مولوی صاحبان سوال سے کیوں چڑتے ہیں؟ مالک اشتر

چلیے اس کو بدل کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ مذہبی طبقہ سوالوں پر کیوں جھنجلاتا ہے؟ اس سوال سے نمٹنے سے پہلے ذرا میری آپ بیتی سن لیجیے۔ ہم سب کے لئے مضامین لکھتے ہوئے یہ گناہ گار بہت سے تجربوں سے گزرا ہے۔

میری زیادہ تر تحریروں کا موضوع مسلمانوں کے سماجی معاملات ہوا کرتے ہیں اور ان میں اکثر ایسے حوالے شامل ہوتے ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ اس بات پر بہت سوں کو شکوہ رہتا ہے کہ یہ بندہ بھارتی ہوکر ہمارے معاملات میں ٹانگ کیوں اڑاتا ہے؟ یوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے جیسے معاملات پر مذہبی رہنماؤں کی آرائی پر تنقید کی تو فرمایا گیا کہ یہ شخص لبرل اور بے دین ہے۔ یونیورسٹی کا فزکس کا شعبہ ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کرنے کی مخالفت کرنے والوں کو گھیرا تو کہا گیا کہ یہ شخص قادیانی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اس گالم گلوچ کے باوجود ہم سب کے بے شمار سنجیدہ اور روشن فکر قارئین تک پہنچنے کی خواہش ہمیشہ قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ہم سب پر صرف صلواتیں سنانے والوں سے ہی سابقہ پڑتا ہے بلکہ بہت بڑی تعداد ان قارئین کی ہوتی ہے جو کوئی بھی سنجیدہ اور فکر انگیز بات نہ صرف یہ کہ سنتے ہیں بلکہ قلمکار کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ بات طویل ہوئی جاتی ہے لیکن یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ جب کبھی مذہبی طبقہ سے متعلق کسی بات پر تنقیدی بلاگ یا کالم شائع ہوتا ہے تو مضمون نگار کو سخت ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ اس عدم برداشت کے پیچھے تین جذبے کار فرما ہیں۔

ان میں پہلا احساس برتری ، دوسرا سازشی تھیوری پسند مزاج اور تیسرا دین اور تعبیر دین میں تمیز نہ کر پانا ہے۔ یہ مذہبی طبقے میں پائی جانے والی احساس برتری کا ہی نتیجہ ہے کہ مذہب کے بارے میں جیسے ہی کوئی سوال کیجئے تو جواب کے بجائے یہ طعنہ سننے کو مل جاتا ہے کہ تم نے اب تک دین کے بارے میں پڑھا ہی کیا ہے؟ سائل کو ذلیل کرنے والا یہ مزاج اسی احساس برتری سے پیدا ہوتا ہے۔ فارغ التحصیل مذہبی اسکالروں تو جانے دیجئے مدارس کے طلبہ بھی جدید تعلیمی نظام کے پروردہ افراد کی طرف سے آنے والے کسی بھی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے یاد دلانا نہیں بھولتے کہ یونیورسٹیوں میں حرام کاری کے سوا کچھ نہیں ہوتا جبکہ دینی مدارس عفت و پاکدامنی کا گہوارہ ہیں۔ یہی وہ احساس برتری ہے جو طالب علمی کے زمانے سے ہی مزاج کا حصہ بنا دی جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس سوچ کے حامل افراد کسی بھی سوال کو گوارا کرنے سے رہے۔ یہی سوچ سوال کرنے والے ہر شخص کو لبرل، بے دین، کمیونسٹ، مغرب کا ایجنٹ، ملحد اور غدار قرار دے دیتی ہے۔ ان کی تربیت اس ڈھنگ سے ہوئی ہی نہیں کہ گفتگو کا دائرہ صرف سوال تک محدود رکھ سکیں بلکہ یہ سب سے پہلے سائل کے دانت چیک کرنا چاہتے ہیں۔ سازشی تھیوری ڈھونڈنا تو خیر ہمارے مزاج کا اٹوٹ حصہ قرار پایا ہے۔ کسی بھی سوال کو ہم سوال کے بجائے سازش سمجھ لیتے ہیں۔

