قصاب، قصائی یا مسیحا - ڈاکٹر عذیر سوریا

بلڈ کینسر کی ایک قسم ایسی ہے کہ ہمارے یہاں مریض علاج کے باوجود بھی اکثر ایک سال سے کم وقت ہی نکال پاتے ہیں ۔ ایک بنیادی خون کے ٹیسٹ سے شبہ پڑتا ہے، پھر ہڈیوں سے گودا نکال کر اس کا ٹیسٹ کر کے تشخیص فائنل کرتے ہیں۔

وہ چند سیکنڈ جن میں مریض کا کوئی قریبی رشتہ دار (باپ، بھائی، بہن، ماں، بیوی) ہمارے ہاتھوں میں رپورٹ تھما کر ہمارے “فیصلے” کا منتظر ہوتا ہے شاید اس کی زندگی کی مشکل ترین گھڑیاں ہوتی ہیں۔ پریشانی، التجا، دعا، تھکاوٹ، ٹوٹ پھوٹ سب کچھ ایک ساتھ چہرے پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔ ہمارے (ڈاکٹرز کے) لیے بھی یہ اہم ترین وقت ہوتا ہے۔ ایک نظر رپورٹ پر ڈال کر پتا تو چل ہی جاتا ہے کہ یہ موت کا پروانہ ہے۔ مگر اصل حوصلے اور حکمت کا کام اور مشکل ترین فیصلے ہم نے انہی چند سیکنڈز میں لینے ہوتے ہیں: سامنے بیٹھے شخص کو“کتنا” توڑا جا سکتا ہے؟ یہ خبر کس حد تک اور کتنی جزیئات کے ساتھ سنائیں کہ یہ اسے جھیل بھی جائے اور صحیح سلامت بھی رہے؟ سچ ایک ہی وقت میں سارے کا سارا بول دیں یا ٹکڑوں ٹکڑوں میں موہوم سی امید کی شیرینی کے ساتھ یہ کڑوا زہر اس کے حلق سے اتاریں؟ جب خبر سُن کر یہ ہم سے پوچھے کہ “ڈاکٹر صاحب کیا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ بیماری اس کو چھوڑ جائے اور یہ بالکل ٹھیک زندگی گزارے؟” تو دعا و ایمان کا بھرم کتنا رکھیں؟ کس معجزے کی مثال سے تسلی دیں؟ جھوٹی تسلی دیے بنا کس طرح اتنی امید بنائے رکھیں کہ علاج سے مکمل طور پے بددل ہو کر مریض کو یہ خود موت کے مونہہ (حکیم، پیر، بابے) میں نہ لے جائیں؟ کن الفاظ میں ان سے کہیں کہ اپنے جوان بھائی، بیٹے، یا شوہر کا آخری وقت قریب سمجھیں اور زندگی کے معاملات جو نمٹانے والے ہیں ان کو اس مختصر سی مہلت میں جلد از جلد نمٹائیں۔

پھر ہوتا یوں ہے کہ ہر کوئی اپنی ادا سے ٹوٹتا ہے یہ خبر سُن کے۔ کسی کی آنکھیں ویران ہو جاتی ہیں جیسے کسی جنگل کو آگ نے مکمل طور پے اجاڑ دیا ہو اور پھر وہاں تیز بارش کے بعد کہیں کہیں سے کسی سلگتی ہوئی لکڑی سے ہلکا سا دھواں اٹھ رہا ہو۔ یہ خاموشی سے سب سنتے ہیں۔ کچھ نہیں بولتے، ہمیں بار بار دہرانا پڑتا ہے صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں یہ حواس تو نہیں کھو بیٹھا/بیٹھی؟

کچھ لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں، اور انہیں دینے کو سوائے تھپکی یا چند سطحی تسلی اور حوصلے کے لفظوں کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ چند بڑے تحمل سے سن کر موٹے موٹے بے آواز آنسو ٹپکاتے ہیں، ان کے چہروں پے مستقبل کی فکر کے آثار اتنے گہرے ہوتے ہیں جتنے کسی پراچین کھنڈر پے ماضی کے آثار کندہ ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے مریض کے بعد اس کی ذمہ داریاں کاندھوں پر اٹھانا ہوتی ہیں۔

پتھر توڑنے میں زور تو بلاشبہ زیادہ لگتا ہے، مگر انسانوں کو توڑنا شاید مشکل ترین کام ہے۔ کیونکہ توڑتے ہوئے بہت خیال رکھنا پڑتا ہے کہ الفاظ کے ہتھوڑے ایسے زاویے پر پڑیں کہ انسان بس اتنا ٹوٹے جتنا ضروری ہے، کہیں پاش پاش نہ ہو جائے۔ روز انسانوں کو توڑنے والے خود جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں یہ کسی کو احساس نہیں ہوتا۔ معاشرے کے لیے ہم لالچی، قصائی اور لٹیرے ہی ہیں۔ مگر ان القابات سے نوازنے والے صرف ایک دن آ کر ہماری جگہ لے کر دکھائیں تو ہم مان لیں کہ یہ سچے ہیں اور ہم جھوٹے۔

اگر عزت دینے کا یارا نہیں تو کم از کم دشنام طرازی، الزام تراشی اور سب پر لٹیرے/قصائی ہونے کے فتوے بھی مت لگائیں۔ ہم لوگوں نے اپنی جسمانی اور نفسیاتی صحت داؤ پر لگا کر آپ کی زندگی اور صحت کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہے، ہمارا نہیں تو اپنا ہی خیال کیجیے۔ گرے ہوئے مورال کے ساتھ، مسائل میں گھرے ہوئے، غیر محفوظ ماحول میں نہ ہم اپنی کوئی خدمت کر سکتے ہیں نہ آپ کی۔