فادرزڈے مسلمانوں میں کیسے منائیں ؟ - فرح رضوان

بہترین کاموں میں سے ایک یہ کہ والد کی وفات کے بعد انکی میراث کم ہو یا زیادہ، اللہ تعالیٰ کی وصیت کے عین مطابق اس کی تقسیم ہوجانی چاہئے؛اسکی تربیت والد صاحب کو جیتے جی کردینی چاہئے۔ دوسری بات یہ کہ فادر کو وصیت کرنی آنی چاہئے کہ وارثوں کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی، مزید یہ کہ اگر حدیث کے مفہوم کے مطابق شیطان نے آخری وقت میں ان سے غلط وصیت کروا دی تو اب بحیثیت اولاد ہمارا کام کیا ہے بھلا ؟

ابا جان ، بابا جان ، ابو جان کی جان خلاصی کروائی جائے فوری طور پر ، بڑے سے سوئم چالیسویں برسی سے ان کو راحت نہیں ملنے کی آپ کو قربانی دینی پڑے گی بڑی ۔گردہ میچ ہو جائے ناں تب بھی بچے ایک گردہ اباجان ، ابو جان ، بابا جان کو عطیہ کر دیتے ہیں مگر حق سے زائد جائداد ملنے پر یہ قربانی اصل میں بہت بڑی قربانی ہے۔ قبر پر روز جاکر فاتحہ نہ بھی پڑھیں یا ہر نماز پر جاکر فاتحہ خوانی فرمائیں بات بنے گی نہیں تب تک ، جب تک اصل وارث کو اللہ تعالیٰ کی وصیت کے مطابق حصہ دے نہ دیا جائے ۔ خواہ یہ حصہ بیٹی کے پاس آیا ہو بیٹے کے یا بیوہ والدہ شوہر کی " نشانی " سے چمٹ کر اپنی نادانی سے انکو قبر / برزخ میں پریشانی دے رہی ہوں ۔ فادرز ڈے پر والد کو یاد کر رہے ہوں کچھ عزائم کر رہے ہوں تو خدارا وراثت کے مسائل پر توجہ دیجئے، اپنے ہاتھوں اپنے والد کی کوتاہی کو دعا ہمت استقامت سے درست کر لیجئے کہ آپ کے بعد کوئی بھی آپکے والد کا نجات دہندہ نہ ہوگا ۔۔۔۔۔نہ آپکا۔
فادرز ڈے پر ایک اور درخواست فادرز ہی سے ، بچوں پر بیگم پر غصہ بہت بہت آسان کام ہے ، اور صالح زندگی ، جو تقوی کے ساتھ تنہائی اور محفلوں میں گذاری جائے دقت طلب ، قربانی یہ نہیں کہ نیند و آرام قربان کر کے بچے کی تعلیم کا بہترین بندوست فرمایا جائے.

خوشیاں خرید دی جائیں بلکہ نفس کی بیجا طلب کی قربانی کی جائے۔ بچہ ڈرے کہ بابا ، پاپا ، ڈیڈی وہاں کونے میں چھپکلی یا کاکروچ ہے ، تو آپ بہادری کے جوہر دکھائیں، بلکہ تلاشی کی ضرورت زندگی کے کونے کونے کی ہے کہ کہیں غیر حلال رقم سے کوئی آسائش یا ضرورت پوری تو نہیں کی جارہی بچوں کی اور خواہش پوری کی جارہی اپنے نفس کی کسی بھی طرح کسی بھی سطح پر ۔۔۔۔۔والد حضور اکثر ہی تربیت اولاد کے سلسلے میں بیگمات اور اولاد دونوں ہی سے خفا رہتے ہیں ، اپنے حصے کا یہ کونا دیکھنا ، خواہش کی چھپکلی کو مار بھگانے کے معاملے میں لاپرواہی برت جاتے ہیں ۔۔۔۔چھپکلی انڈے بچے دے کر آباد ہو جاتی ہے تو پھر جوتے ، کپڑے، برتن کوئی کونا نہیں چھوڑتی کہ وہاں سے برآمد ہو رہی ہو ۔ سورہ کہف ہر جمعہ یاد دہانی کا یہ نور بھی ہدیہ کر تی ہے نا کہ والد سر پر موجود نہ بھی ہوں تب بھی یتیم بچوں کے نصیب کے خزانے کی حفاظت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔کس لئے کہ والد انکے صالح انسان تھے۔
جی جناب یہ آپکی کار کی وہی چابی ہے جو آپ کی جیب میں ہوتی ہے اور آپ گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں، کہ تم نے گما دی تم کو احساس ذمہ داری نہیں ، سلیقہ نہیں ، ہوش نہیں ۔۔۔۔۔

ٹیگز

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.