اس جذبے کے حامل افراد یہ مان کر چلتے ہیں کہ جو کوئی بھی سوال کر رہا ہے وہ بہرحال بدنیت ہے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس سوال کا مقصد جستجو کی تسکین نہیں بلکہ دشمن کے کسی بڑے منصوبے کی تکمیل ہے۔ یہی وجہہ ہے کہ آپ کتنی ہی سنجیدہ اور مدلل بحث کیوں نہ کر لیں مذہبی طبقے کی طرف سے جواب میں یہی فرمایا جاتا ہے کہ ہم تمہارے اس سوال کی منشا خوب سمجھتے ہیں۔ ہمارے مذہبی طبقے کے ایک حصے کی مصیبت یہ ہے کہ وہ دین اور تعبیر دین میں تمیز نہیں کر پاتے۔ مثال کے طور پر پچھلے دنوں ایک فتویٰ سامنے آیا جس میں فرمایا گیا کہ عید کے دن گلے ملنا جائز نہیں ہے۔ اب اگر آپ اس فتوے پر تنقید کرتے ہوئے کچھ لکھیں یا بولیں گے تو فوراً کہا جائے گا کہ یہ شخص اسلام پر سوال کھڑے کر رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک خطرناک الزام ہے اس لئے آپ خاموش ہو جاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ فتویٰ دین نہیں بلکہ تعبیر دین ہے۔
اسلام ایک تصور ہے جس کی تفصیلات اس کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن اور سنت میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ بذات خود دین نہیں بلکہ اس دین کی تعبیر ہے۔ یہ تعبیر کسی فقیہ یا مفتی کے اجتہاد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص تصور اسلام یا قرآن اور سنت پر سوال کھڑے کرے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص دین پر سوال کھڑے کر رہا ہے لیکن جب کسی فتوے پر سوال کھڑا کیا جائے تو وہ تنقید دین پر نہیں بلکہ اس کی اس مخصوص تعبیر پر ہوگی۔

دین کی تعبیر کوئی مستقل امر نہیں ہے بلکہ مختلف فقہا، علمائی اور مفتیان نے جو ایک ہی معاملے میں واضح فرق والی تعبیرات کی ہیں اس لئے تعبیر دین پر ہونے والے کسی صحتمند سوال پر غور کر لینے میں کوئی خاص مضائقہ نہیں ہے۔اسی بات کو اور آسانی سے سمجھنے کے لئے ایک مثال کا سہارا لے لیتے ہیں۔ برسوں پہلے دہلی میں پریہ درشنی مٹو نامی ایک لڑکی کو ایک پولیس افسر کے بیٹے نے ریپ کے بعد قتل کر دیا۔ معاملہ ٹرائل کورٹ میں پہنچا جہاں جج نے ملزم کو بری کر دیا۔ اس فیصلے پر لوگوں نے خوب تنقید کی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے جن شواہد پر غور کرنے کے بعد ملزم کو بری کر دیا تھا انہیں ثبوتوں کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی۔
اب ذرا ٹھہر کر بتائیے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر کی گئی تنقید کو کیا بھارت کے قانون پر تنقید مانا جا سکتا ہے؟ کیا کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو غلط بتانے والوں کو قانون کی توہین کا مرتکب قرار دے دے؟ یقینا ایسا نہیں ہوگا۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ تنقید قانون پر نہیں بلکہ جج کے ذریعہ کی گئی قانون کی غلط تعبیر اور تفہیم پر تھی۔ بالکل یہی معاملہ کسی فتوے یا دیگر دینی تعبیرات کا بھی ہے۔

ان پر کھڑے کیے جانے والے سوال دین کے بنیادی متن کی غلط تفہیم اور تعبیر کے خلاف کیا جانے والا احتجاج ہے۔ اسے اصلِ دین پر تنقید کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
بہت سے ملکوں میں دیکھا گیا ہے کہ اگر وہاں کی حکومت پر تنقید کی جائے تو اسے ملک کے خلاف اقدام قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک مخصوص ذہنیت کا ہتھکنڈہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ حکومت پر کی گئی تنقید اور ملک کی مخالفت دو بالکل الگ باتیں ہیں لیکن کسی بھی سوال سے بچنے کے لئے بڑی ہی چالاکی سے ملک اور حکومت کو گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔ بالکل یہی چالاکی ہمارے مذہبی طبقے میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ وہاں بھی دین کی تعبیر اور تفہیم پر کیے جانے والے سوال کو باطل کرنے کے لئے دین کو ڈھال بنا لیا جاتا ہے۔
ہمارے مذہبی طبقے کو یہ بنیادی بات سمجھنی ہوگی کہ خالق کا بنایا ہوا یہ انسانی وجود اپنے کچھ خصائص رکھتا ہے۔ تجسس انسانی وجود کا لازمی حصہ ہے اور سوال اسی تجسس کا اظہار ہے۔ آپ مجھے ڈرا کر یا بہلا کر سوال کرنے سے روک سکتے ہیں، میرے سوال کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر میری حیثیت مشکوک کر سکتے ہیں، میرے سوال کو بے وقعت جان کر مجھے دھتکار سکتے ہیں لیکن میرے اس تجسس کا کیا جو میری نفسیات میں شامل ہے؟ جاوید احمد غامدی نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مذہب کو سب سے زیادہ نقصان سوالوں پر پہرہ بٹھانے والوں نے پہنچایا ہے۔