو دلیل کے بجائے اس طرح خنجر اور گولی سے خاموش کرانا جرم اور دہشت گردی ہے جو ریاست اور سیکورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔
رائج ہے میرے دیس میں نفرت کا قاعدہ - ہو جِس سے اختلاف، اُسے مار ڈالیے

میں محمد بلال خان کو ذاتی طور پہ جانتا ہوں نہ میری فرینڈ لسٹ میں تھا کبھی تحریر سامنے آتی تو پڑھتا تھا اگرچہ انداز تحریر سے کئی بار اختلاف بھی رہا ہے لیکن آپکی کی کم عمری میں شہادت اور والد صاحب کی تقریر سے اس نتیجہ پہ پہنچ چکا ہوں کہ آپ کی جوانی کا چراغ جس جرم کی پاداش میں بھی بجھایا گیا ہو اس جرم کے ارتکاب میں آپ کی تلوار قلم ہی تھی۔
اگر محمد بلال خان کا گناہ حرمت رسول [ص] اور ناموس صحابہ [رض] ہے تو پھر ہمیں اسکی شہادت پہ مرثیہ پڑھنے اور آہ وفغان کرنے کے بجائے رشک کرنا چاہیے کیونکہ وہ خود اس کا متمنی تھا وہ اپنے لیے فخر و اعزاز سمجھتا تھا کہ اسکو روز محشر صحابہ کرام [رض] کے قدموں سے اٹھایا جائے۔ رب! نے اسکی آرزو پوری کی آپ اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئے آپ جیت گئے اور آپ کے قاتل ہار گئے۔

ٹیگز

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.