بھارتی انتخابات کے آخری دنوں میں بدلتے- مناظر نذیر ناجی

بھارت کے حالیہ انتخابات میں جو نتائج سامنے دکھائی دے رہے ہیں؛اگر صورت ِ حال وہی رہی ‘ تو بی جے پی کی جیت زیادہ دُور نہیں؛ اگرمسلمانوں نے باہمی تفرقہ ترک نہ کیا تو ہندوئوں کے '' منتشر گروہ‘‘ کامیابی کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ مودی نے آخری لمحے میں ہندوازم کا تعصب بڑھا کر ہوا کا رخ بدلنے کے امکانات پیدا کر دئیے ۔ چند روز پہلے تک ایسی صورت ِحال نہ تھی‘ جیسی ہو گئی ہے۔
انتخابی نتائج نزدیک آنے پر نریندر مودی نے شدت پسندانہ رجحانات کو فروغ دے کر‘جذباتیت اور انتہا پسندی میں شدت لا کر صورت ِحال بدلنے کے امکانات پیدا کر دئیے۔ کوئی کہتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تین سو سیٹیں جیتے گی۔ کسی کا اندازہ ہے کہ 250 اور کوئی200 نشستوں کی پیش گوئی کر رہا ہے۔ کانگرس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ 180کے قریب نشستیں حاصل کر پائے گی۔ ممبئی فسادات کے وقت بھی کانگرس اقتدار پر براجمان تھی‘ مگر اس نے فسادات کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ مسلمانوں نے کانگرس کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور کانگرس یوپی میں آج تک اقتدار حاصل نہیں کر سکی۔ شیوپال سنگھ نے اپنے چالیس امیدوار کھڑے کئے‘اس سے بی جے پی کو فائدہ ہو گا۔

اگر کانگرس ‘ بی جے پی کو شکست دینا چاہتی ‘تو وہ یو پی میں اتحاد اور عام آدمی پارٹی کی بات مان لیتی‘ مگر اس نے دونوں جگہ پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ووٹ تقسیم ہو گئے۔ دِلّی میں یہ طے ہوا تھا کہ عام آدمی پارٹی چار سیٹیں لے گی اور کانگرس تین ‘مگر عین وقت پر کانگرس نے انکار کر دیا‘ جس کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہوگا۔کانگرس میں دُور اندیش موجود نہیں اور جو اراکین ہیں‘ ان کی نگاہیں صرف اور صرف اقتدار پر مرکوز ہیں۔ یہی حال تمام سیاست دانوں کا ہے ۔ 2014ء کے الیکشن میں بی جے پی نے282سیٹیں جیتیں اور اس کی حلیف جماعتوں نے 54نشستیں حاصل کیں۔ کانگر س قابل ِذکر کارکردگی نہ دکھا سکی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس جیت کے لئے کانگرس کا غرور‘ خود اعتمادی‘ انا‘ زمینی حقائق سے نا واقفیت‘ کرپشن اور مودی کے وعدے‘ سب ذمہ دار تھے اور ایک بات عیاں ہو گئی کہ سیاسی شعور رکھنے والے عوام بھی مودی کے جھوٹے وعدوں میں آسانی سے پھنس گئے۔
ساتویں لوک سبھا انتخابات1980-1984ء میں مسلمانوں کی تعداد49تھی‘ جبکہ16ویں لوک سبھا الیکشن یعنی 2014ء میں یہ تعداد سب سے کم ہو کر 23رہ گئی۔ ریاستی اسمبلیوں میں بھی یہ تعداد کم ہوتی چلی گئی۔2017ء کے یوپی الیکشن میں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا اور کہا کہ مسلمانوں کا کوئی سیاسی وژن نہیں۔ سیکولر پارٹیوں اور مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہونے کے باعث‘ بی جے پی نے403ممبروں والی یو پی اسمبلی میں 312سیٹیں جیت لیں۔تمام سیاسی پارٹیوں نے ان منتشر اور بغیر لیڈر کے مسلمانوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور اس کا تدارک کیسے ہوسکتا ہے؟ اس پر غور وفکرکرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو ہر میدان میں دبایا جا رہا ہے۔ مسلم سیاست دانوں اور مسلم اداروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس وقت آواز اٹھاتے‘ مگر سب سوتے رہے۔ لوہا گرم تھا او ایک تھاپ کی ضرورت تھی ‘مگر سب گہری نیند کے مزے لیتے رہے اور اب ہزاروں تھاپوں سے بھی کچھ نہیں ہو رہا ۔

96لوک سبھا حلقوں میں مسلمانوں کی نمائندگی بیس فیصدہے۔ بہار میں نو‘ کیرالہ اور آسام میں نو‘ مہاراشٹر میں پانچ‘کشمیر میں چھ‘ مغربی بنگال میں بیس اور یوپی میں مسلمانوں کی اٹھائیس نشستیں ہیں‘مگر افسوس صد افسوس‘ آپس میں اتحاد نہ ہونے کی و جہ سے مسلمانوں کی حالت بہت پتلی ہے اور اس کا فائدہ ہمیشہ ہندو توا کا پرچار کرنے والے اٹھاتے چلے آرہے ہیں۔13حلقے ایسے بھی ہیں ‘ جہاں مسلمانوں کی آبادی چالیس فیصد ہے۔ 218حلقوں میں مسلمانوں کی آبادی 10 فیصد ہے اور اگر یہ دس فیصد متحدہو کر ووٹ ڈالیں تو اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔1999ء میں مسلمانوں کا ووٹنگ فیصد67 تھا ‘جبکہ پورے بھارت کا و و ٹنگ 60فیصد ۔2004ء میں مسلمان46فیصد تھے ‘جبکہ پورے بھارت کو 58 فیصد اور 2014ء میں 55فیصد‘ جبکہ پورے بھارت کا58فیصد تھا۔2019ء میں مسلمان 52 فیصد کے قریب ہو گئے ‘جبکہ تمام علمائے کرام اور دانشوروں کی کوشش تھی کہ ووٹنگ فیصدبڑھ کر نوے ہو جائے۔

اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ مسلمان کس معیار کے نمائندے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں بھیج رہے ہیں؟ اور کیا وہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں؟1947ء سے دیکھیں تو اب تک راجیہ سبھا میں مسلمانوں کی تعداد10فیصد رہی‘ جبکہ لوک سبھا میں صرف پانچ فیصد۔ کانگرس نے بھی اس الیکشن میں مسلمانوں کو نظر انداز کر دیا اور کھلے عام کہتی رہی کہ مسلمان کانگرس کو چھوڑکر نہیں جا سکتے‘ کیونکہ ان کے پاس کانگر س کا کوئی متبادل نہیں۔مشاہدہ یہ بھی بتارہا ہے کہ پارٹیوں میں موجود مسلما ن سیاست دان‘مسائل اٹھانے سے کتراتے ہیں ‘ کیونکہ ان کا مقصد وزیر بننا ہوتا ہے یا کوئی اعلیٰ عہدہ حاصل کرنا۔ ایسے میں اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ کیا ہم ایسی خدمت غیر مسلم سیاست دانوں کو جتوا کر لے سکتے ہیں؟سچ یہ بھی ہے کہ جب غیر مسلم‘ مسلمانوں کے مسائل پر آوازاٹھاتے ہیں‘ تو تمام ممبروں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔
قیاس یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی‘ دو سو سے کم سیٹیں حاصل کرے گی اور کانگرس 180کے لگ بھگ نشستیں جیتے گی۔اگر ایسا ہوا تو مستقبل کی سیاست کافی حد تک بدلی نظر آئے گی۔