جب میں آپ کی عمر تک پہنچوں گا ۔۔۔ ٹھنڈا ہو جاؤں گا - سبوخ سید

اکثر فون کرتا تھا ۔۔۔ خیریت پوچھتا ۔۔۔ ہم اکثر اسے ڈانتے ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔ یہ غلط ہے ۔۔۔ مسکرا کر سنتا ۔۔۔ خاموش ہو جاتا ۔۔۔ کبھی آگے سے بدتمیزی نہیں کی ۔۔۔ ایک لفظ نہیں کہا ۔۔۔میں اسے کہتا کہ مذہب کا یہ مقصد نہیں ۔۔۔ سیاست ایسے نہیں ہوتی ۔۔۔ ریاستوں کو ایسا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔

ہمارے پاس معلومات کم ہوتی ہیں ۔۔۔ اس لیے ہمارا تجزیہ بھی درست نہیں ہوتا ۔۔۔یہ جو لکھ رہے ہو ۔۔۔ اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔۔۔وہ کہتا کہ ۔۔۔ جب میں آپ کی عمر تک پہنچوں گا ۔۔۔ ٹھنڈا ہو جاؤں گا ۔۔۔کئی بار میرے خلاف لکھا ۔۔۔ مجھے جانتا نہیں تھا ۔۔۔ تین چار سال پہلے ایک روز فون آیا ۔۔۔ ملنے آگیا ۔۔۔ دو تین گھنٹے میرے پاس بیٹھا رہا ۔۔۔ اس کے اندر ایک بے قابو سی آگ تھی ۔۔۔ میں نے اسے کہا کہ ۔۔۔پڑھو ۔۔۔ محنت کرو ۔۔۔ جب علم اور ملاقاتیں بڑھیں گی تو گفتگو اور تحریر میں بھی توازن آئے گا ۔۔۔ میرے بارے میں پھر ایک معذرت خواہی پر مبنی پوسٹ لکھی ۔۔۔
ایک روز رمضان میں کہا کہ ۔۔۔ افطاری کے لیے آنا چاہتا ہوں لیکن میں والد صاحب کے ساتھ ایبٹ آباد گیا ہوا تھا ۔۔۔ عید پر ابو کی عیادت کے لیے اپنے بھائی کے ساتھ گھر آیا ۔۔۔۔دو تین گھنٹے گھر میں بیٹھا رہا ۔۔۔ انہی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی کہ ۔۔۔ چیزوں کو سمجھنا چاہیے ۔۔۔ میں نے اسے کہا کہ ۔۔۔۔ خدا نے تمھیں خوبصورت چہرہ ۔۔۔بہترین انداز تکلم ۔۔۔حسین خیالات ۔۔۔ذہین وجود بخشا ہے ۔۔۔ اسے کسی مقصد میں لاؤ ۔۔۔ وہ غور سے سنتا رہتا تھا ۔۔۔ لیکن کرتا وہی تھا جسے ٹھیک سمجھتا تھا ۔۔۔ وہ چھوٹے بھائیوں کی طرح تھا ۔۔۔ وہ اور اس کا بھائی کمیل ۔۔۔۔ ایبٹ آباد میں رہتے تھے ۔۔۔ہمارے ہاں کبھی کوئی معاملہ ہوتا ۔۔۔دونوں بھائی فورا پہنچ جاتے تھے ۔۔۔

اسے صحافی بننے کا شوق تھا ۔۔۔ قلم میں کاٹ بھی تھی ۔۔۔ وہ قلم کا دھنی بھی تھا ۔۔۔ اپنے خیالات کا بے باک اظہار بھی کرتا تھا ۔۔۔ وہ اپنی محنت اور مزدوری سے اپنی اور اپنی بہنوں کی تعلیم کا خرچ پورا کر رہا تھا ۔۔۔ اس کے پاس تو اسلام آباد میں ایک کمرے کے کرایے کے پیسے پورا کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔مجھے ہر بال ٹال دیتا تھا ۔۔۔ ابھی اس نے اسلامی یونیورسٹی میں اصول الدین کے دوسرے سمسٹر کا امتحان دیا تھا ۔۔۔۔ رمضان میں ایک روز شدید گرمی تھی ۔۔۔ میں اور خورشید ندیم صاحب کہیں جار رہے تھے ۔۔۔ دیکھا کہ وہ سنٹورس والا پل پیدل کراس کر رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے گاڑی روک کر ساتھ بٹھا دیا ۔۔۔۔ خورشید صاحب سے کہا کہ ۔۔۔۔ خدا نے اسے بہت سی چیزوں سے نوازا ہے ۔۔۔ لیکن یہ خود کو ضائع کر رہا ہے ۔۔۔وہ بہت بدل گیا تھا ۔۔۔ اس کے خیالات میں بدلاؤ آ رہا تھا ۔۔۔ وہ جذباتیت کی چادر اتار کر پھینک رہا تھا ۔۔۔ وہ ہوش اور خرد کی راہوں پر چلنے کا سوچ رہا تھا لیکن اس کلی کو سورج بننے سے پہلے ہی کسی بد بخت نے قتل کر دیا ۔۔۔ اٹھارہ بیس سال کے بچے کی جان لے کر اس کی ماں کی گود ویران کر دی گئی ۔۔۔ وہ کہتا تھا کہ جب میں آپ کی عمر کو پہنچوں گا ، ٹھندا ہو جاؤں گا لیکن آج اس کی بے چین روح کو ٹھنڈک مل گئی ہو گی ۔۔۔ کاش وہ تھوڑا اور زندہ جاتا ۔۔۔ اس سے کئی باتیں کرنی تھیں ۔۔۔وہ سنتا تو تھا لیکن مانتا نہیں تھا ۔۔۔ہم سب میں سے اکثر لوگ اسے کوستے تھے ۔۔۔۔ڈانتے تھے ۔۔۔۔ سمجھاتے تھے ۔۔۔۔ لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ مرے گا تو اتنا بے چین کر جائے گا ۔۔۔

ٹیگز